English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کوئی مقدس گائے نہیں،حکم کریں کارروائی کریں گے،وزیراعظم کا عدالت عظمیٰ میں جواب

وزیراعظم عمران خان کا کانوائے عدالت عظمیٰ کے احاطے میں داخل ہورہا ہے‘ چھوٹی تصویر میں پیشی کے بعدوفاقی وزراء شیخ رشید اور فواد چودھری میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

اسلام آباد( آن لائن +آئی این پی + مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ،عدالت عظمیٰ حکم دے ہم کارروائی کریں گے۔ وزیر اعظم آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) حملہ کیس میں طلب کرنے پر عدالت عظمیٰ پہنچے جہاں انہوں نے واقعے کے ذمے داروں کے تعین کی یقین دہانی کرائی ۔چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس قاضی محمد امین احمد اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3رکنی بینچ نے وزیراعظم کوبدھ کی صبح 10 بجے کے قریب فوری طور پر طلب کیا تھا۔وزیر اعظم تقریباً2گھنٹے بعد کمرہ عدالت نمبر 1 میں پہنچے جہاں وکلا، سیکورٹی اہلکاروں اور اے پی ایس حملے کے متاثرین کے اہل خانہ کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید، وزیر اطلاعات فواد چودھری سمیت چند وفاقی وزرا بھی عدالت عظمیٰ میں موجود تھے۔کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہونے سے قبل وزیراعظم عمران خان فواد چودھری سے گفتگو کرتے رہے،جب سماعت شروع ہوئی توچیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب، آپ آئیں جس پر وزیر اعظم روسٹرم پر پہنچے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ والدین کو تسلی کرانا ضروری ہے، والدین چاہتے ہیں کہ اس وقت کے حکام بالا کے خلاف کارروائی ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں۔چیف جسٹس نے عمران خان سے استفسار کیا کہ سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے کیا کر رہے ہیں؟جس پر وزیر اعظم نے عدالت کو بتایا کہ جو ممکنہ اقدامات ہوسکتے تھے ہم نے کیے، ہماری اس وقت صوبے میں حکومت تھی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق کوئی خصوصی اقدام نہیں اٹھائے گئے، حکومت نے کوئی اہم اقدام اٹھائے ہیں تو عدالت کو بتایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان ہر پاکستانی کی جان و مال کا تحفظ دیتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جب یہ واقعہ ہوا تو میں فوراً پشاور پہنچا اور والدین سے ملاقات کی تھی۔چیف جسٹس نے دوران سماعت وزیراعظم سے استفسار کیا کہ ’ریاست نے بچوں کے والدین کو انصاف دلانے کے لیے کیا کیا؟‘، جس پر عمران خان نے بتایا کہ ’میں تو اس وقت حکومت میں نہیں تھا۔جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ ’میڈیا رپورٹس کے مطابق آپ تو ان لوگوں سے مذاکرات کررہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ جج صاحب ایک منٹ خاموش ہوجائیں، مجھے بات کرنے کا موقع دیں، میں ایک ایک کرکے وضاحت کرتا ہوں۔عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ بچوں کے والدین کو اللہ صبر دے گا، ہم معاوضہ دینے کے علاوہ اور کیا کر سکتے تھے، میں پہلے بھی ان سے ملا تھا، اب بھی ان سے ملوں گا، یہ پتا لگائیں کہ 80 ہزار افراد کس وجہ سے مارے گئے؟ یہ بھی پتا لگائیں کہ 480 ڈرون حملوں کا ذمے دار کون ہے؟چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سب پتا لگانا آپ کا کام ہے، آپ وزیراعظم ہیں، بطور وزیراعظم ان سارے سوالوں کے جواب آپ کے پاس ہونے چاہییں۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اے پی ایس لواحقین کا دکھ ہے تو 80 ہزار لوگوں کا بھی ہمیں دکھ ہے،آپ اے پی ایس معاملے پر اعلیٰ سطح تحقیقاتی کمیشن بنادیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں آپ کے پالیسی فیصلوں سے کوئی سروکار نہیں، ہمیں یہ جاننا ہے کہ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی مجرموں کا سراغ کیوں نہیں لگایا جا سکا۔چیف جسٹس نے کہا کہ 7 سال سے کسی بڑے کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی، اب آپ با اختیار وزیر اعظم ہیں۔جسٹس قاضی امین نے کہا کہ مظلوم کا ساتھ تو یہی ہے کہ ظالم کے خلاف کارروائی ہو، کیا ہم پھر مذاکرات کرکے سرنڈر کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ شہدا کے والدین کو سننے والا کوئی نہیں ہے، سپاہی سے پہلے ذمے دارن اعلیٰ افسران تھے، فوج کے اس وقت کے جو کرتا دھرتا تھے، مراعات کے ساتھ ریٹائرڈ ہوگئے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ طالبان حکومت آنے کے بعد داعش، ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسند پاکستان آگئے ہیں، اور ڈھائی لاکھ لوگ پاکستان کے راستے باہر بھی گئے ہیں، دہشت گرد ان ڈھائی لاکھ لوگوں کی آڑ میں پاکستان میں روپوش ہوئے ہیں۔جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ماضی میں جانے کی ضرورت نہیں، یہ بتائیں کہ سانحہ کے بعد اب تک کیا اقدامات اٹھائے ۔ عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ ’ہم نے سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا، ہم جنگ اس لیے جیتے کہ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی رہی،ہم نے نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈینشن کمیٹی بنائی جو معاملہ کو دیکھ رہی ہے، والدین نے جو نام دیے ان میں سے کوئی مقدس گائے نہیں، عدالت عظمیٰ حکم دے ہم ایکشن لیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ میں پشاور پہنچا اور لواحقین سے ملا، ماں باپ سمیت پوری قوم صدے میں تھی، واضح کر دوں کہ جو ازالہ کر سکتے تھے کیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ان کو ازالہ نہیں اپنے بچے چاہیے تھے‘ اور استفسار کیا کہ آخری آرڈر میں ہم نے باقاعدہ نام دیے تھے ،ان کا کیا ہوا،آپ اقتدار میں ہیں، حکومت بھی آپ کی ہے، آپ نے کیا کیا ؟ ان ہی مجرموں کو آپ مذاکرات کی میز پر لے آئے۔جسٹس قاضی امین نے دوران سماعت سوال کیا کہ ’کیا ہم دوبارہ ان کے سامنے سرینڈر کر رہے ہیں؟بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے سانحہ اے پی ایس متاثرین کے ساتھ مل کر ذمے دارران کے تعین کا حکم دے دیا اور وزیراعظم کو 4ہفتوں کے اندر اقدامات کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔وزیر اعظم کی آمد سے قبل عدالت عظمیٰ کے اطراف سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد قاضی جمیل الرحمن بھی عدالت عظمیٰ پہنچے تھے۔بدھ کو سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا وزیراعظم نے عدالتی حکم پڑھا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے انہیں بتایا کہ وزیراعظم کو عدالتی حکم نہیں بھیجا تھا انہیں اس سے آگاہ کروں گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ سنجیدگی کا عالم ہے، وزیراعظم کو بلائیں ان سے خود بات کریں گے، ایسے نہیں چلے گا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سابق آرمی چیف اور دیگر ذمے داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا؟ جب اپنے شہریوں کے تحفظ کی بات آتی ہے تو انٹیلی جنس (ایجنسیاں) کہاں غائب ہو جاتی ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ انکوائری رپورٹ میں سابق آرمی چیف اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل سے متعلق کچھ نہیں ملا۔اس پر چیف جسٹس احمد نے کہاکہ ملک میں اتنا بڑا انٹیلی جنس سسٹم ہے، اس پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، ایک دعویٰ یہ بھی ہے کہ ہم دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی ہیں، انٹیلی جنس پر اتنا خرچ کیا جا رہا ہے لیکن نتائج صفر ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اداروں کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کا ردعمل ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سب سے آسان اور حساس ترین ہدف بچے تھے۔دوران سماعت عدالت میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کا بھی تذکرہ ہوا اور جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ’اطلاعات ہیں کہ ریاست کسی گروہ سے مذاکرات کررہی ہے، کیا اصل ملزمان تک پہنچنا اور پکڑنا ریاست کا کام نہیں؟چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ بچوں کو اسکولوں میں مرنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتے، یہاں چوکیدار اور سپاہیوں کے خلاف کارروائی کر دی گئی،اصل میں تو کارروائی اوپر سے شروع ہونی چاہیے تھی مگر اوپر والے تنخواہیں اور مراعات لے کر چلتے بنے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ دہشت گردوں کو اندر سے سپورٹ نہ ملی ہو، اے پی ایس واقعہ سیکورٹی کی ناکامی تھی۔عدالت نے 20 اکتوبر کے حکم نامے پر عملدرآمد کی ہدایت کی جس پر وزیراعظم نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی۔بعد ازاں کیس کی مزید سماعت 4ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے