اسلام آباد (رپورٹ: میاں منیر احمد) عاملی منظر نامے پر نظر ڈالی جائے تو اس وقت افغانستان کی وجہ سے ایران نہیں بلکہ پاکستان بڑی قوتوں کا نشانہ بنا ہوا ہے ان قوتوں کو دکھ ہے کہ پاکستان نے انہیں وہ مدد فراہم نہیں جس کی انہیں توقع تھی۔ ان خیالات کا اظہار سابق سفیر ڈاکٹر عبد الباسط، مسلم لیگ (ض) پنجاب کے صدر میاں ساجد حسین، نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر شمس الرحمن سواتی، پاکستان پریس کونسل کے سابق چیئرمین، عدالت عظمیٰ کے سینئر قانون دان ڈاکٹر صلاح الدین مینگل، مسلم کانفرنس آزاد جموں و کشمیر کے رہنما سردار محمد عثمان خان، پاکستان ہاکی کے مایہ ناز کھلاڑی اولمپیئن رائو سلیم ناظم، پاکستان مسلم لیگ (ج) کے ایڈیشنل سیکرٹری اشرف خان ، تجزیہ نگار اور سفارتی امور کے ماہر اعجاز احمد، دانشور سہیل مہدی، کالم نگار مرزا عبد القدوس، جماعت اسلامی اسلام آباد کے نائب امیر ملک عبد العزیز، تاجر رہنما عاطف حسنین شیخ ،پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما انجینئر افتخار چودھری اور تجزیہ کار فیصل حکیم نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’کیا اسرائیل ایران پر حملہ کرسکتا ہے ؟ ‘‘ ڈاکٹر عبد الباسط نے کہا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کا کوئی ماحول نظر نہیں آرہا۔ ساجد حسین نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطین پر شدید بم باری کی ہے اور اسے امریکا کی پشت پناہی حاصل ہے‘ اب بھی وہ امریکی شہہ پر کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ ممکن نہیں ہے لیکن اسرائیل سے کچھ بعید بھی نہیں ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اسرائیل اور ایران کی کشمکش حقیقی ہے یا نہیں۔ افتخار چودھری نے کہا کہ ایران ، اسرائیل جنگ نہیں ہوگی‘ مجھے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا ڈر ہے‘ اسرائیل کسی بھی پڑوسی ملک کی مدد سے حملہ کر سکتا ہے‘ہمیں اپنے اثاثوں کی فکر کرنی چاہیے‘ اسرائیل نے عراق کا بیڑہ غرق کرنا تھا کر دیا‘ جنرل حمید گل کا مشہور جملہ یاد کریں‘ افغانستان ٹھکانہ ہے ایران بہانہ اور پاکستان نامی ہے‘ یہ بات جنرل صاحب نے سالوں پہلے میرے گھر میں کی تھی اور مجھے پورا یقین ہے کہ ایران کبھی بھی نشانہ نہیں بنے گا وہ بہانہ تھا اور بہانہ ہے۔ صلاح الدین مینگل نے کہا کہ اسرائیل کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کو تباہ کیا جائے وہ اس سے خطرہ محسوس کرتا ہے‘ امریکا کی شہہ پر حملہ کرسکتا ہے‘ ہماری خارجہ پالیسی میں خلاہے ہم چونکہ عربوں کے قریب ہیں لہٰذا ایران ہمارے قریب نہیں ہے بلکہ بھارت پر انحصار زیادہ کرتا ہے‘ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کی سمت درست کرنی چاہیے‘ عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کر رہے ہیں اور ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہے‘ اسرائیل کے بارے میں ہمارا موقف تو عربوں کی وجہ سے تھا‘ ہمیں اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔ محمد عثمان خان نے کہا کہ عرب ممالک تقسیم ہیں اور اسرائیل کے ساتھ چل رہے ہیں بلکہ اب عرب اور اسرائیلی کزن ہیں‘ یو اے ای تو سری نگر میں قونصلیٹ کھولنے جا رہا ہے ‘عرب دنیا نہیں چاہتی کہ ایران کے پاس ایٹمی طاقت ہو‘ عرب اور عجم کا ہزاروں سال کا جھگڑا ہے‘ سعودی عرب، بحرین اور یو اے ای نہیں چاہتے کہ عرب کو عجم سے کوئی خطرہ رہے‘ میں سمجھتا ہوں کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرسکتا ہے۔رائو سلیم ناظم نے کہا کہ پاکستان امریکا اور دیگر بڑی قوتوں کا نشانہ ہے انہیں دکھ ہے کہ افغانستان میں پاکستان نے امریکا اور مغرب کی اس طرح مدد نہیں کی جس طرح وہ چاہ رہے تھے اسی لیے پنیٹاگان میں امریکیوں نے سر جوڑے ہوئے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ کیا کیا جائے‘ اگر اسرائیل نے حملے کی حماقت کی تو اسے ایران کی جانب سے شدید رد عمل ملے گا‘ ایران نے اپنے میزائیل نصب کر رکھے ہیں اگر امریکا نے اسے شہہ دے دی تو ضرور اسرائیل یہ کام کرے گا۔ اشرف خان نے کہا کہ مسلمان تقسیم ہیں اور براعظم ایشیا کے لیے امریکا کی پالیسی پر اس کی کٹھ پتلیاں اچھی طرح عمل درآمد کر رہی ہیں لہٰذا اسرائیل کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے جبکہ ایران میں بھی امریکی حکمت عملی کے مطابق حکومت چل رہی ہے۔اعجاز احمد نے کہا کہ ایسا ممکن دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ اس وقت ایران مغرب کے ساتھ ایٹمی معاملات پر بات چیت کر رہا ہے اور بہت پیش رفت بھی ہوئی ہے ‘ ایک ایسے وقت میں کہ جب ایران مغربی دنیا کے ساتھ ڈائیلاگ کر رہا ہے تو اسرائیل کے حملے کی وجہ نظر نہیں آتی‘اس وقت مغربی دنیا بھی جنگ نہیں چاہتی اور اس سے گریز برتا جا رہا ہے‘ اسرائیل سے اس طرح کے پاگل پن کی توقع نہیں ہے ۔ سہیل مہدی نے کہا کہ ایران اسرائیل جنگ کیا یہ ہمارا مسئلہ ہے؟ ہمارا مسئلہ تو یہ ہے کہ جس تنظیم نے ہزاروں سویلین اور فوجی جوان شہید کرد یے اس کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے‘ اس تنظیم کے بارے میں یہی بتایا گیا تھا کہ اسے را سے پیسے ملتے ہیں اور وہ پاکستان میںکارروائی کرتی ہے لیکن اچانک اس تنظیم پر پابندی ختم کردی گئی‘ ہمارے ملکی میڈیا کو اپنے ملکی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ مرزا عبد القدوس نے کہا کہ ایران اور اسرائیل اس وقت سائبر وار کے حوالے سے حالت جنگ میں ہیں‘ اللہ نہ کرے کہ جنگ کوئی اور صورت اختیار کر جائے لیکن اس خدشے کو رد بھی نہیں کیا جاسکتا‘ ایران کی سمندری حدود کے قریب نامعلوم جنگی طیاروں کی پروازیں خطرے کی گھنٹی ہے‘ گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں ایران میں ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر امدادی قیمت (سبسڈی) پر پیٹرول فراہمی بند ہوگئی تھی جس کی وجہ بیکرز کا پیٹرولیم سے متعلق سافٹ ویئر پر حملہ تھا ‘ بظاہر اس کا مقصد ایران میں افراتفری پیدا کرنا اور لوگوں کو اشتعال دلانا تھا‘ایک ہفتے بعد یہ خود کار نظام بحال ہوا جس کے بعد ایران کے وزیر داخلہ احمد وحیدی نے اپنے ایک بیان میں اس سائبر حملے کو دشمن کی تازہ سازش کا پہلا وار قرار دیا تھا جس کے بعد مبینہ طور پر ایران کے ہیکرز کے ایک گروپ نے اسرائیل کی حساس اور اہم ویب سائٹ پر حملہ آور ہو کر کچھ مواد چوری کیا یا ان کو مفلوج کیا‘ ٹیکنالوجی کی اس دنیا میں اب سائبر وار ممالک کی معیشت،امن وامان وغیرہ کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ ہے جو ایران اور اسرائیل میں جاری ہے اس صورتحال میں اسرائیل جو ہمیشہ سے ایران کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا رہا ہے اور ایران بھی اسے نیست و نابود کرنے کے دعوے کرتا آرہا ہے‘ کچھ بعید نہیں کہ اسرائیل فضائی حملے کی کارروائی بھی کر گزرے۔ عاطف حسنین شیخ نے کہا کہ اسرائیل میں جرأت نہیں ہے لیکن اگر وہ ایسا کرتا ہے اور مسلم دنیا خاموش رہتی ہے تو پھر یہ ایک المیہ ہوگا۔ ملک عبد العزیز نے کہا کہ اسرائیل میں ایران پر حملے کی جرأت نہیں ہے‘ اگر اس نے حملہ کرنا ہوتا تو بہت پہلے کرچکا ہوتا۔فیصل حکیم نے کہا کہ اسرائیل ایسا نہیں کرے گا کیونکہ ایسا کرنے سے اسرائیل کے لیے خطے میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں‘اسرائیل مخالف تنظیمیں سرگرم ہو سکتی ہیں‘اس کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات میں امریکا بھی کسی نئے ایڈونچر سے فی الوقت گریز کرے گا‘ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ایران مخالف تنظیموں اور ملکوں کو خفیہ فنانسنگ کے ذریعے متحرک کیا جائے تاکہ امن و امان کے حوالے سے مسائل پیدا کیے جا سکیں۔

