English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان میں ہر چھٹا شخص ذیابیطس کا شکار، تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ

القمر

ڈاؤیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسرمحمد سعید قریشی نے کہا ہے کہ “پاکستان میں ہر چھٹا شخص ذیابیطس کے مرض کے نرغے میں ہے ، جنوبی ایشیا میں شوگر وبائی مرض کی شکل اختیار کر چکی ہے اسکی وجہ محض اس خطے کے لوگوں کا طرزِزندگی ہے جسے ہر صورت تبدیل کر نا ہوگا، طبی ماہرکے طور پر ہمیں لوگوں کو قائل کرنا ہوگا کہ آرام طلبی اور سہل پسندی سے زندگی گزارنے کے طریقے چھوڑ کر ورزش پر توجہ دیں اورکھانے پینے کی عادات میں سادگی اختیارکریں بس یہی طریقہ ہے شوگر کے مرض کو وبا کے طور پر پھیلنے سے روکنے کے لئے بلکہ اس طریقے سے دل کے امراض سے بھی بچا جاسکتا ہے” یہ باتیں انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی کے اسکول آف پبلک ہیلتھ کے زیراہتمام پرائمری کیئر ڈایابیٹس ایسوسی ایشن اور دوا ساز ادارے مارٹن ڈاؤکے اشتراک سے مقامی ہوٹل میں”رکھو اپنا خیال، ذیابیطس سے پہلے” کے عنوان سے منعقدہ آگہی سیشن سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی ، آگہی سیشن سے ڈاکٹر زمان شیخ ،اسکول آف پبلک ہیلتھ کے پرنسپل ڈاکٹر کاشف شفیق،ڈاکٹر شبین ناز، ڈاکٹر محسنہ ابراہیم، ڈاکٹر عاصمہ خان، ڈاکٹر سمیرا نسیم، ڈاکٹر شکیل، مس نادیہ، ڈاکٹرفرید الدین، ڈاکٹر ریاست علی خان، ڈاکٹر اقبال بٹاویا اور دیگر نے خطاب کیا، پروفیسر محمد سعید قریشی نے مزید کہا کہ دواؤں کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب مرض لاحق ہو جائے لیکن مرض سے بچاؤکے لئے ان طریقوں پر عمل کرنا لازمی ہے جو مرض سے محفوظ رکھ سکیں ۔ ڈاؤ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے پرنسپل پروفیسر کاشف شفیق نے کہاکہ پاکستان میں پندرہ فیصد سے زائد آبادی پری ڈائیبیٹک(شوگر کی بیماری کے خطرےسے دوچار ) ہے جن میں سے پانچ تا دس فیصد افراد سالانہ اس موذی مرض کا شکار ہوجاتے ہیں پاکستان پری ڈائیبیٹک افراد کی تعداد تینتیس ملین (تین کروڑ تیس لاکھ )ہے اور جس تیزی سے یہ تعداد بڑھ رہی ہے تو محتاط اندازے کے مطابق 2045 تک یہ تعداد بڑھ کرساڑھے چھ کروڑ ہو جائے گی انہوں نے کہاکہ مردوں کے مقابلے میں شوگر کی بیماری میں پاکستانی خواتین زیادہ مبتلا ہیں ملک میں پری ڈائیبیٹک خواتین کی شرح پندرہ اعشاریہ چھ فیصد ہے انہوں نے کہاکہ شوگر ملک کےبعض علاقوں میں بہت تیزی سے پھیل رہی ہے بلوچستان کی آدھی سے زائد آبادی پری ڈائیبیٹک ہے یعنی ساڑھے اکیاون فیصد پروفیسر کاشف شفیق نے کہاکہ،، رکھو اپنا خیال ذیابیطس سے پہلے ،، کابنیادی تصوراسکول آف پبلک ہیلتھ نے پیش کیا ہے جس کے زریعے آگہی پھیلائی جارہی ہے۔کراچی سے اس پروگرام کا آغاز ہوا ہے جو اندرون سندھ کے بعد پورے پاکستان میں پھیلے گا تاکہ شوگر کے مرض کے بارے میں آگہی پھیلائی جائے گی ۔ دیگر مقررین نے کہاکہ پاکستان کے پڑھے لکھے افراد میں بھی صحت کے بارے میں آگہی کم ہے ڈاکٹرز کے پاس دسمبر کے مہینے کے آخر میں اس طرح کے کیسز آتے ہیں دسمبر کا مہینہ رشتے داروں میں شادیاں تھیں اس لیے وزن بڑھ گیا یا فلاں مسئلہ ہوگیا ہے یاپھر کارپوریٹ طبقے سے جو لوگ آتے ہیں ان کی شکایت یہ ہوتی ہے کہ فلاں کانفرنس میں ذرا بد پرہیزی ہوگئی تھی آگہی کی مہمات کے زریعے ہی ہیلتھ لٹریسی میں اضافہ ہوسکتاہے مقررین نے کہاکہ کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی ضروری ہے پاکستان میں غریب سے غریب آدمی بھی کھانے پر کچھ پیسے ضرور خرچ کرتاہے اس لیے ضرورت اس بات کی جتنے پیسوں میں ایک مشروب کی بوتل آتی ہے اتنے ہی یا اس سے کم میں تازہ پھل اور سبزیاں بھی آجاتی ہیں جنہیں ہم صحت مند غذا کہتے ہیں تو پھر کیوں ہم غیر صحت مند کھانوں پر پیسے اور صحت برباد کریں سادہ اور قدرتی غذائیں کھائیں اور مناسب ورزش کریں تو آپ شوگر سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔بعد ازاں شرکا سے کانفرنس کے دوران دی گئی معلومات سے متعلق سوالات کیے گئے اور درست جواب دینے والوں کو انعامات بھی دئیے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے