پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے زیر اہتمام تیسرا دو روزہ قومی زیتون میلے کا انعقاد نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر میں کیا گیا، جس میں اسپین اور دونیزیا کے سفیروں، پاکستان کے چاروں صوبوں،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے زیتون کے کاشتکاروں نے شرکت کی۔
زیتون میلے کے حوالے سے پروگرام میں شرکا کو بتایا گیا کہ پاکستان بین الاقوامی زیتون کونسل سے معاہدہ کرنے جارہا ہے جس سے 10 ہزار لیٹر زیتون کا تیل ایکسپورٹ کیا جائے گا، پروگرام میں زیتون کے اچھے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایوارڈز بھی دیئے گئے۔
ڈائریکٹر زیتون خیر محمد کاکڑ نے کہا کہ وزیراعظم زیتون پر فوکس کر رہے ہیں ہم انٹرنیشنل مارکیٹ میں زیتون کو جلد لیکر آ رہے ہیں ہم زیتون کے پراڈکٹ کو انٹرنیشنل مارکیٹ میں لیکر جائیں گے، حکومت نے زرعی مشنری پر 50 فی صد ڈیوٹی فری کیا ہے، زیتون کا پودا سو سال تک رہتا ہے ۔
ڈائریکٹر زیتون خیر محمد کاکڑ نے کہا کہ پہلی دفعہ پاکستان 10 ہزار لیٹر زیتون کا تیل ایکسپورٹ کرے گا اس حوالے سےجلد انٹرنیشنل زیتون کونسل کے ساتھ معاہدہ ہو جائے گا جس کے بعد ہمیں 10 ایم فل 10 پی ایچ ڈی کی سکالر شپ ملا کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں5 ہزار ایکڑ پر او آئی سی زیتون لگائے گی بلوچستان کی زمین سے اعلیٰ کوالٹی کا زیتون پیدا ہو رہا ہے جس کی کوالٹی دوسرے علاقوں سے بہتر ہے۔
ڈاکٹر ظفر اقبال ڈی جی ایگری کلچر پنجاب نے کہا کہ آج تمام سٹیک ہولڈرز اکھٹے ہیں زیتون کے لیے جو مشنری کی ضرورت ہے وہ بھی لا رہے ہیں جس نے ایک پودا لگایا تھا اس سے فائدا ہوا ہے جس نے جتنا بھی تیل تیار کیا وہ انٹرنیشنل قیمت سے زیادہ قیمت میں فروخت ہو رہا ہے۔

