صوبائی وز یر اوقاف سید سعید الحسن شاہ نے اپنے حلقہ سے آئے وفد سے ملا قات میں کہا ہے کہ خانقاہی نظام کا احیاءوقت کی اہم ضرورت ہے، مساجد اور دربار سوسائٹی کا مرکزی نقطہ اور انسانی فلاح کے بنیادی ادارے سے ہیں جن کا فیضان مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے، فلاحی معاشرے کی تشکیل کے لیے صوفیاءکے افکار و تعلیمات سے روشنی حاصل کی جانی چاہیے۔مذہبی سیاحت کا فروغ ،مزارات کی تزئین وآرائش اور تعمیراتی ورثہ کی بحالی وقت کا اہم تقاضا ہے دنیا میں اسلامی فن تعمیر اپنی انفرادیت اور حُسن کے سبب ممتاز مقام رکھتا ہے، جس کا سب سے حسین اور معتبر حوالہ ہماری مساجد اور مزارات ہیں، جن کو محفوظ کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تشدّ د اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے صوفیاءکی تعلیمات کو اپنانا ہوگا، فلاحی معاشرے کی تشکیل ان کے نقشِ قدم پر چلنے ہی سے ممکن ہے ، ایک دوسرے کو برداشت کرنا اور مفاہمت، مکالمہ اور صلح وامن کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ مذہبی سیاحت کو فروغ، تاریخی مساجد و عمارات اور درباروں کی تزئین و آرائش،بحالی پرزور دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ساٹھ کی دہائی میں محکمہ اوقاف کا قیام عمل میں لا یا گیا تھا، جس کا مقصداملاک کی بہتر دیکھ بھال،حاصل آمدن کو تبلیغ دینئ،مزارات کی تزئین و آرائش کو اسلامی اصولوں کے مطا بق ڈھالا جا سکے ۔ جس کے مقاصد اور مساجد ہماری مقامی آبادی اور معاشرت کا نیو کلیس اور ایک مو ثردینی اور معاشرتی ادارے کے طور پر معروف اور معتبر ہے۔ مسلمانوں کو ان درگاہوں پر جانے سے چوبیس گھنٹے روحانی تسکین پر گامزن ہونے کا حوصلہ ملتا رہتا ہے۔ اسی لئے اسلامی تعمیراتی ورثہ میں عملی و جما لیاتی پہلو وں کا وجود ایک دوسرے پر لا زم و ملزوم ہو گئے ہیں۔تعمیرات کا فن صرف فن ہی نہیں بلکہ اس کی جڑیںاسلامی تعمیرات اندر سے پروان چڑہتی ہیں۔تعمیرات کی دنیا میں اسلامی فن تعمیرات کا الگ اور منفرد تشخص موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان بادشاہوں کے دور کی مزہبی و دیگر شاہی تعمیرات مقامی ورثہ کا قابل فخر حصہ ہیں۔مسلمان بادشاہو ں کر دور کی اسلامی طرذ تعمیرات پر دنیاآج بھی حیران ہے۔اس دور کی تعمیرات میں تزئین آرائش،خطاطی،نقاشی،گل کاری اور جیو میٹری پر خاص تو جہ دی گئی ہے۔ مسلمانوں کو اپنے عہد عروج میں علم حساب اور جیو میٹری پر عبور رہا ہے۔آج بھی مغربی تدریسی اداروں میں ان کی کتابیںان مضامین میں رہنمائی کے اصول سکھاتی ہیں۔ داتا دربار اور بادشاہی مسجدکے احاطہ میں غیر ملکی زائرین کی رہنمائی کے لئے خصوصی ڈیسک کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔محکمہ اوقاف کی تمام اراضی پر شجر کاری متواتر جاری رہے گی جبکہ نا جائز قابضین مافیا کی سر کوبی کے لئے بھی قانونی ہتھکنڈہ استعمال میں لایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام درباروں پرزائرین کو ہر طرح کی سہولیات کی فراہمی کے لئے راﺅنڈ دی کلاک لنگر خانوں ،جدید وضو خانوں اور طہارت خانوں کا قیام شروع کر دیا گیا ہے ۔ خستہ حالی کا شکار درباروں کی تعمیر ومرمت اور تزئین و آرائش کے سلسلہ میں بھی کام کا آغازجاری ہے ۔صوبہ بھر کے تمام درباروں میں زائرین کے لئے شیلٹرز ہومزکے قیام کے لئے بھی عملی اقدامات کا آغازکر دیا گیا ہے۔لاہور میں جدید اور معیاری سیرت و تصوف یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی رہنمائی میں صوبہ بھر کی تمام تاریخی مساجد،درگاہوںاورعمارات کو اصل حالت میں لانے کے سلسلہ میںاقدامات جاری ہیں۔

