English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ہندوتوا نظریہ بھارت سمیت پڑوسی ممالک کے لییے بھی خطر ناک ہے ، سابق سفارتکار و ماہرین خارجہ امور

القمر

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان دنیا کے دیگر امن پسند طاقتور ممالک کے ساتھ مل کر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر موثر عمل درآمد کرائے ورنہ ہندوتوا کا نظریہ ناصرف بھارت کی نظریاتی بنیادوں بلکہ ہمسایہ ممالک کے لیے بھی خطرناک ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق سفارتکاروں اور ماہرین امور خارجہ نے کراچی کونسل آن فارن ریلیشنز (کے سی ایف آر ) کے تحت ’’بھارت زوال کی طرف‘‘ کے موضوع پر ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کونسل کے وائس چیئرمین ایڈمرل ریٹائرڈ خالد میر نے ویبینار کی صدارت کی اور رکن بورڈ آف گورنرز سلیم زمیندار نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ مقررین میں سابق سفارتکار و وفاقی وزیر خارجہ حسین ہارون، سفارتکار عبدالباسط، ڈاکٹر ہما بقائی، بریگیڈیئر ریٹائرڈ طارق خلیل، سی ای او کے سی ایف آر کموڈور ریٹائرڈ سدید ملک شامل تھے۔ حسین ہارون نے کہا کہ ہندوتوا جیسے عناصر
بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتے ہیں۔ تاہم پاکستان کو اپنا کام کرنا چاہیے جو وہ چاہتا ہے،اس کے لیے سیکورٹی کونسل ہی بہترین فورم ہے، بھارت ابھی تک کشمیر میں انتخابی عمل بحال نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر عالمی فورمز بشمول سیکورٹی کونسل میں لے کر جانا چاہیے۔ سفارتکار عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر مستقل مزاجی کا مظاہرہ نہیں کیا، جس سے اس کاز کو نقصان پہنچا ہے۔ بی جے پی نے بھارت میں اقلیتوں کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ مساجد کی شہادت، سانحہ گجرات، حالیہ ظالمانہ قانون سازی جیسے سٹیزن شپ ایکٹ اور مسئلہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے جیسے اقدامات سے عیاں ہے۔ بھارت نے دونوں طرف ایٹمی طاقتیں ہونے کے باوجود بالاکوٹ پر حملہ کرنے کی کوشش کی جو اس کی بہت خطرناک غلطی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بھارت کے شہریوں کو چاہیے کہ اگر وہ بھارت کی ترقی چاہتے ہیں تو انہیں اس سے جان چھڑانی ہو گی۔ مسلمان اور دیگر اقلیتیں اب بھارت میں اپنے اوپر مزید مظالم برداشت نہیں کریں گی۔ بھارت کا یہ رویہ خطے کے امن کے لیے بھی تباہ کن ہے۔ عالمی قوتوں کے بھی اپنے ایجنڈے ہوتے ہیں۔ عبدالباسط نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل خود بھارت کے مفاد میں ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اس مسئلے کا کوئی الگ حل بھی سوچے۔ قبل ازیں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر ہما بقائی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر عالمی برادری نے نہیں بلکہ بھارت نے خود اپنے مفاد میں حل کرنا ہے۔ وہاں صرف مسلمان یا کشمیری ہی نہیں دیگر اقلیتیں خصوصا سکھ، دلیت قومتیں بھی اپنا حق مانگ رہی ہیں تاہم بھارت اور پاکستان دونوں کو مسلح تصادم سے ہر حال میں بچنا چاہیے۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ طارق خلیل نے کہا کہ گزشتہ 70 سال میں کشمیر انتفادا وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہا ہے اور یہ بات حیران کن ہے کہ کشمیری اب چین کی طرف دیکھ رہے ہیں، کشمیر کی جدوجہد آزادی اب مزید مضبوط ہورہی ہے، اسے جاری رکھنے کے لیے صرف انہیں لاجسٹکس سپورٹ کی ضرورت ہے چاہے وہ بھارت کے اندر سے ہی ہو۔ پاکستان اخلاقی طور پر کشمیریوں کی ہر طرح سے مدد کرنے کا پابند ہے۔ کموڈور ریٹائرڈ سدید ملک نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کی دوسری حکومت اور ہندوتوا نظریے کی حمایت بھارت کے زوال کا باعث بنے گی، تاہم بھارت طویل عرصے سے ایک جمہوری ملک رہا ہے، اب یہ دیکھنا ہو گا کہ بھارتی حکومت مودی کے اقدامات کو کس طرح دیکھتی ہے، اگرچہ ماضی کی بھارتی حکومتوں نے اپنے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہی رکھا جیسے پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول اور چین کے ساتھ ایل اے سی لیکن بی جے پی کی جیت کے بعد ایسے قوانین بنائے گئے جس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ بھارتی قانون پوٹا پر کشمیر میں بے رحمانہ عمل کیا جارہا ہے جس سے بھارت کے عوام کا اپنی حکومت پر اعتماد مجروح ہوا ہے، جیسے بھارت کی جانب سے کشمیر میں مقرر کیے گئے ان کے اپنے وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ اور عبداللہ مفتی بھی اس کے خلاف بول پڑے۔ سدید ملک نے کہا کہ بھارت کے دفاعی بجٹ میں مستقل اضافہ اس کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ بھارتی آئین میں ترامیم اس صورتحال کو مزید گھمبیر بنا رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے