
خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان میں فوجی کونسل کے اقدامات کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران کم سے کم 15 افراد شہید ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق سینٹرل ڈاکٹرز کمیٹی نے بدھ کے روز ہونے والے مظاہروں میں ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ فورسز نے کئی علاقوں میں مظاہرین کے جلوسوں کو گھیرے میں لے لیا۔ خاص طور پر بحری،شاہراہِ ستین اور امبدہ جہاں بڑے پیمانے پر آنسو گیس کے شیل کا استعمال کیا گیا ہے۔ سوڈان میں جمہوریت نواز مظاہرین نے فوجی حکومت کے خلاف دارالحکومت خرطوم ،اس کے جڑواں شہر ام درمان اور ملک کے دوسرے علاقوں میں احتجاجی ریلیوں کی اپیل کی تھی۔ برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ان فوج مخالف مظاہروں سے قبل حکومت نے موبائل فون لائن سروس معطل کردی، جب کہ 25 اکتوبر کو فوج کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے موبائل انٹرنیٹ سروس پہلے ہی معطل ہے، حالاں کہ ایک جج نے کئی بار انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کاحکم جاری کیا ہے۔ خرطوم اور دوسرے شہروں میں ہزاروں افراد نے فوجی بغاوت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے شیل اور براہ راست گولیاں چلائی تھیں۔ خرطوم میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ایک شخص شہید ہوا۔دریائے نیل کے اس پار واقع دارالحکومت کے جڑواں شہر ام درمان میں سیکورٹی فورسز کی مظاہرین پربراہ راست فائرنگ سے 5 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ سوڈان کے جمہوریت نواز اتحاد میں شامل پروفیشنلز ایسوسی ایشن اور مزاحمتی کمیٹیوں نے ان مظاہروں کی اپیل کی تھی۔ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے بین الحکومتی ادارۂ ترقی کے سیکرٹری جنرل سے نیروبی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے کہا کہ امریکا نے سوڈان کے سابق وزیر اعظم عبداللہ حمدوک اور عبوری حکومت کی بحالی کے لیے علاقائی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی ہے اور ہم سوڈان کی فوجی اتھارٹی پر زور دیتے ہیں کہ وہ عوامی قیادت اور تمام قیدیوں کی رہائی کے لیے اقدامات کریں۔
