English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

لیتھوانیا نے بیلاروسی سرحد پر اضافی فوج لگادی

لیتھوانیا: تارکین وطن کے بحران کی وجہ سے بیلاروس کی سرحد پر اضافی فوج تعینات کی گئی ہے

ویلنویس (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین کے رکن ملک لیتھوانیا نے بیلاروس سے متصل اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے اضافی فوجی تعینات کر دیے۔ اس سلسلے میں بیلاروس اور پولینڈ کی سرحد کے نزدیک ایک فوجی اڈابھی قائم کر لیا گیا ہے، جس کا مقصد بیلا روس سے غیر قانونی مہاجرین کی یورپی یونین آمد کو روکنا ہے۔ یورپی یونین کا الزام ہے کہ منسک حکومت ان مہاجرین کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یورپی یونین اور منسک حکومت کے سرحدی تنازع میں مہاجرین پس رہے ہیں اور دونوں جانب سے ان پر تشدد سے کا سلسلہ جاری ہے۔ بیلاروس کے صدر لوکاشینکو کا موقف ہے کہ وہ مہاجرین کو یورپی یونین روانہ کر کے ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق پولینڈ اور لیتھوانیا نے تارکین وطن کو مزید برداشت نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پولینڈ اور بیلاروس کی سرحد پر ہزاروں مہاجرین یورپی یونین میں داخل ہونے کی کوشش میں ہیں۔ پولش سیکورٹی اہل کاروں نے مہاجرین کے مختلف گروہوں کی جانب سے سرحد عبور کرنے کی کئی کوششیں ناکام بنائیں۔ ہفتے کے روز مہاجرین نے بیلاروس سے دوبیچے چیرکیونے کے مقام سے بڑے جھنڈ کی شکل میں پولینڈ میں داخل ہونے کی جو کوششیں کی تھی، تاہم سرحدی فوج نے تشدد کرکے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ مہاجرین نے سیکورٹی گارڈز پر پتھراؤ کیا۔ پولش فوج نے اس دوران کئی افراد کو گرفتار بھی کیا، جو مہاجرین کو یورپی یونین میں اسمگل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان گرفتاریوں سے مہاجرین کی پولینڈ کے اندر اسمگل کرنے کو بھی ناکام بنا دیا گیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے