English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

چین زنجیانگ میں نسل کشی میں کیوں ملوث نہیں ہے؟ شفقنا بین الاقوامی

القمر
چین کے صوبے  زنجیانگ میں چینی حکومت کی جانب سے ایغور مسلمانوں کی نسل کشی ایک ایسا بیانیہ ہے جس گزشتہ چند برسوں سے زبان زد عام ہے اس لیے اس کا ایک غیر جانبدارانہ تجزیہ بہت ضروری ہے۔ نسل کشی بین الاقوامی جرائم کی فہرست میں سب سے سنگین جرم ہے اور بذات خقد بھی یہ بہت بڑا جرم اور ظلم ہے۔ اس لیےاس لفظ کے استعمال میں احتیاط برتنا بہت ضروری ہے تاہم پھر بھی زنجیانگ کی بات آئے تو یہ لفظ خود ہی ذہن میں آ جاتا ہے۔ جس کی بڑی وجہ مختلف حکومتوں کی جانب سے بیجنگ پر الزامات، سوشل میڈیا پرمباحث اورامریکی پروپیگنڈا ہے۔
افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد پر چین کو القاعدہ سے منسلک ایغور جہادیوں کا سامنا ہے۔ سینکڑوں اہغور جہادیوں نے شام میں داعش کا مقابلہ کیا اور یہ ایغور جہادی بین الاقوامی جہادی تحریک کا حصہ ہیں۔یہ وہی لوگ ہیں جن کا مقابلہ 9/11 میں امریکہ نے کیا تاہم امریکہ پھربھی زنجیانگ میں انتہا پسند قوتوں کو تحریک دینے میں مسرت محسوس کرتا ہے تاکہ چین ان کے خلاف آپریشن کرے اور امریکہ چین پر ظالمانہ کارروائیوں کا الزام عائد کر سکے اور اس کو نسل کشی کا نام دے سکے۔
اس بات کا جواب کہ آیا چین نسل کشی میں ملوث ہے تو اس بات کو جان لینا ضروری ہے کہ زنجیانگ میں بہت ساری چیزیں ہو رہی ہیں مثلا ایغور جہادیوں کے خلاف انسداد دہشت گردی آپریشن ، علاحدگی پسند تحریک اور جذبات کے خلاف آپریشن ، ملک بدری، مقامی آبادی میں خوف پھیلانے کی نیت سے کریک ڈاون ، حراستی مراکز ، سیاسی جبر، ثقافتی اور مذہبی دباو ، بے گناہ لوگوں پر مقدمات اور دیگر بہت سارے اقدامات جو اسی طرح کے ہیں اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ جس سےمغرب بے خبر ہے۔
نسل کشی کے بیانیے کے تجزیے میں جو چیز غائب ہے وہ ان گروہوں کے خاتمے کی وجوہات ہیں۔ وہ کیا وجوہات ہیں کہ جن کی بنیاد پر یہ آپریشن کیے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی عدالت میں سربیا کے خلاف کیس کو ذہن میں لایا جائے تو یہ بات پتا چلتی ہے کہ سربرنیکا میں نسل کشی کی گئی اور ریاست اس کی  ذمہ دار تھی کیونکہ اس نے نہ تو اس کو روکنے کی کوشش کی اور نہ اس کے حل کے لیے اقدامات کیے۔ یہ بات کہیں بات ثابت نہیں ہوئی کہ ریاست نے نسل کشی کی ہے حالانکہ یہ نسل کشی کی ایک واضح ترین مثال ہے۔ اس کیس کو ہم دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ عدالت میں نسل کشی کا کیس طرح کا ہوسکتا ہے اور اس کیس کا معیار یقینی طور پر بہت بلند ہے۔
ہٹلر کی یہودیوں کے خلاف نسل کشی کا مقصد ان کا مکمل طور پر خاتمہ تھا یعنی کرہ ارض کو ان کے وجود سے مکمل طور پر پاک کر دینا۔ قانونی پیرائے میں یہ ایک واضح نسل کشی کا کیس ہے۔ پہلی جنگ عظیم میں ترکی کی آرمینیائیوں کے خلاف نسل کشی جس کو امریکی حکومت نے تسلیم کیا ہے ایک ایسا ہی کیس ہے جبکہ صدام حسین کو کردوں کو گیس سے ہلاک کرنا بھی اسی کی ایک مثال ہے  کیونکہ صدام حسین کردوں سے مکمل نجات حاصل کرنا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ عراق سے کردوں کا وجود ہی مٹ جائے۔
جو کچھ چین میں ہورہا ہے اس کا موازنہ اس سے کیا جاسکتاہے جو کچھ جاپان نے پرل ہاربر کے واقعے کے بعد نظر بندی کے کیمپوں میں ہوا۔ تاہم اس کا مقصد امریکہ میں موجود جاپانی آبادی کا خاتمہ نہیں تھا کیونکہ امریکی حکومت جاپانی لوگوں سے نفرت کرتی تھی اور انہیں بطور گروہ ختم کرنا چاہتی تھی بلکہ یہ ایک ظلم تھا اور فوجی دشمنی کا بدلہ اور انتقام تھا۔ اس قتل عام کا مقصد یہ تھا کہ دشمن نسلی گروہ کی جانب سے خطرات کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا کیونکہ امریکہ جاپان سے جنگ لڑ رہا تھا۔ پس اسی طرح چین ایغور کا بطور گروہ خاتمہ نہیں چاہتی بلکہ اس کا مقصد ان کو دبانا اور ان کے اندر انتہا پسند تحریکوں کا خاتمہ کرنا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستیں نسل کشی کے لفظ کو ادا کرنے میں احتیاط سے کام لیتی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دارفر میں قتل عام کو اقوام متحدہ نے نسل کشی کہنے میں کس قدر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تھا۔
درحقیقت چین اور امریکہ میں مخالف ہے اور امریکہ چین پر نسل کشی کا الزام عائد کرتا ہے یقینی طور پر امریکہ چین کے خلاف اس سے زیادہ سخت نہیں ہوسکا۔ امریکی حکومت جانتی ہے کہ سینکڑوں ایغور شام میں داعش اور دیگر قوتوں کے ساتھ جنگ میں مصروف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ ایغوروں کے لیے پناہ گزین کیمپ نہیں کھول رہے جبکہ بائیڈن انتظامیہ کے لیے ایغوروں کی پناہ پہلی ترجیح ہے۔ پس ایغور مسلمانوں کے لیے پناہ گزین کیمپوں کو نہ کھولنے کا مطلب ہے کہ امریکی حکومت اس حوالے سے خود بھی مانتی ہے۔ اور جانتی ہے کہ سینکڑوں ایغور جہاد میں مصروف ہیں۔ امریکی حکومت درحقیقت ایغور سے خود خوفشدہ ہے اس لیے ان کے لیے اپنے دروازے کھولنے پر تیار نہیں ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں 2021 میں امریکی حکومت نے ہزاروں افغانیوں کو پناہ دی ہے۔ امریکی حکومت اپنے ہی بیانیے کو خریدنے پر تیار ہیں ہے۔
اس خطے میں اور اس کے اردگرد جہادی گروہوں کی موجودگی کے ساتھ ، بین الاقوامی برادری کی اہم ترین ذمہ داری یہ ہے کہ یہ صورتحال کسی عسکری تشدد میں تبدیل نہ ہو یا یہ خانہ جنگی کی طرف نہ جائے  کیونکہ شام کے بعد جہادی تحریکیں زنجیانگ پر ہی نظریں جمائے بیٹھی ہیں۔
پیر، 22 نومبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post چین زنجیانگ میں نسل کشی میں کیوں ملوث نہیں ہے؟ شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے