
میڈیسون (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں ایک ڈرائیور نے کرسمس پریڈ کے شرکاپر گاڑی چڑھادی،جس کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور 12 بچوں سمیت 40 افراد زخمی ہوگئے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ریاست وسکونسن کے شہرواکیشا میں حملہ آور کرسمس پریڈ میں گھس گیا ۔ پولیس نے ڈرائیورکو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہے، تاہم ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی دہشت گردی سمیت تمام پہلوؤں پر تحقیقات کی جائے گی۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سرخ رنگ کی تیز رفتار گاڑی نے فٹ پاتھ پر کرسمس پریڈ کے شرکا کو کچل دیا ۔ اس دوران پولیس کو گاڑی پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں گاڑی ٹریفک بیرئر سے ٹکرا کر رک گئی۔ پولیس کی جانب سے جاری بیان میں 5ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے ہلاکتوںمیں اضافے کا خدشہ ظاہر کیاگیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے واکیشا کے رہایشیوں سے گھروں کے اندر ہی رہنے کی اپیل کی ۔ پولیس سربراہ نے بتایا کہ متاثرین کو ایمبولنس، پولیس اور متاثرین کے رشتہ داروں کی گاڑیوں میں اسپتال پہنچایا گیا۔ پولیس افسر تھامسن نے کہاکہ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے،شہر میں مزید کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دوسری جانب ریاست کے سینیٹر ران جان اور ٹیمی بالڈون نے بھی اس حادثے پر اپنے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے کہ جب رواں ہفتے وسکانسن میں حالات کشیدہ رہے ہیں۔گزشتہ سال واکیشا کے قریب شہر کینوشا میں سیاہ فاموں کے ساتھ پولیس کے امتیازی سلوک کے خلاف مظاہرے میں فائرنگ کر کے 2افراد کو ہلاک کرنے والے سفید فام نوجوان کائل رٹن ہاؤس کو ایک عدالت نے رواں ہفتے بری کرنے کا حکم دیا، جس پر نہ صرف وسکونسن بلکہ کئی امریکی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
