English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وزیراعظم کا افغانستان میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کیلئے پاکستان اور امریکا کے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ پارلیمانی اور سفارتی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر اعظم نے اسلام آباد میں امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین و رکن کانگریس گریگوری میکس اور ایشیا، بحرالکاہل، وسطی ایشیا اور جوہری عدم پھیلاؤ کے متعلق ذیلی کمیٹی کے چیئرمین و رکن کانگریس امی بیرا سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران غیر ملکی وفد کو پارلیمان سے انتخابی اصلاحات اور خواتین، بچوں، صحافیوں، مذہبی اقلیتوں اور خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق منظور کیے گئے قوانین سے بھی آگاہ کیا گیا۔

وزیر اعظم آفس کے مطابق عمران خان نے دونوں ارکان کانگریس کے دورہ پاکستان کا پرتپاک خیر مقدم کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ دورہ نہ صرف پاک ۔ امریکا تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا باعث بنے گا بلکہ دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان مزید اعلیٰ سطح کے تبادلے ہوں گے تاکہ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کیا جاسکے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں انسانی بحران اور معاشی تباہی کو روکنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر افغان عوام کی مالی مدد کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ لیکویڈیٹی کے مسئلے کو حل کرنے کے طریقے اور ذرائع تلاش کیے جائیں گے تاکہ بینکنگ چینلز افغانستان کو فوری اقتصادی بوجھ اور چیلنجز کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرسکیں۔

دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور امریکا دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کریں اور صحت، سلامتی، انسداد دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی کے معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔

بعد ازاں وفد نے قومی اسمبلی کےاسپیکر اسد قیصر سے بھی ملاقات کی جنہوں نے وفد کو پاکستان میں انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے حال ہی میں نافذ کیے گئے انتخابی اصلاحات کے قوانین سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے خواتین، بچوں، مذہبی مانیٹروں اور خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ پر قانون سازی کی ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ میڈیا، اچھی حکمرانی کا ایک اہم حصہ ہے اس لیے میڈیا سے وابستہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے تاکہ وہ بلاخوف و خطر اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔

اسد قیصر نے کہا کہ حکومت پاکستانی تارکین وطن کی مقروض ہے جنہوں نے اپنی مادر وطن کے لیے بے پناہ خدمات سرانجام دیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کی حالیہ منظوری موجودہ حکومت کے ان سے کیے گئے وعدے کا احساس ہے‘۔

رکن کانگریس کے ایک سوال کے جواب میں اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ حکومت نے بین الاقوامی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے قانون سازی کی ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو فیصلہ سازی میں بااختیار بنایا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ اقتصادی اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کو ان کی صلاحیتوں کو حاصل کرنے کے لیے ترغیب دی ہے۔

امریکی اراکین کانگریس نے تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرنے پر قومی اسمبلی کے اسپیکر کا شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر کانگریس رکن گریگوری میکس نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پارلیمانی روابط دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کریں گے۔

انہوں نے کووڈ 19 کے دوران معاشی بحران سے نمٹنے پر پاکستانی قیادت کو سراہا۔

انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں اور قابل تجدید توانائیوں میں پاکستان کے تعاون کو بھی بے پناہ قرار دیا، پاکستان گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

رکن کانگریس امی بیرا نے بھی امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو اعتماد اور تعاون پر مبنی قرار دیا۔

انہوں نے قانون سازی میں پاکستانی خواتین قانون سازوں کے تعاون کو سراہا۔

وفد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور، افغانستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان تمام علاقائی فریقین کے ساتھ دوطرفہ روابط کی روایت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے انسانی بحران سے بچنے اور افغان عوام کی معاشی ترقی کے لیے مربوط کوششوں کے لیے افغانستان پر عالمی اتحاد کی ضرورت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ ’افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے‘۔

افغانستان سے اہم درآمدات پر سیلز ٹیکس میں کمی، امدادی پیکج کی منظوری

وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 5 ارب روپے کے امدادی پیکیج اور اہم درآمدات پر سیلز ٹیکس میں کمی کی منظوری دے دی۔

سرکاری خبرایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان افغانستان کے حوالے سے قائم بین الوزارتی رابطہ سیل کا دورہ کیا اور ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔وزیراعظم نے ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کلپ کو عدلیہ پر حملہ قرار دے دیا

بیان کے مطابق اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر خزانہ شوکت ترین، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے افغانستان کے حوالے سے قائم ایپکس کمیٹی کو افغانستان کی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

رپورٹ کے مطابق اجلاس میں انسانی ہمدردی اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے افغانستان کو 5 ارب روپے کے امدادی پیکیج کی منظوری دی گئی، جن میں 50ہزار میٹرک ٹن گندم، ادویات، طبی سامان اور سردیوں کے لیے سامان شامل ہے۔

اس موقع پر افغانستان سے اہم درآمدات پر سیلز ٹیکس میں کمی کی اصولی منظوری بھی دی گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی سرحدوں سے داخل ہونے والے تمام افغان شہریوں کے لیے مفت کووڈ-19 ویکسینیشن جاری رہے گی۔

انہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانستان کے لیے بھارت کی طرف سے 50 ہزار میٹرک ٹن امدادی گندم کی پاکستان کے راستے سے لے جانے کی اجازت دی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ علاج معالجے کے لیے بھارت میں پھنسے ہوئے افغان شہریوں کی براستہ پاکستان وطن واپسی میں مدد کی جائے اور اس موقع پر افغان باشندوں کی سہولت کے لیے پاکستانی ویزا کے حصول کو آسان بنانے اور تین ہفتوں کے اندر اجرا کا فیصلہ کیا گیا۔

عمران خان نے افغانستان کی امداد کے لیے کیے گئے اقدامات اور بارڈر مینجمنٹ کو سراہا اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ افغان باشندوں کی ہر ممکن مدد کی جائے اور پشاور تا جلال آباد بس سروس کو بحال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر تعینات اہلکاروں کی استعداد کار بڑھائی جائے اور سرحدوں کی صوابدیدی بندش نہ کی جائے۔

ایپکس کمیٹی نے افغانستان میں ہنگامی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان افغانوں کی مدد کے لے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغان انتہائی بہادر قوم ہے، جس نے مشکل حالات کا سامنا کیا، برسوں کے تنازعات کے بعد بین الاقوامی برادری پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ افغان عوام کی مدد کریں تاکہ وہ امن و استحکام کے ماحول میں رہ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا افغانستان کی ہنگامی صورت حال کا نوٹس لے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر ممکن مدد کے لیے اقدامات کرے۔

وزیر اعظم عمران خان نے مشیر برائے قومی سلامتی کو ہدایت کی کہ وہ افغانستان کا دورہ کریں اور افغان حکام سے امداد کے حوالے سے وفود کی سطح پر بھی مذاکرات کیے جائیں۔

وزیراعظم نے ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کلپ کو عدلیہ پر حملہ قرار دے دیا

وزیر اعظم عمران خان نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کو اپوزیشن اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے عدلیہ پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب اعلیٰ عدالتوں کے ججوں پر دباؤ ڈال کر من پسند فیصلے کروانے کے لیے کیا جارہا ہے۔

ترجمانوں کے اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں منظر عام پر آنے والی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو، ملک بھر میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور انتخابی اصلاحات کے قوانین سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس میں موجود ایک رہنما نے بتایا کہ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ آڈیو لیک کرنے کی سازش مسلم لیگ (ن) نے رچی تھی۔

انہوں نے ترجمانوں کو ہدایت کی کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ تاریخ کو اجاگر کریں کہ پارٹی نے کس طرح عدلیہ پر حملہ کیا اور ججز کو بدنام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔

عمران خان نے اپنی میڈیا ٹیم سے کہا کہ وہ لوگوں کو آگاہ کریں کہ مسلم لیگ (ن) کی عدلیہ کو دھمکیاں دینے اور بدنام کرنے کی تاریخ رہی ہے، ’لیکن پی ایم ایل (ن) کے اوچھے ہتھکنڈے اس بار کام نہیں آئیں گے‘۔

آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال سے متعلق حال ہی میں نافذ کیے گئے قوانین کے بارے میں وزیر اعظم نے اپنے ترجمانوں سے کہا کہ وہ اس معاملے پر لوگوں کو اعتماد دیں کہ ای وی ایم کے استعمال سے مستقبل کے انتخابات میں دھاندلی ختم ہو جائے گی۔

دریں اثنا انہوں نے نئی قائم کردہ قومی رحمت اللعالمین اتھارٹی (این آر اے) کا 10 رکنی مشاورتی بورڈ بھی تشکیل دیا۔

وزیراعظم کےدفتر سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق این آر اے بورڈ کے اراکین اعزازی حیثیت سے کام کریں گے۔

بورڈ کے اراکین میں ڈاکٹر عطاالرحمٰن، حمزہ یوسف، سید حسین نصر، ڈاکٹر محمد فغفوری، ڈاکٹر جوزف لمبرڈ، ڈاکٹر ولید الانصاری، بیرسٹر ندرت بی ماجد، ڈاکٹر انیس احمد، باسط کوشل اور ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد الرحمٰن شامل ہیں۔

وزیراعظم کا پی ٹی آئی پر ‘طنز کرنے پر’ سینئربیوروکریٹ کے خلاف تحقیقات کا حکم

وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے متعلق ‘قابل اعتراض جملے’ پوسٹ کرنے پر کابینہ ڈویژن کے سینئر جوائنٹ سیکریٹری کے خلاف تحقیقات کا حکم دےدیا۔

اسٹبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری الزامات پر بیان کے مطابق بی ایس- 21 کے افسر حماد شمیمی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں اپنے پیج پر پوسٹ کیا جو سول سرونٹ (ایفیشنسی اور ڈسپلن) رولز 2020 کی خلاف ورزی ہے۔

نوٹیفکیشن میں سینئر بیوروکریٹ کی مبینہ پوسٹ اردو میں بھی دی گئی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ ‘پی ٹی آئی اور طالبان میں ایک مشابہت یہ بھی ہے کہ دونوں حکومت ملنے کے بعد سوچ رہے ہیں کہ اسے چلانا کیسے ہے’۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ‘اور دونوں کی امیدوں کا مرکز بھی آبپارہ ہے’۔

اسٹبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری ایک اور نوٹیفیکشن کے مطابق مذکورہ الزامات کی روشنی میں حماد شمیمی کے خلاف تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کا حکم دے دیا گیاہے۔

انکوائری کےاحکامات میں کہا گیا ہے کہ ‘وزیراعظم نے اپنے اختیار کے تحت وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کےڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) بی ایس –22 کے افسر ثنااللہ عباسی کو سینئر جوائنٹ سیکریٹری کابینہ ڈویژن اسلام آباد حماد شمیمی کے خلاف تحقیقات کے لیے انکوائری افسر مقرر کردیا ہے’۔

انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ تحقیقات 60 روز کے اندر مکمل کی جائے جبکہ انکوائری افسر تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ سات روز کے اندر حکام کو پیش کرے۔

سرکاری ملازمین پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 25 اگست کو جاری نوٹی فکیشن میں سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بھی سرکاری ملازم، حکومت کی اجازت کے بغیر کسی میڈیا پلیٹ فارم میں شرکت نہیں کر سکتا۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ ان ہدایات کا مقصد کسی سرکاری ادارے کی طرف سے حکومتی پالیسی پر عوامی ردعمل، خدمات میں بہتری کے لیے تجاویز لینے اور ان کی شکایات کے ازالے کے لیے سوشل میڈیا کے تعمیری اور مثبت استعمال کی حوصلہ شکنی نہیں ہے۔

اسٹبلشمنٹ ڈویژن سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا

تاہم ایسے ادارے اس بات کی پابندی کریں گے کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جارحانہ، نامناسب اور قابل اعتراض تبصروں کو باقاعدگی سے ہٹایا جائے۔

نوٹی فکیشن میں سرکاری ملازمین کو گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 1964 کے تحت تفصیلی ہدایات دی گئی تھیں، ان رولز کے تحت سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سمیت مختلف میڈیا فارمز میں شرکت کی نگرانی کی جاتی ہے۔

مزید کہا گیا تھا کہ ‘رولز کا رول 18 سرکاری ملازم کو کسی دوسرے سرکاری ملازم یا نجی شخص یا میڈیا سے سرکاری معلومات یا دستاویز شیئر کرنے سے روکتا ہے’۔

سرونٹس رولز کے رول 22 کا حوالہ دیتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کہا تھا کہ یہ سرکاری ملازم کو میڈیا پر یا عوامی سطح پر کوئی بھی ایسا بیان یا رائے دینے سے روکتا ہے جس سے حکومت کی بدنامی کا خطرہ ہو۔

نوٹی فکیشن میں تمام سرکاری ملازمین کو خبردار کیا گیا تھا کہ کسی ایک یا زائد ہدایات کی خلاف ورزی بددیانتی کے مترادف ہوگی اور غفلت برتنے والے ایسے سرکاری ملازم کے خلاف سول سرونٹس (ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

کہا گیا تھا کہ ان حاضر سروس سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جو اس سوشل میڈیا گروپ کے منتظم ہوں جس میں کسی طرح کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔

نوٹی فکیشن کے مطابق رولز 21، 25، 25 اے اور 25 بی سرکاری ملازمین کو پاکستان کے نظریے اور سالمیت یا کسی حکومتی پالیسی یا فیصلے کے خلاف خیالات کے اظہار سے روکتے ہیں۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے