فیس ماسک کے بغیر 2 میٹر کی سماجی دوری بھی کورونا سے بچانے کے لیے بے مقصد ہے، تحقیق
نومبر 25, 2021
القمر
فیس ماسک کے بغیر 2 میٹر کی سماجی دوری کے اصول پر عمل کرنا کووڈ 19 سے بچانے کے لیے بے مقصد ہوتا ہے۔
یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ کے مریض اگر فیس ماسک کا استعمال نہ کریں تو وہ 2 میٹر سے زیادہ دور موجود افراد (فیس ماسک کے بغیر) کو بھی اس بیماری کا شکار بناسکتے ہیں چاہے وہ کھلی فضا میں ہی کیوں نہ ہو۔
سماجی دوری کے لیے 2 میٹر کی دوری کا اصول کورونا وائرس کی وبا کے آغاز پر بنایا گیا تھا مگر بیماری سے تحفظ کے لیے اس کی افادیت پر اکثر ملے جلتے تحقیقی نتائج سامنے آتے ہیں۔
اس نئی تحقیق میں کمپیوٹر ماڈلنگ کے ذریعے جانچ پڑتال کی گئی کہ کووڈ کا مریض کھانسی کے ذریعے وائرل ذرات کو کتنی دور تک پہنچا سکتا ہے۔
محققین نے کہا کہ نتائج سے موسم سرما کی آمد کے ساتھ ویکسینیشن، چار دیواری کے اندر ہوا کی نکاسی کے اچھے نظام اور فیس ماسک کے استعمال کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ لوگوں کی کھانسی سے خارج ہونے والے ذرات کے پھیلاؤ کا دائرہ مختلف ہوتا ہے۔
درحقیقت فیس ماسک استعمال نہ کرنے والے افراد کی کھانسی سے خارج ہونے والے بڑے ذرات قریبی سطح پر گرجاتے ہیں جبکہ چھوٹے ذرات ہوا میں معطل بھی رہ سکتے ہیں یا 2 میٹر سے زیادہ دور بھی تیزی سے جاسکتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ تحقیق میں ثابت ہوا کہ انفرادی طور پر ذرات کے پھیلاؤ کی شرح مختلف ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر بار جب ہم کھانستے ہیں تو ممکنہ طور پر ہر بار مختلف مقدار میں سیال کو خارج کرتے ہیں، تو اگر کوئی فرد کووڈ سے متاثر ہو تو وہ بہت زیادہ یا بہت کم وائرل ذرات کو خارج کرسکتا ہے، اسی طرح ہر کھانسی کے ساتھ ان کے پھیلنے کا دائرہ ہر بار بھی مختلف ہوسکتا ہے۔
انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ گھر سے باہر کسی بھی عمارت کے اندر وہ فیس ماسک کا استعمال لازمی کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سب ہی معمول کی زندگی پر لوٹنے کے لیے بے قرار ہیں مگر ہم لوگوں کو مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ چار دیواری جیسے دفاتر، کلاس رومز اور دکانوں میں فیس ماسکس کا استعمال کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک وائرس ہمارے ارگرد موجود ہے، تو بہتر ہے کہ احتیاط کرکے خود کو محفوظ رکھیں۔
محققین کی جانب سے اب مخصوص مقامات جیسے یونیورسٹیوں کے اندر لیکچر ہالز میں تحقیق جاری رکھنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
اس سے قبل لیبارٹری ٹیسٹوں اور مشاہداتی تحقیقی رپورٹس میں دریافت ہوا تھا کہ فیس ماسک کووڈ کے مریضوں کے منہ سے 80 فیصد وائرل ذرات کو بلاک کردیتے ہیں اور ان کو پہننے والوں کو بھی وائرل ذرات سے 50 فیصد تک تحفظ ملتا ہے۔
مگر حقیقی دنیا میں ہونے والی تحقیق رپورٹس میں بتایا گیا کہ فیس ماسک کا استعمال کیسز کی شرح میں نمایاں کمی لاتا ہے۔
اس نئی تحقیق کے نتائج طب یرجیدے جرنل فزکس آف فلوئیڈز میں شائع ہوئے۔
سائنسدانوں کا بہت زیادہ میوٹیشنز والی نئی کووڈ قسم پر خدشات کا اظہار
سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ کورونا وائرس کی ایک ایسی نئی قسم سامنے آئی ہے جس میں اتنی زیادہ تعداد میں میوٹیشنز ہوئی ہیں جو جسمانی دفاع پر حملہ آور ہوکر بیماری کی مزید لہروں کا باعث بن سکتی ہے۔
بی 11529 نامی اس نئی کووڈ قسم کے صرف 10 کیسز کی تصدیق 3 ممالک میں جینومک سیکونسنگ کے ذریعے ہوئی مگر اس میں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے کچھ محققین کو خدشہ ہے کہ یہ قسم مدافعت پر حملہ آور ہوسکتی ہے۔
بی 11529 قسم کے اسپائیک پروٹین میں 32 میوٹیشنز ہوئی ہیں، اسپائیک پروٹین وائرس کا وہ حصہ ہے جس کو زیادہ تر ویکسینز میں مدافعتی نظام کی مزاحمت کے لیے ہدف بنایا جاتا ہے۔
اسپائیک پروٹین میں میوٹیشنز سے وائرس کی خلیات کو متاثر کرنے اور پھیلنے کی صلاحیت پر اثرات مرتب کرتے ہیں، مگر اس سے مدافعتی خلیات کے لیے بھی وائرس پر حملہ کرنا مشکہل ہوتا ہے۔
یہ نئی قسم سب سے پہلے افریقی ملک بوٹسوانا میں دریافت ہوئی تھی جہاں اب تک اس کے 3 کیسز کی سیکونس سے تصدیق ہوئی، جنوبی افریقہ میں 6 جبکہ ہانگ کانگ میں ایک ایسے فرد میں اس کی تصدیق ہوئی جو جنوبی افریقہ سے واپس آیا تھا۔
امپرئیل کالج لندن کے وائرلوجسٹ ڈاکٹر ٹام پیکوک نے اس نئی قسم کی تفصیلات ایک جینوم شیئرنگ ویب سائٹ پر پوسٹ کیں۔
انہوں نے اسپائیک پروٹین میں بہت زیادہ میوٹیشنز کے بارے میں بتاتے ہوئے بتایا کہ یہ فکرمند کردینے والی قسم ہے۔
انہوں نے ٹوئٹس میں بتایا کہ اس قسم کی بہت زیادہ مانیٹرنگ کی ضرورت ہے جس کی وجہ خوفناک اسپائیک پروفائل ہے۔
مگر انہوں نے یہ بتایا کہ ممکنہ طور پر یہ بہت زیادہ متعدی قسم ہے یا کم از کم انہیں یہی امید ہے۔
یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے ماہرین نے بتایا کہ دنیا بھر کے سائنسی اداروں کی شراکت داری کے ذریعے برطانوی ادارہ دنیا بھر میں ابھرنے والی کورونا وائرس کی اقسام کی مانیٹرنگ کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وائرسز میں اکثر تبدیلیاں ہوتی ہیں تو یہ غیرمعمولی نہیں کہ نئی میوٹیشنز سے کووڈ کی نئی اقسام منظرعام پر آئے۔
کورونا کی اس نئی قسم کے پہلے کیس کی تصدیق 11 نومبر کو بوٹسوانا میں ہوئی تھی جبکہ جنوبی افریقہ میں 3 دن بعد پہلا کیس رپورٹ ہوا۔
سائنسدانوں کی جانب سے کورونا وائرس کی اس نئی قسم پر نطر رکھی جارہی ہے جو زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہو۔
جنوبی افریقہ کے کچھ ماہرین کی جانب سے بی 11529 کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
کیمبرج یونویرسٹی کے پروفیسر روی گپتا نے بتایا کہ انہوں نے لیبارٹری میں تحقیقی کام کے دوران اس نئی قسم میں 2 ایسی میوٹیشنز دریافت کیں جو اسے زیادہ متعدی اور اینٹی باڈیز کے خلاف مزاحمت کرنے والا بناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس نئی قسم میں موجود میوٹیشنز کو دیکھتے ہوئے اس کی مانیٹرنگ کرنا ضروری ہے، مگر کسی وائرس کی اہم ترین خصوصیت اس کا متعدی ہونا جس نے ڈیلٹا کو دنیا بھر میں پھیلنے میں مدد فراہم کی، مدافعتی نظام سے بچنا تصویر کا بس ایک پہلو ہے۔
لندن کالج یونیورسٹی کے جینیٹکس انسٹیٹوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر فرانسس بیلوکس نے بتایا کہ اس قسم میں میوٹیشنز کی بڑی تعداد سے بظاہر عندیہ ملتا ہے کہ یہ کووڈ کے کسی بہت زیادہ بیمار فرد میں ہونے والے وائرس کے ارتقا کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ایلفا یا ڈیلٹا سے بننے والی وائرس ناکارہ بننے والی اینٹی باڈیز کے خلاف یہ قسم مزاحمت کرسکتی ہے، مگر اس مرحلے میں یہ پیشگوئی کرنا مشکل ہے کہ یہ کتنی متعدی ہوسکتی ہے، بس کچھ عرصے تک مانیٹرنگ اور تجزیہ کرنا ہوگا۔