ویب ڈیسک —
ہمارا دل آپ کے لئے افسردہ ہے مگر ہمارے قانون میں آپ کے دکھ کا مداوا نہیں ہے۔ اسرائیلی ججوں کے تین رکنی پینل نے یہ بات بدھ کے روز اس مقدمے کے فیصلے میں لکھی ہے جو ایک فلسطینی ڈاکٹر نے اپنی ان تین بیٹیوں اور ایک بھتیجی کے لئے انصاف کی خاطر اسرائیل کے خلاف دائر کیا تھا جو اسرائیل۔فلسطینی جنگ میں ہلاک ہو گئی تھیں۔
فلسطینی ڈاکٹر عزالدین ابو الیش نے2009 کی اس جنگ کے دوران غزہ میں اسرائیلی بمباری میں اپنی بیٹیوں اور ایک بھتیجی کے ہلاک ہونے کے بعد معاوضے کے لئے اسرائیلی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔
سپریم کورٹ نے زیریں عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا کہ یہ واقعہ جنگی کارروائی تھی۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس کے فوجیوں نے یہ سمجھ کر گولہ باری کی کہ ڈاکٹر کے گھر کی اوپری منزل میں حماس کے جنگجو موجود ہیں۔ مگر چیخوں کی آواز سن کر مزید گولہ باری روک دی گئی تھی۔
اس گولہ باری میں ڈاکٹر ابو الیش کی تین بیٹیاں اور ایک بھتیجی ہلاک ہو گئی تھیں۔ واقعے کے وقت ڈاکٹر فون پر لائیو نشریے میں اسرائیلی ٹی وی کو جنگ کی صورتِ حال سے آگاہ کر رہے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا اور ڈاکٹر ابو الیس کے منہ سے نکلا، "اوہ میری بچیاں۔”

ڈاکٹر ابو الیش نے2018 میں اسرائیلی عدالت سے رجوع کیا تھا مگر عدالت نے اس واقعے کو جنگی کارروائی قرار دے دیا تھا اور فوج نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا تھا۔
15 نومبر کو ڈاکٹر ابو الیش نے اسرائیل کی سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امید ظاہر کی تھی کہ انہیں انصاف ملے گا۔
تاہم، اسرائیلی سپریم کورٹ نے زیریں عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا، "ہمارے دل اپیل گزار کے دکھ کو محسوس کرتے ہیں مگر قانونی حدود کو دیکھتے ہوئے ہمارے سامنے کوئی اور راستہ نہیں ہے”۔
اسرائیل بہت پہلےتسلیم کر چکا ہے کہ فلسطینی عسکریت پسندوں کےخلاف تین ہفتوں کی اس جنگ کے دوران اس کے ایک ٹینک کی گولہ باری سے یہ چاروں لڑکیاں ہلاک ہو گئیں۔
مگر 2018 میں عدالت نے اس کی یہ دلیل قبول کر کے اسرائیلی ریاست کو معاوضہ دینے سے مبرا کر دیا کہ ڈاکٹر عزالدین ابو الیش کی بیٹیوں 15 سالہ مائیر، 13 سالہ عایہ اور 21سالہ بسان اور ان کی بھتیجی 14 سالہ نور کی ہلاکت جنگی کارروائی میں ہوئی۔


No media source currently available
ڈاکٹرعزالدین ابو الیش ایک گائنا کالوجسٹ ہیں۔ کئی اسرائیلی ہسپتالوں میں کام کر چکے ہیں اور اب کینیڈا میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا، "مجھے توقع تھی کہ اسرائیلی عدالت کچھ ایسا فیصلہ کرے گی جو کچھ امید پیدا کرسکے۔ مگر یہ اندیشہ بھی تھا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ اسی لئے میں نے خود کو تیار کر لیا تھا کہ مائیر، عایہ، بسام اور نور کے لئے انصاف کی خاطر میں ہرممکنہ فورم پرجاؤں گا”۔
ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ عالمی فوجداری عدالت میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ڈاکٹر ابو الیش کا کہنا تھا کہ ان کے لئے تمام متبادل کھلے ہیں۔
ڈاکٹر ابو الیش کہہ چکے ہیں کہ معاوضہ ملنے کی صورت میں وہ یہ رقم اپنی فاؤنڈیشن، ‘ڈاکٹرز فار لائف’ کے لئے وقف کر دیں گے۔ ان کی یہ فاؤنڈیشن اسرائیل سمیت مشرقِ وسطیٰ میں لڑکیوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرتی ہے۔
(اس خبر میں معلومات رائٹرز سے لی گئی ہیں)
