English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

دفاعی مقاصد کی زمین پر شادی ہال اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کیوں بنائیں؟ سپریم کورٹ

القمر

سپریم کورٹ نے ملٹری لینڈ کے تجارتی استعمال پر سیکریٹری دفاع سے تحریری جواب طلب کرلیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسٹریٹیجک مقاصد اور دفاع کے لئے دی گئی زمین پر شادی ہال، سینما، ہاوسنگ سوسائٹیز بنادی گئیں۔ جائیں اور تمام چیفس کو بتادیں کہ دفاعی مقاصد کی زمین کمرشل مقاصد کے لئے استعمال نہیں ہوگی۔جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے جو کیا ہے،، وہ سب ختم کرنا ہوگا۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ملٹری لینڈ کے کمرشل مقاصد کےلئے استعمال سے متعلق معاملے کی سماعت ہوئی۔ سیکریٹری دفاع عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس تحریری رپورٹ ہے۔ اس پر سیکریٹری دفاع نے بتایا کہ تحریری رپورٹ کے لئے مہلت دی جائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ زمین اسٹریٹیجک مقاصد اور دفاع کے لئے دی گئی تھی ۔آپ نے اس پر کمرشل سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔ شادی ہال بنادئیے ،سینما بنادیا اور ،ہاوسنگ سوسائٹیز بنادیں۔کیا یہ دفاع کے لئے ہے۔ جتنے بھی عسکری ہیں وہ چھاؤنی کی زمین پر بنے ہوئے ہیں۔ سیکریٹری دفاع نے کہا ہم نے فیصلہ کرلیا ہے، آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔جسٹس قاضی امین نے سیکریٹری دفاع کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ جو کیا ہے وہ سب ختم کرنا ہوگا۔ چیف جسٹس نے سیکریٹری دفاع سے کہا کہ آپ اسلام آباد بیٹھے ہوئے ہیں، آپ کو کیا علم یہاں کا۔یہاں پر ایک کرنل اور ایک میجر بادشاہ بنا ہوا ہے۔وہ جو چاہتے ہیں وہ ہوجاتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ جائیں اور تمام چیفس کو بتادیں کہ دفاعی مقاصد کی زمین کمرشل مقاصد کے لئے استعمال نہیں ہوگی۔آپ تمام فوجی چھاؤنیوں میں جائیں اور بتائیں کہ زمین صرف اسٹرٹیجک مقاصد کے لئے استعمال ہوگی۔ چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ مسرور بیس کیماڑی اور فیصل بیس سب کمرشل کیا ہوا ہے۔سائن بورڈز ہٹانے کا کہا تو اس کے پیچھے بڑی بڑی بلڈنگز بنادی گئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس کیس کو منگل والے دن سپریم کورٹ اسلام آباد میں سنیں گے۔عدالت نے سیکریٹری دفاع سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے مزید سماعت تیس نومبر تک ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے