English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کرپشن اور دو نمبری، برطانوی عدالت نے ملک ریاض اور انکے بیٹے کا ویزا منسوخ کر دیا

القمر

برطانوی عدالت نے کرپشن میں ملوث ہونے پر بحریہ ٹاؤن کے مالکان ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔

برطانوی خاتون جج نکولس ڈیوئیس نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے پر کوئی کریمنل مقدمہ نہیں ہے تاہم وہ ان پر لگے کرپشن، جعل سازی اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سے سہمت ہیں۔ اس لیے برطانیہ سے ان کا اخراج ان کے طرز عمل، کردار کی وجہ سے عوامی بھلائی کے لیے سازگار ہے۔

برطانوی امیگیریشن حکام نے کرپشن چارجز کی بنا پر ملک ریاض کا ویزہ کینسل کر دیا تھا، جس کی بنا پر انہوں نے اپیل دائر کی تھی تاہم برطانوی عدالت نے کہا کہ وہ ان پر لگائے گئے کرپشن اور جعل سازی کے الزامات سے سہمت ہیں اس لیے ملک ریاض سمیت ان کے تمام خاندان کا 10 سالہ ملٹی انٹری ویزا منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

صحافی کوثر کاظمی کے مطابق شہزاد اکبر نے برطانیہ میں جاکر ملک ریاض کی پراپرٹی کے معاملے کو حل کیا کہ وہ پیسا برطانیہ میں ہی منجمد نہ ہوجائے بلکہ اس کو پاکستان میں لایا جائے۔ اس میں وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصہ شہزاد اکبر دونوں نے ملک ریاض کی مدد کی۔ صحافی کوثر کاظمی کے مطابق شہزاد اکبر نے برطانوی کرائم ایجنسی کی واپس کی گئی رقم ملک ریاض کو واپس کر دی تھی۔

خیال رہے کہ ملک ریاض پر برطانیہ میں سخت کرپشن چارجز کا سامنا تھا جس کے بعد نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا۔ ملک ریاض نے حسن نواز سے ہائڑ پارک پراپرٹی خریدی تھی۔ حسن نواز کو کرائم ایجنسی سے کلین چٹ مل گئی تھی کیونکہ ان کے پاس تمام منی ٹریل کی دستاویزات تھیں مگر ملک ریاض کے پاس نہیں تھیں۔

کرپشن چارجز کی بنا پر ملک ریاض کا ویزہ کینسل کر دیا گیا تھا جس کی بنا پر انہوں نے اپیل کی تھی لیکن برطانوی امیگریشن نے ان سمیت ان کے تمام خاندان کا ویزہ بھی کینسل کر دیا۔

اس کیس کے پس منظر کی بات کی جائے تو جولائی 2020 ،میں برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کے دوران برطانیہ میں ضبط 190 ملین پاؤنڈ پاکستان کو واپس کیے تھے۔ برطانوی حکام نے بتایا تھاکہ اسی طرح برطانیہ میں لاکھوں پاونڈز گزشتہ سال میں دوسرے ترقی پذیر ممالک کو واپس کیے گئے۔

یہ رقم بین الاقوامی بدعنوانی اور رشوت ستانی کی تحقیقات کا نتیجہ ہے۔نیشنل کرائم ایجنسی کے بین الاقوامی بدعنوانی یونٹ کے ذریعے اس سال کے دوران پہلے سے کہیں زیادہ افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی جو ملک میں بڑے اوورسیز ترقیاتی منصوبوں میں مجرمانہ نقد رقم کی فراہمی سے منسلک ہیں۔

کروڑوں پاؤنڈ سے بنائی گئی ملک ریاض کی جائیدادوں کو برطانیہ میں بھی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ برطانوی حکومت نے تحقیقات کے دوران ناجائز آمدن کے ثبوت ملنے کے بعد ملک ریاض کی اکاؤنٹس اور جائیداد منجمد کر دیے تھے۔

اس سے قبل دسمبر 2019 میں نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض سے متعلق سول تحقیقات کے بعد 190 ملین ڈالر کی سول سیٹلمنٹ پر اتفاق کیا تھا۔ملک ریاض کا شمار پاکستان میں نجی شعبے کے سب سے بڑے کارپوریٹ درجنوں میں ہوتا ہے ۔خیال رہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے ملک ریاض کی 190 ملین پاؤنڈز کی پراپرٹیز منجمد کرنے کے حکم کے بعد کاروباری شخصیت ملک ریاض کا مؤقف بھی سامنے آیا تھا۔ ملک ریاض نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانیہ میں قانونی اور ڈکلئیرڈ جائیداد بیچی ہے۔جائیداد کی فروخت بحریہ ٹاؤن کراچی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں رقم ادا کرنے کے لیے کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے