متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ صوبے کا مطالبہ آئینی حق ہے اسے غداری کہنے والے سب سے بڑی غداری کے مرتکب ہیں ، جتنا سنجیدگی سے ہم نے حیدرآباد یونیورسٹی کیلئے تین سالوں میں کوشش کی اتنا 30سالوں میں کرتے تو کئی یونیورسٹیاں بن جاتیں۔
وہ حیدرآباد کے مقامی ہال میں اربن گریجویٹ کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کررہے تھے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ اگر پاکستان میں زمین پر سب سے مضبوط حق ہے تو ان لوگوں کا ہے جو ہندوستان سے ہجرت کرکے یہاں آئے ۔ انہوں نے کہاکہ پرویزمشرف کا دور آپ کو انگیج کرنے کا دور تھا ، ہم نے پل تعمیر کرلئے لیکن تعلیم پر کچھ نہیں کیا ، ٹاؤن کمیٹیاں بنالیں لیکن صوبے کے بارے میں کچھ نہیں سوچا ، انہوں نے کہاکہ ہم سے یہ کہا گیا کہ ایم کیوایم سے پہلے کراچی اور حیدرآباد میں بڑا سکون تھا، خوشحالی تھی ، لاہور کے مل کر جتنے دوکاندار ٹیکس دیتے ہیں اتنا صرف ایک لیاقت آباد کا لوئر مڈل کلاس ٹیکس دیتا ہے۔ آپ کا شہر کراچی چلتا ہے تو پاکستان پلتا ہے ، جو چیز بناتا ہے اس کو پتہ بھی ہے کہ ٹھیک کیسے کرنا ہے آپ کے بغیر اس وطن کا گزارہ نہیں آپ بنانے والے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 1992ء کے آپریشن میں ہمیں پتہ چلا کہ ہمارے ٹارچر سیل بھی ہیں، خود میرے کمرے سے ٹاچر سیل نکلا تھا۔ کراچی میں آپریشن اس لئے ہوا کہ وہاں ترقی تھی، امن تھا ، انہوں نے کہاکہ حیدرآباد کا قصور یہ تھا کہ اس نے ایوان میں غریب و متوسط طبقے کے لوگوں کو جاگیرداروں کیخلاف بھیجا۔
ایم کیو ایم نے پھر صوبہ کا مطالبہ کردیا
القمر
