وزیر صحت سندھ عزرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ ہم موبائل ویکسین کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں۔ویکسین کی دوسری خوراک نہ لگانے والوں کے خلاف اقدامات اٹھا رہے ہیں۔
نادرا سے ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جعلی ویکسینیشن کارڈ کی شناخت ہو جائے گی۔ہمارے پاس بچاؤ کا طریقہ ویکسین موجود ہے۔
ویکسین کی وجہ سے انفیکشن زیادہ نہیں ہوتا
ایک اضافی ویکسین کی خوراک بطور بوسٹر ویکسین لگے گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ بوسٹر ویکسین مفت لگنی چاہیے اسی لیے ہم نے بوسٹر ویکسین مفت کر دی ہیں۔
یورپ میں بہت سارے ممالک لاک ڈاؤن کی طرف چلے گئے ہیں۔وفاقی حکومت کو اقدامات کرنے پڑیں گے۔ریپڈ ٹیسٹ دوبارہ شروع کرنا پڑے گا۔
