English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اومیکرون ویرینٹ پوری دنیا میں پھیلنے لگا، متعدد ممالک تذبذب کا شکار

القمر

کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ (اومیکرون) پوری دنیا میں پھیل رہا ہے جس کے بعد متعدد ممالک نے اپنی سرحدیں بند کردی ہیں جبکہ محققین نے کورونا کے مقابلے میں اومیکرون وائرس کے خطرناک ہونے یا نہ ہونے سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے ’اے پی‘ جنوبی افریقہ کے محققین نے اومیکرون کی شناخت چند روز پہلے کی تھی اور ابھی تک اس کے بارے میں بہت کچھ معلومات نہیں ہیں۔

اس بارے میں بھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ وائرس زیادہ متعدی ہے۔

خیال رہے کہ اومیکرون وائرس کے پھیلاؤ کی خبریں تیزی سے سامنے آرہی ہیں اور متعدد ممالک تذبذب کا شکار ہیں کہ انہیں کیا حکمت عملی اپنانی چاہیے جبکہ کورونا وائرس سے اب تک 50 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسرائیل نے غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا اور مراکش نے کہا کہ وہ پیر سے شروع ہونے والی تمام آنے والی پروازوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کر دے گا۔

ہانگ کانگ، یورپ سے شمالی امریکا تک کئی جگہوں پر سائنسدانوں نے اس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

نیدرلینڈز میں اومیکرون کے 13، کینیڈا اور آسٹریلیا میں دو دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

امریکا میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرانسس کولنز نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی تک کوئی ایسا ڈیٹا نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ نئی قسم کووڈ 19 کی پچھلی اقسام سے زیادہ سنگین بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ زیادہ متعدی ہے، جب آپ دیکھتے ہیں کہ یہ جنوبی افریقا کے متعدد اضلاع میں کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ویرینٹ کے ایک شخص سے دوسرے میں پھیلنے کا امکان واضح ہے۔

کولنز نے زور دیا کہ ویکسینیشن، بوسٹر شاٹس اور ماسک پہننے جیسے اقدامات کے عمل کو دگنا کردیا جائے، ’میں جانتا ہوں، امریکی شہری ان باتوں کو سن کر تھک چکے ہیں لیکن وائرس ہم سے نہیں تھکا ہے۔

ڈچ پبلک ہیلتھ اتھارٹی نے تصدیق کی کہ جنوبی افریقا سے جمعے کو پہنچنے والے 13 افراد میں اومیکرون کی تشخیص ہوئی ہے۔

وہ ان 61 افراد میں شامل تھے جن کا پرواز پر پابندی کے نفاذ سے قبل ایمسٹرڈیم کے شیفول ہوائی اڈے پر آخری دو پروازوں پر پہنچنے کے بعد وائرس کا مثبت ٹیسٹ آیا تھا۔

کینیڈا کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ اومیکرون کے دو کیسز اونٹاریو میں پائے گئے جب دو افراد جنہوں نے حال ہی میں نائیجیریا سے سفر کیا تھا۔

آسٹریلیا میں حکام نے کہا کہ افریقا سے سڈنی پہنچنے والے دو مسافر نئے قسم وائرس کا شکار ہوئے ہیں، افریقی ممالک سے آنے والوں کو اب آمد پر ہوٹل میں قرنطینہ کرنے کی ضرورت ہے۔

دو جرمن ریاستوں میں ہفتے کے آخر میں واپس آنے والے مسافروں میں کل 3 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی ہے اور بیرون ملک سے آنے والے تمام اسرائیلیوں کے لیے قرنطینہ کو لازمی قرار دیا ہے۔

ادھر جاپان کی جانب سے سرحدی کنٹرول بڑھانے پر غور کیا جارہا ہے۔

اومیکرون کا خطرہ: جاپان نے بھی سفری پابندیاں عائد کردیں

جاپان نے کہا کہ وہ پیر سے غیر ملکیوں کے لیے اپنی سرحدیں بند کردیں گے، اسرائیل کے ساتھ دنیا کی تیسری بڑی معیشت نے کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ ’اومیکرون‘ کے خلاف سخت اقدامات اٹھا لیے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اس ویرینٹ کی وجہ سے آسٹریلیا میں لاک ڈاؤن ختم ہونے کے امکانات کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

تاہم سرمایہ کار ویرینٹ کے حوالے سے مزید تفصیلات کے منتظر ہیں، گزشتہ ہفتے مزید پابندیاں عائد ہونے کے خدشے کے باعث مارکیٹ شدید متاثر ہوئی تھی، یہ ویرینٹ ممکنہ طور پر زیادہ خطرناک ہونے کے سبب 2 سال کی عالمی وبا کے بعد بحالی کی طرف بڑھنے والی معیشت کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے۔

اومیکرون کی تشخیص سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں کی گئی جس کے بعد آسٹریلیا، بیلجیئم، بوٹسوانا، برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، ہانگ کانگ، اسرائیل، اٹلی، اور نیدرلینڈز میں بھی اس کے کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔

اومیکرون کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ اس ویرینٹ کو سمجھنے میں ’چند دن یا کئی ہفتے‘ بھی لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جاپان نے بدترین حالات سے بچنے کے لیے غیر ملکیوں کے لیے اپنے ملک کی سرحدیں بند کردی ہیں۔

جاپان کے وزیر اعظم فومیو کیشیدہ کا کہنا تھا کہ وہ اس تنقید کے لیے تیار ہیں کہ وہ ضرورت سے زیادہ محتاط ہیں، یہ غیر معمولی اقدامات عارضی ہیں جو ہم معلومات واضح نہ ہوجانے تک احتیاط کے طور پر اٹھا رہے ہیں۔

اومیکرون کے حوالے سے فومیو کیشیدا کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان پابندیوں کا اطلاق کب تک کیا جائے گا، مخصوص ممالک سے آنے والے جاپانی شہریوں کو قرنطینہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جاپان کے وزیر صحت شیگیوکی گوتو کا کہنا تھا کہ ملک بھر ٹیسٹ کیے جارہے ہیں تاکہ نمیبیا سے آنے والے مسافروں میں اس وائرس کی منتقلی کی تشخیص کی جاسکے۔

اسرائیل میں اتوار کی رات سے غیر ملکی مسافروں کی آمد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ویرینٹ کے مقابلے کے لیے انسداد دہشت گردی کی ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

دوسری جانب آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے متعلق منصوبہ دوبارہ نافذ کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں، بدھ کے لیے اعلان کردہ سرحدی نرمی کے حوالے سے نیشنل سیکیورٹی پینل کے اراکین جائزے کے لیے آئندہ روز ملاقات کریں گے۔

آسٹریلوی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مسافروں کے لیے 2 ہفتے قرنطینہ بحال کرنا ’تھوڑا جلد ہے‘ تو ہم نے اس وقت صرف ایک اقدام اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مطمئن ہوجائیں، بہتر معلومات حاصل کریں اور سمجھداری سے فیصلے لیں۔

موریسن نے بتایا کہ اومیکرون کی علامات اب تک واضح نہیں ہیں اور اس کا علاج گھر میں بھی کیا جاسکتا ہے اور جنوبی افریقی ڈاکٹرز نے ایک مختلف ویرینٹ کا شبہ ظاہر کیا ہے۔

ادھر مراکش کی حکومت کا کہنا ہےکہ ملک میں بھی 29 نومبر سے 2 ہفتوں کے لیے مقامی و بین الاقوامی باؤنڈ پروازیں بند کردی جائیں گی۔

سنگاپور کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے ویکسین شدہ افراد کے سفر شروع کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا ہے۔

یاد رہے کہ جنوبی ایشیا کی امیر ترین ریاست اور ان کے پڑوی ملائیشیا نے ویکسینیٹڈ افراد کے لیے اپنی زمینی سرحدیں کھول دی ہیں، یہاں دو سال سےسفری پابندی عائد تھی۔

دوسری جانب برطانیہ نے ’جی سیون’ ممالک کے ورزائے صحت کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن آج ویرینٹ کی تازہ ترین تفصیلات فراہم اور وائٹ ہاؤس کے ردعمل کا اظہار کریں گے، جبکہ جنوبی افریقہ کی جانب سے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اسے معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔

جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رمافوسا کا کہنا تھا کہ انہیں ان کی سائنسی صلاحیت پر سزا دی جارہی ہے کیونکہ انہوں نے ابتدا ہی میں ویرینٹ کو دریافت کرلیا ’سائنس نے سفری پابندیوں کے بارے میں آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ یہ طریقہ کار وائرس کو روکنے کے لیے کتنا مؤثر ثابت ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اس عمل سے مختلف ممالک کی معیشت مزید متاثر ہوں گی۔

منبع: ڈان نیوز

The post اومیکرون ویرینٹ پوری دنیا میں پھیلنے لگا، متعدد ممالک تذبذب کا شکار appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے