English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغانستان میں طالبان کے زیر سایہ منشیات کی تجارت کیوں جاری ہے؟ شفقنا خصوصی

القمر
اگست میں اقتدار میں آںے کے بعد طالبان نے یہ دعوٰی کیا تھا کہ وہ منشیات کی پیداوار اور اس کی سمگلنگ پر پابندی عائد کر دیں گے ۔ کابل میں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ وہ افغانستان میں منشیات کی کاشت کا خاتمہ کر دیں گے۔ تاہم اس پریس کانفرنس کے باوجو د افغانستان میں نہ صرف افیون کی کاشت جاری ہے اور خطی ممالک کی منشیات برآمدگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ مکروہ تجارت معمول کے مطابق جاری ہے۔ افغانستان دنیا میں سب سے زیادہ افیون پیدا کرنے والا ملک ہے ایک اندازے کے مطابق 2020 میں افغانستان نے پوری دنیا کی 85 فیصد افیون پیدا کی۔ افیون کے علاوہ افغانستان بھنگ کی بھی ایک بڑی مقدار پیدا کرتا ہے اور ایک مقامی پودے ایفیڈرا سے زود اثر دوا میتھیمفیتیمین بھی پیدا کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے ڈرگ اینڈ کرائم نے گزشتہ ہفتےاپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ 2021 میں پوست کی کاشت میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ افغانستان کی معیشت کی تباہی کی صورت میں منشیات کی پیداوار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ جائز معاشی مواقعے کی کمی کیے بعد اس بات کا امکان ہے کہ بہت سارے لوگ غیر قانون سرگرمیوں میں ملوث ہوجائیں گے۔ خشک سالی اور بیرونی امداد کے ساتھ کرونا وبا اور پابندیوں نے افغانستان میں انسانی المیے کو جنم دیا ہے ۔ ورلڈ فوڈ پرگروام کے مطابق اس وقت افغانستان کی نصف آبادی خوراک کی کمی کا شکار ہے۔ ان مایوس کن حالات میں ، کسانوں کے پاس سوائے اس کہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ افیون کاشت کریں جس کو دیگر فصلوں کی نسبت کم پانی چاہیے ہوتا ہے اور اگر سرحدیں بند بھی ہوں تب بھی اس کو سمگل کیا جاسکتاہے۔
اس وقت پوست کی کاشت ہلمند اور کندھار کے صوبوں میں جاری ہے اور تاجر کھلے عام کاروبار کررہے ہیں۔ اگست میں طالبان کے قبضے کے بعد پوست کی قیمتوں میں بے بہا اضافہ ہوگیا تھا جو اب واپس اپنی اصلی حالت میں واپس آگیا ہے۔ منشیات پر پابندی کے عہد کے علاوہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا تھا کہ طالبان کا پوست کی کاشت روکنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ہمارے لوگ معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور ان کے پاس کمائی کا صرف یہی ذریعہ بچا ہے۔  سمگلنگ اس وقت بھی اپنے قدیم رستوں سے یعنی ایران اور ترکی کے ذریعے اور شمالی رستوں بذریعہ وسط ایشیا اور روس جبکہ پاکستان اور بحیرہ عرب سے افریقہ تک جاری ہے۔ تاجکستان میں اکتوبر کے مہینے مین 500 کلوگرام کے قریب منشیات پکڑی گئیں جو کہ حالیہ برسوں میں بہت بڑی مقدار ہے۔ روس کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ منشیات کا خطرہ تاحال ان کے سروں پر منڈلا رہا ہے اور طالبان کی آمد سے حالات نہیں بدلے۔
طالبان نے تاجکستان بارڈر پرصوبہ بدخشاں کے قریب انسداد سمگلنگ فورس تعینات کی تھی جس کا مقصد چین اور روس کو خوش کرنا تھا۔ طالبان ماسکو اور بیجنگ کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتا ہے اور ان دونوں ممالک کے خدشات ہی افغانستان سے منشیات کی سمگلنگ ہے۔ اگرچہ چین میں منشیات کی بڑی مقدار گولڈن ٹرائنگل سے سمگل ہوتی ہے۔ تاجکستان کے علاوہ ایران نے بھی 17 نومبر کو زیدان کے صوبے سے 3 ٹن سے زیادہ افیون، میتھ اور حشیش ضبط کی۔ پاکستان اور جنوب مشرقی ایران کا روٹ افغانستان سے منشیات کی سمگلنگ کا سب سے اہم روٹ ہے۔ ایران کی خفیہ ایجنسی نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے مارچ سے اب تک 25 ٹن سے زیادہ منشیات پکڑی ہیں۔
جب کہ ترکی میں بھی پالیس نے حال ہی میں مشرق اور جنوب مشرق میں 700 ٹن سے زیادہ منشیات ضبط کی ہیں جس میں نصف ٹن سے زیادہ ہروئن تھی ۔ آزربائیجان نے بھی اتنی ہی مقدار ایران کے راستے سے ضبط کی ہے۔ اسی طرح گجرات سے بھارتی پولیس نے افغانستان سے سمگل شدہ تین ٹن ہیروئن پکڑی جو کہ ایرانی بندرگاہ بندر عباس کے ذریعے لائی گئی تھی۔ اسی طرح کی شپمنٹس چاہ بہار سے ایران اور پاکستان میں بھیجی گئی تھیں۔ خزاں میں بین الاقوامی سمندری افواج نے بحیرہ ہند سے منشیات کی ایک بڑی مقدار پکڑی تھی۔
پاکستان افغان منشیات کے لیے نہ صرف صارفین کی مارکیٹ ہے بلکہ بڑا ٹرانزٹ روٹ بھی ہے اور یہ تجارت پرسکون طریقے سے ہورہی ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں پشاو پولیس نے 80 کلوگرام میتھ قبضےمیں لے لی تھی  جوکہ صوبے کی تاریخ میں سب سے بڑی مقدار تھی۔ یہ ممکن ہے کہ جو منشیات اب تک پکڑی گئی ہے یہ طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل افغانستان سے سمگل کی گئی ہوں۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ منشیات پر قابو نئی طالبان حکومت کی ترجیح نہیں ہے ۔ اگرچہ خطے کے ممالک افغانستان سے منشیات کی سمگلنگ کے بارے میں مسائل کو اجاگر کرتے ہیں تاہم طالبان بیرون ممالک دوروں میں اس بات کے ذکر سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ بالکل 90 کی دہائی کی طرح ہے کہ طالبان منشیات کی سمگلنگ اور اس کی پیدوار کو برداشت کرتے ہیں تاہم وہ منشیات کے استعمال کرنے والوں کو سخت سزائیں دیتے تھے۔ طالبان سے منسلک سکالرز افیون کی کاشت کا یہ کہہ کر دفاع کرتے ہیں کہ منشیات غیر مسلموں کے استعمال کی چیز ہے۔ 90 کی دہائی میں طالبان نے حشیش کی کاشت پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن افیون کی اجازت دی تھی جس پر یہ دلیل دی گئی تھی کہ حشیش مسلمان استعمال کرتے ہیں اور افیون غیر مسلم۔ تاہم فقہ کے حساب سے یہ درست نہیں ہے۔ تاہم 2001 کے بعد طالبان نے افیون پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ تاہم افغان کسانوں نے اس پر غصے کا اظہار کیا تھا۔ منشیات پر پابندی طالبان کو معاشی طور پر کمزور نہیں کر سکتی لیکن غریب افغان کسانوں کی ایک بڑی تعداد کو تنہا کر دے گی اور ممکنہ طور وہ اس کے خلاف مزاحمت کا رستہ اپنائیں۔
پیر، 29 نومبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post افغانستان میں طالبان کے زیر سایہ منشیات کی تجارت کیوں جاری ہے؟ شفقنا خصوصی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے