اسلام آباد(آن لائن)الیکشن کمیشن آف پاکستان کے 2ارکان کی تعیناتی کے لیے کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا ۔اجلاس کی صدارت چیئرپرسن شیریں مزاری نے کی۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن ارکان کی تعیناتی کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔پارلیمانی کمیٹی کا آئندہ اجلاس 8 دسمبر کو ہوگا ۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن کا موقف تھا کہ ارکان کی تعیناتی کا فیصلہ میرٹ پر ہونا چاہیے،ایک ایک رکن پر ہم تیار نہیں ہیں فیصلہ میرٹ پر ہو جب کہ حکومت کا موقف تھا کہ اپوزیشن آپس میں مشاورت کرلے۔چیئرپرسن کمیٹی شیریں مزاری کا کہناتھا کہ اپوزیشن نے کہا ہے لاہور الیکشن کی وجہ سے مشاورت کا وقت دیں،جو میرٹ پر ہوگا وہ رکن تعینات ہوگا،حکومت نے میرٹ پر اپنے نام دے دیے ہیں ۔خواجہ سعد رفیق نے کہا میرٹ کی بنیاد پر نامزد کریںگے جو دبائو برداشت کرسکیں،بہترین آپشنز کی تلاش جاری ہے،نام آگئے ہیں مزید نام نہیں آسکتے،امید ہے تقرر اتفاق رائے سے ہوگا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا اسد عمر، اعظم سواتی، فواد چودھری شریک تھے جب کہ اجلاس میں منظور کاکڑ، شاہدہ اختر علی، سینیٹر تاج حیدر ، رانا ثنا اللہ، خواجہ سعد رفیق بھی موجود تھے ۔ وفاقی وزیر پرویز خٹک، راجا پرویزاشرف،اعظم نذیر تاڑڑ وڈیو لنک سے شریک ہوئے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رکن کمیٹی شاہدہ اختر علی کا کہناتھا کہ حکومت نااہل اور نا لائق ہے، اگر وزیراعظم میں انا نہ ہوتی تو یہ مسئلہ کمیٹی میں آتا ہی نہیں، اس سے قبل بھی ارکان کی تعیناتی پر پوراسال لگ گیا تھا اور اب بھی وہی صورت حال نظر آرہی ہے۔شاہدہ اختر علی کا کہناتھا کہ الیکشن کمیشن سے متعلق قانون سازی کی حکومت کوبہت جلدی تھی راتوں رات بلز کو بلڈوز کرکے قانون سازی کی،الیکشن کمیشن ارکان کی تعیناتی کے معاملے پر حکومت تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، آئندہ اجلاس 8 دسمبر کو ہوگا،دیکھے اب کیا ہوگا۔
