گلگت بلتستان کے سابق جج رانا شمیم کے بیٹے احمد حسن رانا نے کہا ہے کہ والد نے بیانِ حلفی کہیں جمع نہیں کروایا تھا، اگر وہ لیک ہوا ہے تو ممکنہ طور پر برطانیہ کی نوٹری پبلک سے لیک ہوا ہے۔
والد کے عدالت میں دیے گئے بیان کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ان کا بیانِ حلفی سیلڈ تھا اور انہوں نے کوئی بیانِ حلفی میڈیا کو نہیں دیا تو یہ میڈیا کے پاس کس طرح پہنچا۔ جس پر رانا شمیم نے کہا کہ وہ اس کیس کے وکلا کے پینل میں ضرور شامل ہیں لیکن کیس کے مرکزی وکیل سینیئر قانون دان لطیف آفریدی ہیں، مجھے عدالت میں والد نے انہیں لے کر آنے کا حکم دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت لطیف آفریدی کسی کیس میں مصروف تھے جس کی وجہ سے ہمیں تاخیر ہوگئی اور اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ختم ہوگئی۔
انہوں نے سماعت کے دوران ہونے والی کارروائی سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔
احمد حسن رانا نے رانا شمیم کے بیانِ حلفی کے بارے میں کہا کہ والد نے یہ بیانِ حلفی کہیں جمع نہیں کروایا، یہ اگر لیک ہوا ہے تو ممکنہ طور پر برطانیہ کی نوٹری پبلک سے لیک ہوا ہے۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے احمد حسن رانا کا کہنا تھا کہ بیانِ حلفی کی نقل ضرور لیک ہوئی ہے لیکن اصل نہیں اور کاپی دیکھنے میں زیادہ واضح نہیں، اگر اس کا پرنٹ آؤٹ نکالا جائے تو وہ واٹس ایپ پر بھیجی گئی تصویر معلوم ہوتی ہے۔
میرے والد نے ایفیڈیوڈ کسی کو نہیں دیا یہ نوٹری پبلک برطانیہ سے لیک ہوا ہے۔
احمد حسن رانا، صاحبزادہ رانا شمیم pic.twitter.com/Dnk5CcHE0o— Live with Adil Shahzeb (@AShahzebLive) November 30, 2021
