ملک میں چینی بحران کی وجہ جو ہمارے حکمران بتاتے ہیں، حقیقت اس کے بالکل متضاد بھی ہوسکتی ہے. ایسی مثالیں ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ میں بہت عام ہیں جب ایک مجرم دوسرے مجرم کیخلاف مدعی بن جاتا ہے اور عوام کی نظروں سے سچ اوجھل رہ جاتا ہے.
چینی بحران کا پی پی پی کو ذمہ دار کہنے والے پی ٹی آئی کے ارکان بھی کچھ کم مجرم نہیں. عوام کو چینی کی قلت کا سبق پڑھانے والے عمران خان کے وزراء اور معاونین خصوصی خود متعدد شوگر ملز کے مالک بنے بیٹھے ہیں.
شوگر مافیا میں سرفہرست جہانگیر ترین ہیں جن کی کُل ملز کی تعداد 44 ہے.
اگر صرف پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین کی بات کی جائے تو سندھ ان کی شوگر ملز کی تعداد 15 ہے اور پنجاب میں 29.
وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار خسرو بختیار کی صوبہ سندھ میں 5 جبکہ پنجاب میں 9. اسی طرح عمران خان کے معاونِ خصوصی شہباز گِل کی سندھ میں 3 شوگر ملز ہیں جبکہ پنجاب میں 8.
آصف علی زرداری کا ذکر کیا جائے تو ان کی سندھ میں 10 شوگر ملز ہیں جبکہ اس کے دست راست انور مجید (اومنی گروپ) کی 5.
نواز شریف کی پنجاب میں 5 شوگر ملز ہیں جن پر تاحال پابندی ہے.

