English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کورونا کی نئی قسم اومیکرون ڈیلٹا سے زیادہ متعدی ہوسکتی ہے، ڈبلیو ایچ او

القمر

کورونا کی نئی قسم اومیکرون کے کیسز روزانہ نئے ممالک میں سامنے آرہے ہیں اور اسے زیادہ متعدی سمجھ کر سفری پابندیوں کو بھی سخت کیا جارہا ہے۔

ابھی یہ تو واضح نہیں کہ کورونا کی یہ نئی قسم کتنی زیادہ متعدی ہے مگر جنوبی افریقہ کے نیشنل انسٹیٹوٹ فار کمیونیکیبل ڈیزیز نے اس کے پھیلاؤ کی شرح کا ایک ابتدائی جائزہ پیش کیا ہے۔

جنوبی افریقہ وہ ملک ہے جس نے اومیکرون کو سب سے پہلے رپورٹ کیا تھا اور جنوبی افریقی ادارے کے مطابق یہ نئی قسم ملک کے 9 میں سے 5 صوبوں میں دریافت ہوچکی ہے۔

ادارے کے مطابق نومبر میں وائرس جینومز سیکونس کے 74 فیصد نمونوں میں اومیکرون کو دریافت کیا گیا۔

ادارے نے مزید بتایا کہ یکم دسمبر 2021 کو جنوبی افریقہ میں روزانہ رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 8561 تھی جو گزشتہ روز سے دگنا زیادہ ہے۔

مجموعی ٹیسٹوں پر مثبت ٹیسٹوں کی شرح ایک دن پہلے 10.2 فیصد تھی تو یکم دسمبر کو وہ 16.5 فیصد تک پہنچ گئی۔

مگر ڈیٹا میں یہ بھی بتایا گیا کہ اموات اور ہسپتال میں شرح میں کوئی نمایاں تبدیلی دریافت نہیں ہوئی۔

دنیا بھر کے طبی اداروں کے ماہرین نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ اومیکرون اور اس کے پھیلاؤ اور شدت کے بارے میں چند دنوں میں زیادہ بہتر معلومات سامنے آجائے گی۔

یکم دسمبر کو گھانا، نائیجریا، سعودی عرب اور جنوبی کوریا میں اومیکرون کے اولین کیسز ریکارڈ ہوئے اور اب تک یہ قسم 24 ممالک میں دریافت ہوچکی ہے۔

میڈیا بریفننگ کے دوران ڈبلیو ایچ او کی ماہر ماریہ واک کرکوف نے بتایا کہ ایک ممکنہ منظرنامہ تو یہ ہے کہ اومیکرون ڈیلٹا سے زیادہ متعدی ہوسکتی ہے مگر ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ نئی قسم لوگوں کو زیادہ بیمار کرسکتی ہے یا نہیں۔

عالمی ادارے نے ایک بار پھر انتباہ کیا کہ ویکسینیشن اور ٹیسٹنگ کی کم شرح کورونا وائرس کی نئی اقسام بننے کے لیے زرخیر زمین کا کام کررہی ہے۔

درجنوں ممالک نے اس نئی قسم کے بعد سفری پابندیوں کو سخت کیا ہے جبکہ یکم دسمبر کو امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن نے کہا کہ اب امریکی سرزمین پر آنے والے تمام مسافروں کو نیگیٹو کووڈ ٹیسٹ پیش کرنا ہوگا جو سفر سے ایک دن پہلے ہونا ضروری ہے۔

اب تک 56 ممالک نے اومیکرون کی روک تھام کے لیے سفری پابندیوں کا نفاذ کیا ہے حالانکہ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں بدترین ناانصافی ہیں۔

ماریہ وان نے بتایا کہ افریقہ کے جنوبی حصے کے ممالک پر پابندیوں کے نفاذ سے طبی ماہرین تک اومیکرون کے نمونوں کی ترسیل میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

مگر یکم دسمبر کو ایک نئی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ نائیجریا میں ایک تجزیے میں اومیکرون کو اکتوبر 2021 میں دریافت کیا گیا، جس سے یہ خدشات بڑھ جاتے ہیں کہ یہ نئی قسم منظرعام پر آنے سے ہفتوں قبل گردش کررہی تھی۔

نائیجرین طبی حکام نے بتایا کہ درحقیقت اکتوبر کے نمونوں میں اس نئی قسم کی شناخت ڈیلٹا کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے جینیاتی سیکونس کے دوران ہوئی۔

کووڈ کو شکست دینے والے افراد میں طویل المعیاد علامات کا خطرہ زیادہ ہونے کا انکشاف

کورونا وائرس کو شکست دینے والے متعدد افراد کو طویل المعیاد بنیادوں پر مختلف علامات کا سامنا ہوتا ہے اور ان میں ہر وقت تھکاوٹ بہت عام مسئلہ ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ماؤنٹ سینائی کے ایشکن اسکول آف میڈیسین کی اس تحقیق میں بیماری کو شکست دینے کے کئی ہفتوں یا مہینوں بعد تک مختلف علامات کا سامنا کرنے والے افراد جن کے لیے لانگ کووڈ کی اصطلاح بھی استعمال ہوتی ہے، میں مختلف علامات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

تحقیق میں لانگ کووڈ کے 41 مریضوں کو شامل کیا گی اتھا اور دریافت ہوا کہ ان میں سے لگ بھگ 50 فیصد کو بخار، درد، تھکاوٹ اور ڈپریشن کی علامات کا سامنا ہوتا ہے اور یہ سب دائمی تھکاوٹ کے سینڈروم سے منسلک کی جاتی ہیں۔

دائمی تھکاوٹ طبی شعبے میں ایسی بیماری کو کہا جاتا ہے جس میں شدید تھکاوٹ کی وضاحت نہیں ہوتی مگر اس سے مریض کی روزمرہ کی زندگی کی سرگرمیاں کم از کم 6 ماہ تک متاثر ہوتی ہیں۔

محققین نے بتایا کہ دائمی تھکاوٹ کے ساتھ عموماً کئی مسائل کا سامنا بھی ہوتا ہے جن میں بے چین نیند، خسرہ، ذہنی افعال میں کمی یا ذہنی دھند، سر چکرانا، مسلز میں تکلیف اور گلے کی سوجن قابل ذکر ہیں۔

امریکا میں ایک اندازے کے مطابق 8 سے 25 لاکھ افراد کو اس سینڈروم کا سامنا ہے جن میں سے ای کتہائی میں یہ مسئلہ کسی وائرل بیماری کے بعد نمودار ہوا۔

محققین نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم یہ دریافت کرنے حیران رہ گئے کہ ہماری تحقیق میں شامل لگ بھگ 50 فیصد افراد کو دائمی تھکاوٹ کے سینڈروم کا سامنا ہے۔

اس تحقیق میں شامل افراد کی عمریں 23 سے 69 سال کے درمیان تھی جبکہ ان میں کووڈ کی ابتدائی تشخیص کو 3 سے 15 ماہ ہوچکے تھے اور اسے وجہ سے انہیں لانگ کووڈ کا شکار تصور کیا گیا، یعنی بیماری کو شکست دینے کے بعد بھی مکتلف طبی مسائل کا سامنا کررہے تھے۔

ہر 10 میں سے 9 مریضوں کو بغیر کسی وجہ کے سانس لینے میں مشکلات کے تسلسل کا سامنا ہوا جبکہ عام جسمانی سرگرمیوں کے دوران دمہ کے مریضوں کی طرح سانس پھول جاتا۔

اگرچہ طویل المعیاد علامات کا سامنا کرنے والے افراد میں یہ نیا مسئلہ نہیں ہوتا مگر ان مریضوں میں اسے بغیر وضاحت کا قرار دیا گیا کیونکہ کسی بھی مریض کے کووڈ سے پھیپھڑوں یا دل کو نقصان نہیں پہنچا تھا۔

درحقیقت بیشتر میں بیماری کی شدت معمولی تھی اور انہیں ہسپتال میں داخلے یا علاج کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔

ان مریضوں میں علامات کی وجوہات کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے محققین نے ورزش اور روزمرہ کے معمولات کے ذریعے ان کے سانس کے نظام کی جانچ پڑتال کی۔

ان افراد سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ تھکاوٹ کے رجحانات کے بارے میں بھی بتائیں جن کا سامنا انہیں 6 ماہ کے دوران ہوا جبکہ جوڑوں کی اکڑن، مسلز میں تکلیف، نیند اور توجہ مرکوز کرنے کے مسائل سمیت دیگر کو رپورٹ کرنے کا بھی کہا گیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 45 فیصد افراد کو لانگ کووڈ کا سامنا ہوا اور زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ زیادہ تر کیسز میں کووڈ کی شدت معمولی تھی اور انہیں کسی قسم کے جان لیوا خطرے کا سامنا نہیں ہوا۔

محققین نے کہا کہ بنیادی طور پر کووڈ سے متاثر ہر فرد کو لانگ کووڈ کا خطرہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی وہ مسئلے کی وجوہات کا تعین کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر ہسپتال میں داخل نہ ہونے والے ایک فیصد مریضوں کو بھی طویل المعیاد بنیادوں پر کم از کم ایک علامت کا سامنا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کووڈ کے کیسز کی تعداد کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ لانگ کووڈ کے خطرے کا سامنا کروڑوں مریضوں کو ہوسکتا ہے۔

درحقیقت انہوں نے کہا کہ لانگ کووڈ کے بیشتر افراد میں علامات کی شدت اتنی زیادہ ہوتی ہے جتنی ابتدائی بیماری میں بھی نہیں تھی۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جے اے سی سی ہارٹ فیلیئر میں شائع ہوئے۔

منبع: ڈان نیوز

The post کورونا کی نئی قسم اومیکرون ڈیلٹا سے زیادہ متعدی ہوسکتی ہے، ڈبلیو ایچ او appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے