تحریر علیم عُثمان
بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ ہفتے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس سے پہلے “نُون لیگ” کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اسلام آباد میں “آبپارہ” کے نئے میزبان سے خفیہ ملاقات کی جو “مہمان” یا ملاقاتی کے نقطہ نظر سے ناکام ٹھہری.
کس نے “نُون لیگ” کو اسمبلیوں سے استعفے دینے کا “گرین ؍سگنل” نہیں دیا؟
وزیراعظم عمران کی زیر قیادت قائم پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کی 2023 سے قبل رخصتی یعنی ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کی صورت میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف کو “آب پارہ” کے نئے میزبان نے مبینہ طور پر کوئی حوصلہ افزاء جواب نہیں دیا. ذرائع کے مطابق “نئے میزبان” کو جب اس حوالے سے کریدنے کی کوشش کی گئی کہ اگر متحدہ اپوزیشن پارلیمنٹ سے باہر آ جاتی ہے تو کیا “ادارہ” ان کا ساتھ دے گا یا ان کی زیر قیادت کسی عبوری سیٹ اپ کی تشکیل میں مدد کرے گا تو ذرائع کے مطابق “نئے میزبان” نے جواب میں کہا “نہیں ، ھم غیر جانبدار رہیں گے” جسے “مہمان” شہباز شریف نے ایک غیر واضح یا دوسرے لفظوں میں “حوصلہ شکن” جواب سے تعبیر کیا چنانچہ اس “ناکام ملاقات” کے بعد ہونے والے پی ڈی ایم کے سربراہ اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے دینے سے پیچھے ہٹ گئی اس سے قبل “متوقع وزیراعظم ” گزشتہ ماہ جی ایچ کیو میں طاقتور ترین شخصیت سے “ون آن ون ملاقات” کر کے “پرواز” کا حوصلہ پکڑ چکے تھے تاھم 19 نومبر کی “کمان تبدیلی” کے بعد صورت حال بدل چکی تھی.
رانا شمیم عدالت میں جا کر مہلت لے لی؟
قانونی حلقوں کا خیال ھے کہ گلگت بَلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں گول مول بیان دے کر فی الحال مہلت حاصل کی ہے، ذرائع کا خیال ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہی میں زیر التوا شریف فیملی کی اپیلوں میں وہ اپنے بیان کی واضح لفظوں میں تصدیق کریں گے. جس میں انہوں نے جسٹس (ر) ثاقب نثار بارے اپنے حلفیہ بیان کی نہ تصدیق کی نہ تردید. ذرائع کا دعویٰ ھے کہ سابق چیف جج گلگت بَلتستان رانا شمیم نے لندن میں قیام کے دوران سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے بڑے صاحبزادے حسین نواز سے ملاقات بھی کی تھی جس میں انہیں جسٹس (ر) ثاقب نثار کا وہ آڈیو بیان بھی سنوایا گیا تھا جو امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی احمد نورانی نے 21 نومبر کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کیا.
سابق چیف جج گلگت بَلتستان رانا شمیم کے تہلکہ خیز بیان نے وزیراعظم عمران خان کی زیر قیادت قائم پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کو ہلا کے رکھ دیا تھا، پندرہ نومبر کی صبح انگریزی روزنامہ “دی نیوز” اور روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی انصار عباسی کی اسٹوری سے طاقت کے مراکز میں ایسا بھونچال آیا کہ پرائم منسٹر ہاؤس سے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو فی الفور چیف سیکرٹری بلوچستان سے رابطہ کر کے سابق چیف جج رانا شمیم بارے 24 گھنٹے میں رپورٹ منگوانے کی ہدایت کی گئی. لندن میں مقیم رانا شمیم ایک حلفیہ بیان کی صورت میں یہ انکشافاتی اسٹوری ایسے وقت میں منظر عام پر لائے جب ایک طرف تو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف کی اپیلوں کی سماعت آگے بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف مقتدر حلقوں کی جانب سے لندن ہی میں مقیم مسلم لیگ (نون) کے “جلا وطن” قائد نوازشریف کے ساتھ معاملہ کرنے کی مبینہ کوششوں کی خبریں گرم ہیں. سابق وزیراعظم اور ان کی دختر مریم نواز جو نون لیگ کی مرکزی نائب صدر بھی ہیں اور اس وقت پاکستان میں عملاً پارٹی کی قیادت کر رہی اور نواز شریف کے سخت گیر بیانیہ کو آگے بڑھا رہی ہیں، نے 2017 میں اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت سے سنائی گئی سزاؤں کو چیلنج کر رکھا ھے جبکہ نیب نے دونوں باپ بیٹی کو ایک دوسرے نیب ریفرنس میں بری کر دیئے جانے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ھے. اس سیاسی تناظر میں ایسی اطلاعات کی گونج میں اس مقدمے اور رانا شمیم کے انکشاف کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوئی جن کے مطابق مقتدر حلقوں نے سابق وزیراعظم کو یقین دلا دیا ھے کہ اعتماد سازی کے پہلے قدم کے طور پر ان کی شرط اول کی روشنی میں ان کی سیاسی عزت بحال کی جائے گی اور اعلیٰ عدالتوں سےان کی بریت اور نااہلی کے جاتمہ کی راہ ہموار کر دی جائے گی.
پرائم منسٹر ہاؤس کی ہدائت پر چیف سیکریٹری گلگت بَلتستان فوراً حرکت میں آگئے جن کے طلب کرنے پر وفاقی سطح کی ایک خفیہ ایجنسی نے 16 نومبر کو سابق چیف جج، گلگت بَلتستان بارے رپورٹ پیش کر دی تاھم اس رپورٹ میں بعض ایسے انکشافات بھی شامل تھے جن کے مطابق وہ ایک “سیلف میڈ” شخص ہیں اور اگر وہ امریکہ یا کسی بھی ترقی یافتہ یعنی کسی مغربی معاشرے میں ہوتے تو اترا اترا کے اپنا ماضی بتاتے. خفیہ رپورٹ کے مطابق انہوں نے عملی زندگی کا آغاز ضلع ساہیوال کی ایک تحصیل، ایک چھوٹے سے قصبے عارف والا میں ایک کسان کے طور پر کیا. “یہ شخص اپنے آبائی قصبے عارف والا میں ابتداء میں ” چھلّیاں” یعنی بُھٹے اور خربوزے کاشت کرتا تھا اور یہی اس کا ذریعہ معاش تھا.
بعد ازاں وہ جب بطور وکیل ساہیوال میں پریکٹس کرتے تھے تو 2015 میں عارف والا ہی سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن منیر احمد خاں نے اُنہیں اسی طرح سیاسی بنیادوں پر گلگت بَلتستان کی چیف کورٹ میں جج لگوا دیا جس طرح اس سے گزشتہ یعنی پیپلزپارٹی کے “زرداری دور حکومت” میں ساہیوال ہی کے رانا ارشد کو چیف جج، گلگت بَلتستان لگوایا تھا.
