اسلام آباد (خبر ایجنسیاں ) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ اپوزیشن تھکے ہوئے پہلوانوں کا اجتماع ہے۔ پنجاب کا نیابلدیاتی ایکٹ اگلے چند روز میں منظور ہوجائے گا، ای وی ایم پر الیکشن کروانے سے انتخابات سستے ہوں گے،الیکشن کمیشن ای وی ایم پر انتخابات کروانے کیلیے درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کی زیر
صدارت پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی کمیٹیاں بھی بنائی ہیں، اگلے عام انتخابات بھی ای وی ایم پر ہوں گے، الیکشن کمیشن کو ای وی ایم سے متعلق جو بھی مدد چاہیے ہوگی حکومت فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں 0.67 فیصد کمی آئی ہے، مہنگائی کے بین الاقوامی اثرات کو کم کریں گے، آنے والے دنوں میں مہنگائی میں کمی کا عوام کو جلد فائدہ پہنچے گا۔مہنگائی پر ایک رپورٹ آتی ہے ، سی پی آئی انڈیکس کا ڈیٹا موجود ہے، شاہد خاقان عباسی کو چاہیے سی پی آئی کو سمجھنے کی کوشش کریں،پچھلی حکومتیں درست پالیسیاں بناتیں تو آج مہنگائی نہ ہوتی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن تھکے ہوئے پہلوانوں کا اجتماع ہے،پانچ چوہے گھر سے نکلے، کرنے چلے شکار، اب ایک چوہا بچ گیا ہے۔اپوزیشن انتخابی اصلاحات کی طرف نہیں آنا چاہتی، اپوزیشن موجودہ نظام سے مطمئن ہے۔ فوادچودھری نے کہا قیمتوں کے حساس اشاریہ انڈیکس میں 40 فیصد اعداد و شمار کراچی سے آتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی 157 ارب روپے کا قرضہ چھوڑ کر گئے۔جو پالیسیاں انہوں نے دیں اور قرضے حاصل کیے، آج تک ہم ان سے باہر نہیں نکل پا رہے۔ انہوں نے کہا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اپوزیشن شرکت کے لیے تیار نہیں، یہ تھکے ہوئے پہلوانوں کا ٹولہ ہے۔ فواد چودھری نے کہ احساس پروگرام اور صحت کارڈ پروگرام بڑا منصوبہ ہے، پنجاب کیلیے صحت کارڈ کا ساڑھے تین سو ارب کا پراجیکٹ ہوگا۔پنجاب کے تمام لوگوں کو دس لاکھ روپے تک علاج کی سہولت میسر ہوگی۔ہماری خواہش ہے کہ بلوچستان اور سندھ حکومتیں بھی اس پروگرام کا حصہ بنیں، بلوچستان نے آمادگی ظاہر کر دی ہے، سندھ نے ابھی تک آمادگی ظاہر نہیں کی۔سندھ حکومت کا کردار عوام مخالف ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ مفت علاج کی سہولت ہر پاکستانی کا حق ہے۔سندھ حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس پروگرام میں شامل ہو تاکہ ہر آدمی کو اس کا فائدہ پہنچے، فواد چودھری نے کہا یہ پہلا ایسا پروگرام ہوگا جس میں وزیروں اور مشیروں کو فائدہ نہیں ہوگا، شاید سندھ حکومت اسی لیے پریشان ہے۔
