English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

رانا شمیم نے اصل بیان حلفی پیش نہ کیا تو فرد جرم عائد کریں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد: ہائیکورٹ نے بیان حلفی کیس میں ریمارکس دیے ہیں ہے کہ اگر پیر تک رانا شمیم کا بیان حلفی نا آیا تو ان پر فرد جرم عائد کریں گے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں سابق چیف جج گلگت بلتستان راناشمیم کے مبینہ بیان حلفی کی خبرپرتوہین عدالت کے کیس کی سماعت  ہوئی جس سلسلے میں رانا شمیم ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور شوکاز کا جواب داخل کرایا۔

سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ جواب ابھی تک عدالت میں تو داخل نہیں ہوا۔

عدالت نے رانا شمیم سے استفسار کیا کہ آپ نے اپنا جواب جمع کرایا ہے؟، رانا شمیم نے عدالت کو بتایا کہ میں نے چار دن پہلے جواب دے دیا تھا، وہ جواب عدالت میں لطیف آفریدی صاحب کو جمع کرانا ہے، انہوں نے کہا کہ میرے وکیل راستے میں ہیں وہ ابھی پہنچنے والے ہیں۔

چیف جسٹس نے عدالتی معاون فیصل صدیقی سے سوال کیا کہ خبرشائع کرنے پر مختلف ذمہ داروں کی کیا ذمہ داری ہے؟ ہم نے صحافت سے متعلق بین الاقوامی معیارات کو بھی دیکھنا ہے۔ عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ یہ پرائیویٹ ڈاکومنٹ تھا، انہوں نے شائع کرنے کے لیے نہیں رکھا تھا، رانا شمیم کا کہنا ہے کہ پبلش ہونے کے بعد مجھ سے رابطہ کیا گیا، جبکہ خبر دینے والے صحافی کا کہنا ہے کہ اس نے خبر شائع ہونے سے پہلے رابطہ کیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک بیانیہ بننا شروع ہو گیا تھا کہ ایک خاص آدمی کو الیکشن سے پہلے ضمانت نہیں دی جائے گی کیونکہ ججز دباؤ میں ہیں، سابق جج رانا شمیم نے تین سال بعد بیان حلفی دیا اور جس جج کا کہا وہ اس دوران چھٹی پر تھا، اس دوران جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب موجود تھے، دو ہفتے کے بعد ایک اور بنچ جس میں میں موجود تھا، اس نے ریلیف بھی دیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ججز پریس کانفرنس نہیں کر سکتے، میں دعوے اور اعتماد سے کہہ سکتا ہوں اس عدالت کے ججز کو کوئی اپروچ نہیں کرسکتا، میرے کسی جج نے کسی کے لیے دروازہ نہیں کھولا، اگر انہوں نے کہیں پر اوریجنل ڈاکومنٹ جمع نہیں کرایا تو وہ عدالت میں پیش کریں، اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ اس عدالت پرعوام کا اعتماد ختم کیا جائے، کوئی آزاد جج یہ عذر پیش نہیں کرسکتا کہ اس پر کوئی دباؤ تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میں نے رانا شمیم سے پوچھا انہوں نے یوکے میں کیوں بیان حلفی دیا؟ اگر ان کا ضمیر جاگ گیا تھا تو کسی فورم پر جمع کراتے ؟ اس کا مقصد کیا تھا ؟ لاکر میں تو کوئی نہیں رکھتا، آپ کے کلائنٹ نے ثابت کرنا ہے ان کا عمل بدنیتی پر مبنی نہیں تھا ، کوئی جج یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ پریشر میں تھا اگر پریشر لیتا ہے تو وہ آزاد جج نہیں ہے، اگر جج کے اندر اعتماد نہیں تو کسی اور پر اس کا الزام نہیں لگا سکتا ، یہ میرا احتساب ہے میری ہائی کورٹ کا احتساب ہے ہم سب کو Accountable ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ اصل بیان حلفی کدھر ہے؟۔ رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی نے جواب دیا کہ بیان حلفی برطانیہ میں ان کے پوتے کے پاس ہے، لیکن میرے کلائنٹ کا اپنے پوتے سے رابطہ نہیں ہو پارہا۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ جہاں بھی ہے اصل بیان حلفی آپ دیکھا دیجئے گا، اگر کسی اور مقصد کے لیے بیان حلفی تھا اور شائع کرنے کے لیے بھی نہیں دیا تو اس کے اثرات دونوں پر ہوں گے، آپ کا کلائنٹ اصل بیان حلفی جمع کرانے سے ہچکچا رہا ہے ۔

لطیف آفریدی نے کہا کہ رانا شمیم نے بیان حلفی سے انکار نہیں کیا، تاہم انہوں نے بیان حلفی شائع ہونے کے لیے نہیں دیا، رانا شمیم کے پوتے کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے کہا کہ برطانیہ میں کون اسے ہراساں کر سکتا ہے؟۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ینگ مین کو یوکے میں کس نے ہراساں کیا ہے؟ کون ان کو ہراساں کر رہا ہے، یہ اب انہیں بتانا ہو گا کہ پاکستان سے باہر انہیں کون ہراساں کر رہا؟ انہیں بیان حلفی پاکستانی سفارتخانے کو دینا تھا، اصل بیان حلفی کہاں ہے ، آج سماعت میں بیان حلفی نا ہونے کا تاثر ابھرا ہے۔

وکیل لطیف آفریدی نے کہا کہ ان کو جانے دیں وہ اصل بیان حلفی لے آئیں گے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نہیں نہیں وہ نہیں جا سکتے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پیر تک اصل بیان حلفی پیش نہ کیا گیا تو فرد جرم عائد کی جائے گی۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے