English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فیصل آباد؛ دکان پر چوری کے الزام میں 2خواتین کو بازار میں سر عام برہنہ کر کے تشدد، ویڈیو وائرل

فیصل آباد کے تھانہ ملت ٹائون کے علاقہ باوا چک میں دکان سے چوری کرنے کے الزام میں 2خواتین کو برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دونوں کو دکان میں بند کر دیا، تشدد کی ویڈیو وائرل ہو گئی۔

پولیس ترجمان کے مطابق متاثرہ خواتین کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ وہ ملت ٹاؤن کے علاقے میں کاغذ چننے کے لیے گئی تھیں جہاں چاروں خواتین پانی پینے کے لیے ایک الیکٹرک اسٹور میں داخل ہو ئیں۔

خواتین نے بتایا کہ الیکٹرک اسٹور کے مالک صدام اور تین ملازمین نے انہیں چوری کے الزام میں محبوس بنا لیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے، اس دوران مزید افراد بھی وہاں آگئے اور تشد د کے دوران انہیں دکان سے باہر بازار میں لے گئے جہاں انہیں برہنہ کر دیا گیا اور ملزمان برہنہ حالت میں ویڈیو بناتے رہے اور ان پر تشدد بھی کرتے رہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو خواتین کو بازار میں سر عام برہنہ کرکے ان پر تشدد کیا گیا، اس دوران وہ چیختی چلاتی رہیں، ایک خاتون نے کپڑا پکڑ کر جسم ڈھانپنے کی کوشش کی مگر تشدد کر کے وہ کپڑا بھی ہٹا دیا گیا، ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کسی نے ان کے جسم پر کپڑا نہیں دیا اور نہ ہی تشدد کرنے والوں کو روکا۔ (ویڈیو انتہائی نازیبا ہونے کی وجہ سے نہیں دکھائی جاسکتی)

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائر ہوئی جس کے بعد پولیس کی دوڑیں لگ گئیں۔ ایس ایچ او نے حقائق چھپانے کی کوشش کی تاہم سی پی او ڈاکٹر عابد خان اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن فراز احمد خود موقع پر پہنچ گئےجبکہ تینوں ملزم حراست میں لے لئے گئے۔

پولیس کے مطابق مقامی افراد کی جانب سے اطلاع ملنے پر کارروائی کرکے الیکٹرک اسٹور کے مالک سمیت تین ملزمان کو حراست میں لے لیا جب کہ سی پی او فیصل آباد کے حکم پر خواتین کو محبوس بنانے اور تشدد کے الزام میں چار نامزد اور 8 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔

پنجاب پولیس نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ فیصل آباد پولیس نے رات 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا، مزید کاروائی کرکے پانچوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس واقعہ کی دیگر تمام پہلوؤں سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔ آئی جی پنجاب خواتین اور بچوں پر تشدد اور ہراسگی کے واقعات پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے