English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جن صحافیوں کو تنخواہیں نہیں ملیں وہ عدالت میں درخواست دائر کریں، شیریں مزاری

القمر

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون بنانا ہماری ترجیحات میں سے ایک تھا اس بل کے تحت جن صحافیوں کو تنخواہیں نہیں ملی وہ عدالت میں درخواست دائر کرسکتے ہیں۔

اسلام آباد میں صحافیوں کے تحفظ سے متعلق قانون کےحوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کاکہنا تھا کہ ہم انتخابات جیتنے سے قبل بھی صحافیوں کے تحفظ کے بل کے حوالے سےکام کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی کہہ چکی ہیں کہ صحافیوں کا انشورنس ہونا چاہیے اور میڈیا اداروں کے مالکان کو چاہیے کہ طویل المدت معاہدہ کرنے والے ملازمین کے ساتھ شارٹ ٹرم کنٹریکٹ رکھنے والے ملازمین کو بھی سہولیات فراہم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قانون مکمل نہیں ہوتا ہر چیز میں بہتری کی ضرورت ہوتی ہے لیکن فی الحال یہ قانون بن چکا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ صحافی حضرات اس کا بغور مطالعہ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے قانون کے مطابق جن صحافیوں کو تنخواہیں نہیں ملیں وہ عدالت میں درخواست دائر کر سکتے ہیں، اور اب اس قانون کے قواعد بننے ہیں، جیسے ہی ہمیں قانون کا نوٹس موصول ہوگا رولز تیار کر لیے جائیں گے۔

شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ اس قانون کی تجویز فواد چوہدری نے دی تھی اور کہا تھا کہ آپ جرنلسٹ پروٹیکشن بل بنائیں، جس کے بعد بل آگے بڑھایا گیا اور اس میں وزارت اطلاعات نے ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا۔

انہوں نے کہاکہ اس قانون کی تکمیل کا سہرا وزیر اعظم عمران خان کو جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا نے یہ قانون بنانے میں مدد کی ہے اور اس کی نفاذ میں بھی ہمیں میڈیا کی مدد درکار ہے۔

‘سخت ایکشن لینے کا وقت آگیا، حکومت کی توجہ قوانین کے نفاذ پر ہے’

سیالکوٹ میں سری لنکن مینیجر کو تشدد کے بعد قتل اور لاش جلانے کے واقعے کے حوالے سے وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ ہمیں اپنے قوانین کا دوبارہ جائزہ لینا ہے اور دیکھنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر کہاں عملدرآمد نہیں ہورہا۔

انہوں نے کہا کہ قوانین موجود تھے اور متعدد قوانین ہماری حکومت سے پہلے کے تھے لیکن گزشتہ حکومتوں میں ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کی توجہ قوانین پر عملدرآمد پر ہے، جن قوانین میں کوئی خلا ہے اسے دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

سیالکوٹ واقعے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کس طرح ہجوم نے تشدد کیا اس پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے کہاں تھے اور وقت پر کیوں نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ چیزیں سامنے آرہی ہیں کہ ہجوم نے کیوں اور کس طرح تشدد کیا، لوگوں کی نشاندہی ہوگئی، گرفتار ہوگئے ہیں جن میں سے کچھ آج عدالت میں پیش ہوئے ہیں اور امید ہے کہ عدالتیں بھی اس سلسلے میں سختی سے قانون کو لاگو کریں گی۔

ایک سوال کے میں انہوں نے کہا کہ ہمیں لوگوں کی ذہنیت بدلنی ہے جس کے لیے پورے معاشرے کا تعاون چاہیے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاہم سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ قانون نافذ ہو، سختی سے ہو اور جلد از جلد ہو تا کہ قوم اور دنیا کو صحیح پیغام جائے کہ جو شہری اس قسم کا کام کریں تو پاکستان اس کی مذمت کرتا ہے اور سزا دیتا ہے۔

اسی حوالے سے انہوں نے کہا مجرموں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے، اس قسم کے واقعات بالکل ناقابل قبول ہیں اور اس طرح لوگوں کو جلا کر مار کر مذہب کی توہین کرنا بالکل غلط اور انسانیت کے خلاف ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اصل چیز یہ ہے کہ اب ہمیں ایکشن لینا ہے، اپنے قوانین کا دوبارہ جائزہ لینا ہے اور دیکھنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر کہاں عملدرآمد نہیں ہورہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کو نافذ کرنا ہے، جو سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد تشکیل دیا گیا تھا لیکن ابھی تک اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوسکا، ہمارا فرض ہے اسے سختی سےنافذ کریں تاکہ ہمارے معاشرے میں اس قسم کا تشدد نہ ہو۔

شیریں مزاری نے کہا کہ سیالکوٹ کا بھیانک واقعہ پوری قوم کے لیے ایک شرمناک دن تھا کہ ہم دنیا کے سامنے خود کو کس طرح پیش کررہے ہیں جبکہ ہم ایک مسلمان ملک ہے، اسلام مذہب اور رواداری کا مذہب ہے۔

انہوں نے کہا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ سیالکوٹ کا واقعہ اس قسم کا پہلا واقعہ نہیں ہے، مشال خان، مسیحی جوڑے کو جلانے اور دیگر کئی واقعات اس سے پہلے بھی ہوچکے ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم اور بحیثیت ریاست سختی سے ایکشن لیں کہ ایسے واقعات نہ ہوں اور کریں انہیں قانون کے دائرے میں سخت سے سخت سزا دی جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں ساری شقیں بہت واضح ہیں، ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے جس کی ہم کافی عرصے سے کوشش کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوجداری قانون پر نظرِ ثانی اور اسے ٹھیک کرنے کے لیے گزشتہ حکومت کو 2 سال دیے گئے تھے لیکن انہوں نے اس کا آغاز ہی نہیں کیا، اب ہم نے کردیا ہے اور ایک سے ڈیڑھ مہینے میں پورے قانون کو دوبارہ لکھا اور ٹھیک کیا جارہا ہے۔

شیریں مزاری نے کہا کہ تمام چیزوں کا جائزہ لیا جائے گا اور اس پر کابینہ میں بحث بھی ہوگی جس کے بعد پالیسی جاری کی جائے گی۔

‘سانحہ پر مولانا فضل الرحمٰن کا بیان شرمناک تھا’

سیالکوٹ واقعے پر مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر ان کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی جماعت کا اس طرح کا بیان شرمناک ہے اور وہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ ہیں تو پی ڈی ایم جماعتوں کو چاہیے کہ ان کے بیان اور سربراہی سے خود کو الگ کریں۔

انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہر سیاسی جماعت یہ دیکھے کہ اس کے رہنما کیا کہہ رہے ہیں، کیا وہ اس طرح کی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کے بیان سے متعلق سوال کے جواب میں شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور اپنے بیان کی وضاحت بھی کی ہے کہ میرے یبان کو غلط سمجھا گیا ہے، اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ اس پر توجہ کرنی چاہیے کہ جو انہوں نے کہا وہ غلط سمجھا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ہمارے وزیراعظم اور کابینہ کا مؤقف بہت واضح ہے اور اگر کوئی فرد اس سے ہٹ کر یا اس کے خلاف بات کرتا ہے تو ہماری حکومت کا مؤقف نہیں ہے۔

خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ بل منظور

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ (ترمیمی) بل 2021 کی منظوری دے دی، بل میں مجرموں کو سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ کام کی جگہ کی تعریف کو مزید وسیع کرنے اور عدالتوں کو ایسے مقدمات کا 90 روز میں فیصلہ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔

اجلاس میں کمیٹی کے ارکان نے بل کا شق وار جائزہ لیا اور خواتین کارکنوں اور ماہرین قانون سے مشاورت کرنے کے بعد وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کی جانب سے پیش کی گئیں شقوں میں اپنی سفارشات شامل کرنے پر اتفاق کیا۔

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر شیری مزاری نے کہا کہ پچھلے ایکٹ میں ملازم، کام کی جگہ اور ہراساں کرنے کی تعریفیں بہت محددو تھیں جبکہ مجوزہ بل میں قانون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تعریفوں کو وسیع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے ترامیم میں کچھ خامیوں کی نشاندہی کی اور انہیں دور کرنے کو کہا، انہوں نے اعتراف کیا کہ پچھلا قانون محدود تعریفوں کی وجہ سے کچھ معاملات کو حل نہیں کر رہا تھا۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی کے ارکان نے بالآخر بل منظور کرلیا، بل کو اب حتمی منظوری کے لیے سینیٹ میں واپس بھیجا جائے گا۔

مجوزہ بل میں کھیلوں میں حصہ لینے اور آن لائن کام کرنے والی خواتین کے تحفظ کو بھی قانون کا حصہ بنایا گیا ہے، اس کے علاوہ قانون کا دائرہ کار جامعات اور آرٹ اسٹوڈیوز تک بڑھا دیا گیا ہے، مجوزہ قانون کے تحت گھروں میں کام کرنے والی خواتین کو ہراساں کرنا بھی جرم ہوگا۔

مجوزہ بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ ہراساں کرنے میں ملوث پائے جانے والے سرکاری ملازم کو نوکری سے برخاست اور پروموشن معطل کرنے کی سزا دی جا سکتی ہے جبکہ پیشہ ورانہ شعبوں سے وابستہ افراد کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں۔

نئے قانون کے تحت صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک بھی قابل سزا جرم ہوگا، پارلیمنٹ سے منظور ہونے کی صورت میں عدالتوں کو 90 دنوں کے اندر ہراساں کرنے کی درخواستوں کا فیصلہ کرنا ہوگا۔

بل کے ساتھ منسلک دستاویزات کے مطابق، مجوزہ قانون کا مقصد موجودہ قانون میں موجود خامیوں کو دور کرکے افرادی قوت میں خواتین کی بڑھ چڑھ کر شمولیت کو آسان بنانا ہے۔ مجوزہ بل قانون کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتا ہے تاکہ بعض پیشوں اور روزگار کے ماڈلز کو شامل کیا جا سکے جن کا موجودہ قانون واضح طور پر ذکر نہیں کرتا۔

مجوزہ ترامیم کے بعد بل کے ہر قسم کے رسمی اور غیر رسمی کاموں میں مصروف لوگوں کو ہراساں کرنے سے تحفظ فراہم کیا جائے گا، ترمیمی بل کام کی جگہ پر ہونے والی مختلف قسم کی ہراسانی کے حوالے سے بھی وضاحت فراہم کرے گا۔

بل میں ترمیم کا مقصد اپنے شہریوں کے لیے پاکستان کی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنا اور انہیں ان کے وقار کی ضمانت دینا ہے جبکہ پیشوں میں جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی روک تھام اور کام کی جگہ پر خواتین کی شرکت میں اضافے کا ہدف حاصل کرنا ہے۔

قائمہ کمیٹی کی سانحہ سیالکوٹ کی مذمت

اجلاس کے آغاز میں کمیٹی کے چیئرمین ولید اقبال کی تجویز پر اراکین نے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی اور گزشتہ ہفتے سیالکوٹ میں شہریوں کے تشدد سے ہلاک ہونے والے سری لنکن شہری کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد منظور کی۔

قرارداد کے ذریعے کمیٹی نے 3 دسمبر 2021 کو سیالکوٹ میں سری لنکا کے شہری پریانتھا کمارا دیاوادنا کے افسوسناک انتقال پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور مرحوم کے اہل خانہ ،سری لنکا کی حکومت اور عوام کے ساتھ دلی تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ اس گھناؤنے جرم کو انجام دینے والے پرتشدد ہجوم کی جانب سے ظلم کی مذمت کرتے ہیں اور ریاست کے تمام اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان مجرموں کو قانون کےمطابق سخت سزا دی جائے اور معاشرے میں بڑھتے عدم برداشت کے رجحان کو روکنے کے لیے ٹھوس قدم اٹھائےجائیں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سیمی ایزدی، فلک ناز، قرۃ العین مری، طاہر بزنجو، مہر تاج روغانی، گوردیپ سنگھ، عابدہ محمد عظیم اور فیصل سبزواری نے شرکت کی جبکہ سینیٹرز کیشو بائی اور شیری رحمٰن خصوصی دعوت پر شریک ہوئیں۔

منبع: ڈان نیوز

The post جن صحافیوں کو تنخواہیں نہیں ملیں وہ عدالت میں درخواست دائر کریں، شیریں مزاری appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے