English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

‘یوکرین پر فوجی جارحیت کا جواب سخت اقتصادی پابندیوں کی صورت دیں گے’: صدر بائیڈن

القمر

امریکہ کے صدر جوبائیڈن اور روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے منگل کو دو گھنٹے اور ایک منٹ تک وڈیو لنک کے ذریعے ورچوئل سربراہ اجلاس کیا، جس دوران مذاکرات میں یوکرین اور دیگر امور پر ایسے میں گفتگو کی ہے جب مغربی ممالک اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ روس اپنے ہمسایہ جنوبی ملک پر حملے کے لیے تیار نظر آ رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر بائیڈن نے وسیع تر معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر بائیڈن نے اس موقع پر امریکہ اور یورپی اتحادیوں کی جانب سے یوکرین کی سرحد کے نزدیک روس کی فوجوں میں اضافے پر گہری تشویش کا احاطہ کیا اور صدر پوٹن پر واضح کیا کہ روس اگر کسی فوجی سرگرمی کا مرتکب ہوا تو امریکہ اور اس کے اتحادی سخت معاشی پابندیوں اور دیگر اقدامات کے ساتھ جواب دیں گے۔

اس سربراہ ورچوئل اجلاس میں صدر بائیڈن نے یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے لیے امریکہ کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور کشیدگی کم کرنے اور سفارتی ذرائع سے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق دونوں صدور نے اپنی اپنی ٹیموں کو یہ ذمہ داری تفویض کی کہ وہ فالو اپ جاری رکھیں اور امریکہ اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ قریبی مشاورت سے یہ فالو اپ جاری رکھے گا۔

صدر بائیڈن نے اس موقع پر روس اور امریکہ کے درمیان ’سٹریٹجک سٹیبیلیٹی‘ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ یہ مذاکرات کا ایک الگ سلسلہ ہے۔ دونوں صدور کے درمیان علاقائی مسائل پر، بشمول ایران کے، تبادلہ خیال ہوا۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز نے روسی ٹیلی وژن کے حوالے سے بتایا کہ وڈیو فوٹیج جاری کی ہے اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گفتگو کے آغاز میں صدر بائیڈن اور صدر پوٹن ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ انداز میں خیر مقدمی جملوں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ اس ورچوئل اجلاس کے بارے میں سخت مکالمے کی توقع کا اظہار کیا گیا تھا۔

صدر بائیڈن نے روسی ہم منصب سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کے درمیان اگلی ملاقات بالمشافہ ہو گی۔

رائٹر کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا امریکہ اور روس کے صدور کے درمیان بات چیت شروع ہو گئی ہے

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں صدور کے درمیان دو گھنٹے اور ایک منٹ تک گفتگو جاری رہی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، روس میں ایک ٹیلی وژن نے جو وڈیو فوٹیج جاری کی ہے اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گفتگو کے آغاز میں صدر بائیڈن اور صدر پوٹن ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ انداز میں خیر مقدمی جملوں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ اس ورچوئل اجلاس کے بارے میں سخت مکالمے کی توقع کا اظہار کیا گیا تھا۔

صدر بائیڈن نے روسی ہم منصب سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کے درمیان اگلی ملاقات بالمشافہ ہو گی۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں صدور کے درمیان دو گھنٹے اور ایک منٹ تک گفتگو جاری رہی۔

روس اور یوکرین میں معاملہ ہے کیا؟

یوکرین اور مغربی ممالک کے عہیداروں کو روس کی جانب سے یوکرین کی سرحد کے نزدیک فوجوں میں اضافے پر تشویس ہے۔ ان کو خدشہ ہے کہ فوجوں کی سرحد پر تعیناتی اور ان میں اضافہ سابق سوویت یونین کے اس پڑوسی ملک یوکرین پر روس کے حملے کا اشارہ ہو سکتا ہے۔

روس نے یوکرین کے ایک جزیرہ نما علاقے کریمیا کو سال 2014ء میں اس وقت اپنے ساتھ ضم کر لیا تھا جب یوکرین کے روس نواز صدر کو عوامی احتجاج کے سبب اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ روس یوکرین کے مشرق میں علیحدگی پسندوں کی تحریک کی بھی حمایت کرتا ہے۔

دوسری جانب روس جارحانہ ارادوں سے متعلق مغرب کی جانب سے ایسے خدشات پر مبنی مہم کی تردید کرتا ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا روس کی فوجوں میں اضافہ کسی حملے کا بڑھتا ہوا خطرہ ہے یا یہ اقدام امریکہ اور نیٹو اتحادی ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے کہ وہ یوکرین کے اندر فوج اور اسلحہ بھجوانے سے گریز کریں اور یوکرین کے نیٹو میں ادغام کے منصوبے بھی ترک کر دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے