امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی ہم منصب ولادیمیرپوٹین سے ویڈیوکانفرنس کے ذریعے یوکرین کی صورت حال پربات چیت کی ۔
صدر بائیڈن نے اس موقع پر امریکہ اور یورپی اتحادیوں کی جانب سے یوکرین کی سرحد کے نزدیک روس کی فوجوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور صدر پوٹن پر واضح کیا کہ اگر روس نے کسی فوجی مہم جوئی کا آغاز کیا تو امریکہ اور اس کے اتحادی سخت معاشی پابندیوں اور دیگر اقدامات کے ساتھ جواب دیں گے۔
اس ورچوئل اجلاس میں صدر بائیڈن نے یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے لیے امریکہ کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور کشیدگی کم کرنے اور سفارتی ذرائع سے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔
وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق، دونوں صدور نے اپنی اپنی ٹیموں کو یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ بات چیت جاری رکھیں اور امریکہ اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ قریبی مشاورت کے ساتھ یہ بات چیت جاری رکھے گا۔
صدر بائیڈن نے اس موقع پر روس اور امریکہ کے درمیان سٹریٹیجک استحکام پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
دونوں صدور کے درمیان ایران سمیت علاقائی مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
ترجمان جیک سلیون کا کہنا تھا کہ صدر بائیڈن نے روس کے صدر کو محاذ آرائی ترک کرنے اور سفارت کاری کی پیشکش بھی کی ہے ۔
واضح رہے کہ امریکہ کے صدر جوبائیڈن اور روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے منگل کو دو گھنٹے اور ایک منٹ تک وڈیو لنک کے ذریعے ایک ورچوئل سربراہ ملاقات کی ہے۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے، جب مغربی ملک اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ روس اپنے ہمسایہ ملک یوکرین پر حملے کے لیے تیار نظر آ رہا ہے۔
