ویب ڈیسک —
پاکستان نے یہ کہتے ہوئے امریکہ کی جانب سے جمہوریت کے لیے منعقد کیے جانے والے سربراہ اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ متعدد معاملات پر مل کر کام کر رہا ہے اور اس موضوع پر بھی مستقبل میں مناسب وقت پر مل بیٹھے گا۔
امریکہ نو اور دس دسمبر کو جمہوریت کے موضوع پر ورچوئل سربراہ اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے، جس میں پاکستان سمیت 100 سے زیادہ ممالک کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ”ہم امریکہ کی جانب سے اس سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت پر شکر گزار ہیں”۔
دفتر خارجہ کے بیان کے متن کے مطابق: ’’پاکستان ایک بڑی اور فعال جمہوریت ہے جہاں عدلیہ آزاد ہے، سول سوسائٹی متحرک ہے اور میڈیا آزاد ہے۔ ہم جمہوریت کی مزید مضبوطی، بدعنوانی سے جنگ، تمام شہریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے پر عزم ہیں۔ پاکستان نے حالیہ برسوں میں ان مقاصد کے حصول کے لیے وسیع تر اصلاحات متعارف کرائی ہیں اور ان إصلاحات کے مثبت نتائچ سامنے آئے ہیں‘‘۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر تعاون میں بھی فروغ کا خواہش مند ہے۔


دفتر خارجہ نے اس تحریری بیان میں کہا ہے کہ ”ہم امریکہ کے ساتھ وسیع تر معاملات پر رابطے میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم اس موضوع (جمہوریت) پر بھی مستقبل میں کسی مناسب موقعہ پر مل بیٹھیں گے”۔
بیان میں کہا گیا ہے، ”پاکستان امریکہ کے ساتھ مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے بات چیت کے عمل کو مضبوط بنانے، پائیدار تعلقات اور بین الاقوامی تعاون کے لیے کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا”۔
پیش رفت پر ماہرین کا ردعمل:
اس پیش رفت پر اسلام آباد سے عاصم علی رانا نے تجزیہ کاروں سے ان کا موقف لیا ہے۔
پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اسے ایک درست فیصلہ قرار دیا ہے:
’’میرے خیال میں یہ ایک بالکل درست فیصلہ ہے، فیصلہ کرنے کا حق ایک خودمختار ملک کو ہے کہ وہ اپنے ملک کے لیے دیکھے کہ کیا کام ان کے لیے بہتر ہے، ماضی میں حکمران سپرپاورز کی آنکھ کے اشارے کے منتظر ہوتے تھے اور جو وہ کہتے تھے اسی طرح ہو جایا کرتا تھا ، لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کے فیصلے پاکستان کے مفاد کے مطابق ہو رہے ہیں‘‘۔
شمشاد احمد خان نے کہا کہ کسی ملک کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ دوسرے ملک اس کی ایک کال پر آئیں یا نہ جائیں، پاکستان کے حکمران کو اہمیت اور عزت نہیں دی ہے تو ہم اتنے گھسے پٹے نہیں ہیں کہ ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے روانہ ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں صدر جوبائیڈن نے کہا کہ پاکستان ایک اہم ملک ہے اور پاکستان کے ساتھ عارضی نہیں بلکہ پائیدار تعلقات ہونے چاہیے، اب جوبائیڈن ماضی میں ہونے والے کام کر رہے ہیں اور پاکستان کو محض اس کانفرنس میں بلایا جارہا ہے۔ ان کے بقول اس وقت ایک دوڑ چل رہی ہے کہ سرد جنگ کے زمانے کی طرح امریکہ اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے دنیا کے ممالک کو اکٹھا کررہا ہے، اس میں نہ جانے سے پاکستان کی ساکھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ میری نظر میں یہ ایک بہترین فیصلہ ہے۔


تجزیہ کار نجم رفیق نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس میں شرکت کرنے کی بہت زیادہ ضرورت تھی تاکہ امریکہ کو پیغام جاتا کہ پاکستان امریکہ سے نارمل تعلقات چاہتا ہے اور کسی قسم کی کشیدگی امریکہ کے ساتھ نہیں چاہتا۔
انہوں نے کہا کہ ایک عرصہ سے سوال سامنے آرہا تھا کہ جوبائیڈن کو عمران خان کو فون کرنا چاہیے لیکن یہ فون کال نہیں آرہی، اس میں کچھ انا کا مسئلہ نظر آرہا ہے۔ممکن ہے کہ حکومت کے انکار کی وجہ یہ ہو کہ شاید عمران خان یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کی طرف قدم بڑھائے، پاکستان کو نہیں بلکہ امریکہ کو پہلا قدم لینے کی ضرورت ہے۔
