بھارتی ریاست ناگالینڈ کے ضلع مون میں بھارتی فوجیوںکے ہاتھوں 15 شہریوں کے بہیمانہ قتل کے بعد ناگالینڈ اور میگھالیہ کے وزرائے اعلیٰ نے اپنی اپنی ریاستوں سے آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کے بعد بھارتی پارلیمنٹ کے رکن جسٹس(ر) حسنین مسعودی نے بھی مقبوضہ علاقے میں نافذ اے ایف ایس پی اے کو کالعدم قرار دینے کے مطالبے کی حمایت کر دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن جسٹس(ر) حسنین مسعودی نے مقبوضہ علاقے اورمختلف بھارتی ریاستوں میں نافذ آرمڈ فورسز اسپیشل پاور زایکٹ (اے ایف ایس پی اے) کو کالعدم قرار دینے کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔ بھارتی ریاست ناگالینڈ کے ضلع مون میں بھارتی فوجیوںکے ہاتھوں 15 شہریوں کے بہیمانہ قتل کے بعد ناگالینڈ اور میگھالیہ کے وزرائے اعلیٰ نے اپنی اپنی ریاستوں سے آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ حسنین مسعودی نے کہا کہ کالے قانون اے ایف ایس پی اے نے مقبوضہ جموںوکشمیر کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔

