ویب ڈیسک —
امریکی فوج کے لیے سابق مترجم ایک افغان پناہ گزین کے طور پر ان خوش نصیبوں میں خود کو شمار کرتے ہیں جو کابل کے ہوائی اڈے کے باہر ہجوم میں شامل ہو کر فوجی پروازوں کے ذریعے انخلاء میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ان کے پاس سوائے کپڑوں کے کچھ نہیں تھا۔
اسرار احمد صابر 11 ہزار دیگر افغان پناہ گزینوں کے ساتھ نیو جرسی کے وسط میں واقع فوجی اڈے پر آبادکاری کے طویل مرحلے سے گزرتے ہوئے پیچھے رہ جانے والے اپنے خاندان کےافراد کے بارے میں فکر مند ہیں۔
اسرار احمد صابر 26 اگست سے وسطی نیو جرسی میں جوائنٹ بیس McGuire-Dix-Lakehurst پر رہ رہے ہیں۔ یہاں اس فوجی اڈے پر پناہ گزینوں کے لیے تین ویلیجز قائم کیے گئے ہیں۔
انتیس سالہ نوجوان شخص کا کہنا ہے کہ "وہ اپنے نئے گھروں کو جانا چاہتے ہیں اور اپنی نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس کے بارے میں واقعی پرجوش ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ عمل بہت سست ہے۔”
حکومت کے ساتھ قومی سطح پر آبادکاری کے لئے کام کرنے والے نو اداروں کو رسمی طور پر ‘آپریشن الائیز ویلکم’ کہا جاتا ہے۔
اگست سے شروع ہونے والے ‘آپریشن الائیز ویلکم’ امریکہ میں کئی دہائیوں کے عرصے میں پناہ گزینوں کی آباد کاری کی سب سے بڑی کاوش ہے۔
افغانستان سے فوجیوں کے انخلا اور امریکہ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہو چکا لیکن افغان پناہ گزین اب بھی آ رہے ہیں، ان میں ہزاروں لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے وطن میں طالبان کی انتقامی کارروائیوں اور معاشی تباہی کی خبروں کی وجہ سے خوف کا شکار ہیں۔
‘آپریشن الائیز ویلکم’ نے اس ہفتے ایک سنگ میل عبور کر لیا جب امریکی کمیونٹیز میں دوبارہ آباد ہونے والی پناہ گزینوں کی تعداد 37 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ ملک بھر کے چھ فوجی اڈوں پر پناہ گزینوں کی تعداد 35 ہزار ہے۔
لیکن، اس کوشش میں شامل لوگوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ یہ مرحلہ متعدد وجوہات کی بناء پر ایک چیلنج رہا ہے، جس میں سستی رہائش کی کمی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پناہ گزینوں کے پروگراموں میں کٹوتی شامل ہے۔
آبادکاری میں مدد کرنے والے اداروں میں سے ایک چرچ ورلڈ سروس کے سینئر نائب ایرول کیک کا کہنا ہے، "یہ سسٹم کے لیے ایک دھچکا تھا کیونکہ ایک طویل عرصے میں ہمارے پاس ایک ہی وقت میں اتنے زیادہ لوگ کبھی نہیں آئے تھے”۔
آبادکاری کی تنظیمیں، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور مرکزی وفاقی ایجنسی، پندرہ فروری تک تمام افغان پناہ گزیوں کو اڈوں سے نکال کر امریکی کمیونٹیز میں آباد کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ نیو جرسی کا فوجی اڈا اب پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد کی میزبانی کر رہا ہے، جن کی تعداد 14,500 ہے، اس کے بعد وسکونسن میں فورٹ میک کوئے میں 7,500 پناہ گزیں ہیں۔
بیرون ملک ٹرانزٹ پوائنٹس پر مزید 3,200 افراد امریکہ کے لیے پروازوں کے منتظر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اب بھی کچھ افغانستان سے نکلنے کے منتظر ہیں۔
ایرول کیک کہتے ہیں کہ "میں ڈیڈ لائن سے پہلے ہر ایک کو اڈے سے نکالنے کے امکانات کے بارے میں بہت اچھا محسوس کرتا ہوں۔
حکومت نے گزشتہ ہفتے صحافیوں کو نیو جرسی کے فوجی اڈے کا ایک گائیڈڈ ٹور کرایا، جہاں پناہ گزین اینٹوں سے بنی عمارتوں میں رہ رہے ہیں جو پہلے بیرکوں کے طور پر استعمال ہوتی تھیں یا خیمے کی طرح کے پہلے سے تیار شدہ ڈھانچے میں قیام کر رہے ہیں۔
یہاں فٹ بال کے میدان، باسکٹ بال کورٹس اور گودام ہیں جہاں پناہ گزینوں کو کپڑے اور دیگر سامان ملتا ہے۔ یہاں بچوں کے لیے کلاس رومز بھی ہیں، جو کہ آبادی کا تقریباً چالیس فی صد ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑوں کے لیے زبان سیکھنے اور ملازمت کی تربیت دی جاتی ہے اور ایک طبی کلینک بھی ہے۔
اڈے پر رہنے والے افغان پناہ گزینوں کو امیگریشن پروسیسنگ کے ساتھ ساتھ ہیلتھ اسکریننگ اور ویکسینیشن سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان میں کوویڈ نائنٹین کی ویکسین بھی شامل ہے۔ اس اڈے پر خواتین کے ہاں 100 سے زائد بچے پیدا ہو چکے ہیں۔
اسرار احمد صابر افغانستان میں ایک بھائی اور بہن کو چھوڑ کر اکیلے امریکہ آئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "یہاں پناہ گزین خوش ہیں، بس آگے بڑھنے کے لیے بے چین ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ یہاں آنا ایک خواب ہے۔
پناہ گزینوں میں نئے آنے والے بھی شامل ہیں۔ غلام ایشان شریفی، ایک مائکرو بایالوجسٹ ہیں۔ قطر میں 23 دن گزارنے کے بعد اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ چودہ نومبر کو امریکہ پہنچے ہیں۔ وہ سکون محسوس کرتے ہیں لیکن کابل میں رہ جانے والی اپنی بالغ بیٹیوں کے بارے میں فکر مند ہیں جو طالبان کے آنے سے پہلے سرکاری ملازمت کرتی تھیں۔
وہ کہتے ہیں کہ "اب ان کے پاس کوئی نوکری نہیں ہے۔ وہ باہر بھی نہیں جا سکتے۔ اس لیے ظاہر ہے کہ ہم ڈرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ ہم امید کر رہے ہیں کہ خدا اس مسئلے کو حل کرے گا۔”
انہوں نے کہا کہ وہ ڈینور کے علاقے میں آباد ہونے کی امید رکھتے ہیں۔ لیکن ابھی تک نہیں جانتے کہ ایسا ہو گا یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہمارے لیے ابھی آغاز ہے۔
ایئر فورس کرنل سلیمان راحیل نوعمری میں اپنے خاندان کے ساتھ افغانستان سے پناہ گزین کے طور پر امریکہ آئے تھے۔ وہ فوجی اڈے پر پناہ گزینوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے عارضی اسائنمنٹ پر تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ ان میں زیادہ تر نے ہماری افواج کے ساتھ کام نہیں کیا، لیکن وہ کسی نہ کسی طرح امریکی کوششوں کا حصہ رہے ہیں۔ "تو یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ یہ ان کے لیے بہت مشکل ہے۔”
راحیل نے کہا کہ وہ ان چیلنجوں کو سمجھتے ہیں جو نئے آنے والوں کو درپیش ہوں گے، کیونکہ ان کے اپنے والدین نے بھی اسی طرح کے چیلنجوں کا سامنا کیا تھا۔
وہ یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ زیادہ تر پناہ گزین ان علاقوں میں جانا چاہتے ہیں جہاں افغان کمیونٹیز موجود ہیں- خاص طور پر شمالی کیلیفورنیا، واشنگٹن ڈی سی کا علاقہ اور ہیوسٹن۔ اگرچہ پناہ گزینوں کی جانب سے اس طرح کی درخواستیں آباد کاری کی کوششوں پر دباؤ ڈال رہی ہیں اور تاخیر کا باعث بھی بن رہی ہیں۔
چیلنج کی حد کو دیکھتے ہوئے، ایجنسیوں نے ایسے گروپوں کی مدد بھی حاصل کی ہے جو عام طور پر پناہ گزینوں کے ساتھ کام کرتے ہیں، بشمول سابق فوجیوں کے گروپس اور مقامی اسپورٹس کلب جو خاندانوں کی کفالت کے لیے انہیں سپانسر کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
آبادکاری سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ اگر اس پورے عمل کو گوام جیسے امریکی علاقوں میں منتقل کر دیا جاتا یا اگر ان کی آمد کے لیے پہلے سے تیاری کرنے کے لیے زیادہ وقت مل جاتا تو آسان ہوتا۔ گوام ماضی میں اس مقصد کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
آبادکاری میں مدد دینے والے نو اداروں میں ایک اور ادارے ایچ ائی ای ایس کے صدر مارک ہٹ فیلڈ کہتے ہیں کہ "اس چیز کی منصوبہ بندی انخلا کا اعلان کرنے سے پہلے کی جانی چاہیے تھی۔
امریکہ میں پناہ گزینوں کو دوبارہ آباد ہونے کے بعد عارضی امداد ملتی ہے، زیادہ تر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خود اپنی کفالت کی اہلیت حاصل کر لیں۔ یہ اس وقت مشکل ثابت ہوتا ہے جب بہت سے لوگ اچھی طرح سے انگریزی نہیں بول پاتے یا ان کے پاس ایسی تعلیمی اسناد ہوتی ہیں جنہیں امریکہ میں تسلیم نہیں کیا جاتا اور ان کے پاس نوکری کا تجربہ بھی نہیں ہوتا۔
اسرار احمد صابر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ فوجی ترجمان کے طور پر ان کا تجربہ انہیں فوج میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرے گا۔ انہیں حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ وہ فینکس میں دوبارہ آباد ہو رہے ہیں۔ لیکن ابھی نہیں جانتے کہ کب جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ "میں صرف اپنی فلائٹ کا انتظار کر رہا ہوں۔”
