مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوب میں میں واقع الخلیل کی تاریخی مسجد ابراہیمی کی بحالی اور مرمت کے پرمکمل طور پر پابندی عائد کردی۔ مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر الشیخ حفظی ابو سنینا نے اپنے بیان میں کہا کہ قابض افواج نے تعمیر نو کمیٹی کے ملازمین کو حرم ابراہیمی میں بحالی کا کام مکمل کرنے سے روک دیا۔ ملازمین مسجد کی چھت تزئین و آرائش، اس کی دیواروں کو رنگ کرنے، پتھروں اور تاریخی اسلامی تحریروں اور فن کے دیگر کاموں کی صفائی کی کوشش کررہے تھے۔ ابو اسنینا نے اس سلسلے میں زور دیا کہ مسجد ابراہیمی کے اندر تعمیر نو کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کرنا اوقاف اور مذہبی امور کی وزارت کا اختیار ہے۔انہوں نے نشان دہی کی کہ یہ جابرانہ اقدامات قابض ریاست اور اس کے آباد کاروں کی جانب سے مقدس مقام پر اپنا تسلط جمانے کی سوچی سمجھی کوشش ہیں۔ مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر نے انکشاف کیا کہ قابض حکام نے مسجد کے بیرونی صحنوں میں کھدائی کا کام جاری رکھا ہوا ہے، تاکہ اس کے تاریخی اور مذہبی تشخص کو ختم کیا جاسکے۔ دوسری جانب جرمن خبررساں ادارے ڈوئچے ویلے کی صہیونیت نوازی کی انتہا کردی اور ‘ فلسطینیوں کی حمایت اور آبادکاری کی مذمت پر 5عرب صحافیوں پر یہود دشمنی کا الزام عائد کرکے برطرف کردیا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈوئچے ویلے نے مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں سمیت 5 عرب صحافیوں کو یہود دشمنی کے بہانے ملازمت سے معطل کیا۔ جرمن فاؤنڈیشن نے اس مقدمے کی تحقیقات کے لیے 2افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں سابق جرمن وزیر انصاف سبین لیوتھاؤزر شننبرگر اور فلسطینی ماہر نفسیات احمد منصور شامل ہیں۔ ڈوئچے ویلے نے بیروت کے بیورو چیف، باسل عریدی، داؤد ابراہیم، معارف محمود، مرم مراقہ اور فرح سالم کو معطل کیا گیا ہے۔ جرمن ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے خلاف الزامات ان تبصروں کی بنیاد پر ہیں ، جو انہوں نے سوشل میڈیا کے صفحات پر لکھے تھے۔ اس کے علاوہ ان کی طرف سے اپنے آن لائن صفحات یا عرب اخبارات میں پچھلے سالوں میں شائع ہونے والے پرانے مضامین کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ جرمن فاؤنڈیشن نے اپنے فیصلے کی بنیاد صحافیوں کے شائع کردہ مواد پر رکھی ہے، جس میں کچھ اشاعتوں پر سابقہ ٹوئٹس یا پرانے تبصرے شامل تھے۔ ان میں وہ چیزیں بھی شامل تھیں۔ان یں یہودی آباد کاروں کی سرگرمیوں کی مذمت کی گئی تھی۔
اسرائیل ، مسجد ابراہیمی کی مرمت پر پابندی
القمر
