تونس کی اسلام پسند تحریک النہضہ کے مرکزی دفتر میں آتشزدگی سے ایک شخص جاں بحق اور 18 زخمی ہو گئے ہیں۔
النہضہ نے فیس بُک پیج پر اطلاع دی ہے کہ اس کے صدر دفتر کے استقبالیہ پر کام کرنے والا ایک کارکن جاں بحق ہوگیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم اور النہضہ کے نائب صدرعلی العریض نے آگ سے بچنے کے لیے عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی تھی جس سے وہ زخمی ہوگئے ہیں اور انھیں اسپتال میں داخل کرادیا گیا ہے۔جماعت کے مشاورتی بورڈ کے سربراہ عبدالکریم ہارونی بھی اسی طرح آتش زدگی سے بچنے کی کوشش میں زخمی ہوگئے ہیں۔
جماعت کے ایک عہدے دارمنذرلونیسی نے بتایا کہ تونس کی معطل پارلیمان کے اسپیکر اور پارٹی کے صدر راشد الغنوشی آتش زدگی کے واقعے کے وقت عمارت میں موجود نہیں تھے۔
واضح رہے کہ تونس کے سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی نے اپنے دورحکومت میں حزب اختلاف کی کالعدم تحریک النہضہ پر پابندی لگا رکھی تھی۔2011 میں پہلے انقلاب بہارکے فوراً بعد النہضہ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھری اورگذشتہ ایک عشرے کے دوران منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں اس نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ پارلیمنٹ میں سب سے بڑی طاقت رہی ہے۔
النہضہ نے گذشتہ برسوں کے دوران میں قومی سیاست میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ تونس کے صدرقیس سعید نے 25 جولائی کو حکومت کو برطرف کردیا تھا، اسمبلی کو معطل کر دیا تھا اورپارلیمان کے بہت سے اختیارات ضبط کرلیے تھے۔
