کراچی (تجزیاتی رپورٹ: محمد انور) وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کو کراچی میں گرین لائن بس ریپڈ سروس کو آزمائشی طور پر چلانے کے لیے بالآخر افتتاح کردیا۔یہ منصوبہ 5 سال کی تاخیر اور کم ازکم 16 ارب روپے کی اضافی لاگت سے سروس شروع کرنے کے قابل ہوا تاہم عوام کے لیے اس سروس کا 25 دسمبر سے باقاعدہ آغاز ہوگا، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے پہلی بار کراچی سے مخلص ہونے اور دلچسپی رکھنے والے حکمران ہونے کا تاثر بھی دیا۔کراچی سے محبت کا تاثر دیتے ہوئے انہوں نے واضح طور پر صوبہ سندھ کی حکومت سے ناراضی کا بھی اظہار کیا اور شہر کے بارے میں سندھ کی طرف نہ کیے جانے والے اقدام پر اپنے تحفظات بھی واضح کیے۔ خیال رہے کہ گرین لائن بس ریپڈ ٹرانسپورٹ کا سنگ بنیاد سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 2016ء میں رکھا تھا جبکہ انہوں نے ہی اس منصوبے کا اعلان 2014ء میں کیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس منصوبے کی کل لاگت کا اندازہ 16 ارب روپے لگایا گیا تھا لیکن منصوبے پر عمل درآمد میں تاخیر کی وجہ سے اس کی کل لاگت میں سو فیصد اضافہ ہوگیا۔ وزیراعظم عمران خان منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کراچی اور اس کے شہریوں کے ساتھ اپنی دلچسپی کا معمولی اظہار بھی کیا یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ ملک کے سب سے بڑے شہر کے ساتھ بہت مخلص ہیں اور اسے حاصل ہونے والی آمدنی کے حساب سے ترقی دینا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں سندھ حکومت کو پیغام دیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملکر کام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ہیلتھ کارڈ اور بنڈل آئی لینڈ منصوبوں پر آگے آئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی جدید شہر جدید ٹرانسپورٹ کے بغیر نہیں چل سکتا، کراچی کو فنکشنل اورخوشحال کرنا پاکستان کوخوشحال کرنا ہے۔عمران خان نے کہا کہ روشنی کے شہر کو ہم نے کھنڈر بنتے دیکھا ہے، بلدیاتی انتخابات میں کراچی کو خود مختاری دینی ہوگی۔ وزیراعظم کی ان باتوں سے ایسا لگتا ہے کراچی کے شہریوں کا دل جیتنے اور آئندہ عام انتخابات میں کراچی سے ذرا زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کی جستجو کرنے لگے ہیں۔ تاہم وزیراعظم نے جمعہ کو بھی محض 4 گھنٹے کے لیے کراچی میں قیام کیا ،اس دوران گورنر ہاؤس میں گورنر عمران اسماعیل اور اپنی جماعت تحریک انصاف کے اہم صوبائی رہنماؤں کے ساتھ اجلاس کیا اوران سے صوبے کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ لی۔ کراچی کے شہریوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے محض 4 گھنٹے کے مختصر دور ہی سے پتا چلتا ہے کہ وہ کراچی کے حوالے سے کس قدر سنجیدہ ہیں اور ان کی دلچسپی کتنی ہے۔ خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کے دورے کے دوران اہم ترین کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبے کے حوالے سے کوئی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی شہر کے لیے کسی نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
