
کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لندن اور تہران کی طرح کراچی کا بلدیاتی نظام بھی خودمختار ہونا چاہیے۔جمعہ کو کراچی میں گرین لائن بس منصوبے کے افتتاح کے موقع پران کا کہنا تھاکہ شہرقائد کو جدید بنانے کے لیے اس کا انتظامی نظام ٹھیک کرنا ہوگا، کوئی بھی جدید شہر جدید ذرائع آمد ورفت کے بغیر مکمل نہیں، ماضی میں کسی نے کراچی کے ٹرانسپورٹ سسٹم پر توجہ نہیں دی۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہر ملک میں ایک شہر ایسا ہوتا جو ملک کو چلاتا ہے، کراچی جب خوش حال ہوتا ہے تو پاکستان خوشحال ہوتا ہے، پاکستان کے لیے کراچی کو خوشحال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم پاکستان کو خوشحال کررہے ہیں، سب سے زیادہ ٹیکس کراچی سے ملتا ہے لیکن اسے کچھ نہیں ملا ، کراچی کو 60 سال سے دیکھ رہا ہوں ، اس روشنیوں کے شہر کو ہم نے کھنڈر بنتے دیکھا ہے کیونکہ کبھی بھی کراچی کے انتظامی نظام پر توجہ نہیں دی۔عمران خان نے کہا کہ ایران کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ عالمی طاقتوں کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں ہیں، اس کے باوجود ایران کا دارالحکومت تہران ایک جدید ترین شہر ہے، یہ شہر سالانہ 50 کروڑ ڈالر اکٹھا کرتا ہے لیکن کراچی مشکل سے 2 کروڑ ڈالر بھی اکٹھا نہیں کرتا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں ، ضرورت اس بات کی ہے کہ لندن اور تہران کی طرح کراچی کو بھی خود مختاری دی جائے۔وزیراعظم کے مطابق کراچی میں پانی کے مسئلے کے حل کے لیے سب سے زیادہ توجہ دی جارہی ہے، اگلے ماہ ’کے 4‘ شروع کردیا جائے گا ، امید ہے کہ 2023 ء میں یہ منصوبہ مکمل ہوگا اور کراچی کو کینجھر جھیل سے اضافی پانی کی فراہمی شروع ہوجائے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام تحقیق ایک بات ہی کرتی ہے کہ ایک بیماری پورے گھر کو مقروض کردیتی ہے، اسی لییفیصلہ کیا تھا کہ جب بھی اللہ نے موقع دیا میں صحت کا جامع منصوبہ شروع کروں گا، خیبر پختونخوا کے تمام خاندانوں کو ہیلتھ انشورنمس مل چکی ہے، جس کے تحت ہر سال 10 لاکھ روپے تک کا خرچہ برداشت کیا جائے گا، مارچ2022 ء تک پنجاب کے ہر شہری کے پاس ہیلتھ انشورنس ہوگی، سندھ کے لوگوں کو بھی ہیلتھ انشورنس ملنی چاہیے، سندھ حکومت سے کہتا ہوں کہ ہیلتھ انشورنس میں حصہ ڈالے۔
