
لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) لندن کی ایک اپیل کورٹ نے امریکا کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج کو امریکا کی تحویل میں دینے پر پابندی ختم کردی۔ اس فیصلے کے بعد اسانج کو امریکا کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل برطانیہ کی ایک زیریں عدالت نے 50سالہ اسانج کی صحت اور امریکا میں ممکنہ سزا کے خدشے کی وجہ سے حوالگی روک دی تھی۔ واشنگٹن حکومت نے اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ امریکا نے اسانج پر عراق اور افغانستان میں امریکی فوجی کارروائیوں کے خفیہ مواد چوری کرنے اور انہیں شائع کرنے کا الزام لگایا ہے۔ روس نے برطانوی اپیل کورٹ کے فیصلے کو شرمناک قرار دیا ہے۔
