English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جوہری مذاکرات کی ناکامی پر امریکی فوج کو تیار رہنے کا حکم

ویانا: ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار علی باقری اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کررہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر جوبائیڈن نے ایران سے جوہری مذاکرات کی ناکامی پر پینٹاگون کوتیاررہنے کا حکم دے دیا۔ امریکا کے بالواسطہ اور 5 بڑی طاقتوں کے بلاواسطہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پرمذاکرات ایک بار پھر کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس جین ساکی نے کہا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں صدر بائیڈن نے ایران کے خلاف دوسرے آپشن تیاررکھنے کا کہا ہے۔ دوسری جانب جوہری معاہدے کے حوالے سے تہران حکومت اور یورپی اقوام کے درمیاں مذاکراتی عمل ویانا میں جاری ہے۔ کئی معاملات پر فریقین میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ یورپی یونین کے ایک سینئر اہل کار نے نام مخفی رکھتے ہوئے بتایا کہ ویانا میں ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں پیشرفت منطقی ہے۔ یورپی اقوام اور ایران 2015ء کے جوہری معاہدے کو بچانے کی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مذاکراتی عمل میں کئی امور پر فریقین کا موقف سخت ہے اور پیچیدگیوں کو سلجھانے میں مذاکرات کاروں کو مشکل کا سامنا ہے۔ یورپی یونین کے سینئر اہل کار نے نیوز ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ مذاکرات میں کئی اہم معاملات پر بات ہونا ابھی باقی ہے اور حتمی مرحلے تک ان پر بات چیت جاری رہ سکتی ہے۔ اس اہل کار نے واضح کیا کہ مذاکراتی عمل منطقی انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایران کی نئی مذاکراتی ٹیم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپی مذاکرات ایرانی وفد کی مستقبل سے وابستہ توقعات کو مثبت خیال کرتے ہیں۔ یورپی یونین کے اہل کار کے مطابق مذاکرات میں 7 یا 8 نکات ایسے ہیں جو اس معاہدے کے حوالے سے نہایت اہم ہیں اور ابھی ان میں پیش رفت ضروری ہے۔ عالمی طاقتیں اس وقت ایران کے ساتھ قریب قریب معطل شدہ 2015ء کے جوہری معہادے کو فعال بنانے کے لیے مذاکرات ویانا میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے