افغانستان کے لوگ جس مشکل سے گزر رہے ہیں اس کو بیان کرنا مشکل ہے۔افغانستان میں انسانی بحران تیزی سے سر اٹھا رہا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ بطور میڈیکل ڈاکٹر اور اسلامک ریلیف کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر میں ننگرہار میں چار موبائل ہیلرھ ٹیمز کی نگران بھی ہوں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ لوگوں کے ہجوم فوری طبی امداد کے لیے جوق در جوق آ رہے ہیں۔ لوگ قحط کا شکار ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 97 فیصد لوگ 2022 کے وسط تک غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے قریبا 30 لاکھ بچے سال کے اختتام تک غذائی قلت کا شکاع ہو جائیں گے۔ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ عورتیں اپنے بچوں کو خوراک مہیا کرنے کے لیے اپنے ہی بچوں میں سے بچوں کو بیچ رہی ہیں یا پھر طبی امداد کے بدلے اپنے بچوں کو بیچ رہی ہیں۔
یقینا یہ بات بہت افسوس ناک ہے اور میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ بطور والد مجھے یہ دیکھ کر کیسا محسوس ہورہا ہے۔ پس اپنے بچے کے لیے خوارک حاصل کرنے کے لیے اس قدر تکلیف دہ صورتحال میں مبتلا ہوجانا یقینا ایک صاحب احساس شخص کے لیے افسردگی کا سبب ہے ۔ یقینی طور پر کوئی والد ایسا ہرگز نہیں چاہتا۔صورتحال روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے اور وقت ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے۔ جوں جوں سرما قریب آرہا ہے ویسے ویسے اموات کی شرح میں اضافے کو خوف بڑھتا جارہا ہے۔ بطور انسانی حقوق کے کارکن اور ایسے افراد کے لیے جو کہ جنگ زدہ علاقوں میں گزشتہ دس سال سے کام کررہے ہیں، افغانستان کی موجودہ صورتحال تاریخ کی بدترین صورتحال ہے۔
افغانستان کے بہت سارے علاقوں میں ایسی خواتین بھی ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو کھان فراہم کرنے کے لیے اپنے کھانے میں کمی کر دی ہے۔ جب کہ بہت سارے خاندان ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو جوتے پالش کرنے، کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے اور بھیک مانگنے پر لگا دیا ہے تاکہ روٹی کا بندوبست ہوسکے۔ خوراک کے حصول کے لیے لوگ دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں اور بہت سارے پناہ گزین کیمپوں کا رخ کررہے ہیں تاکہ انہیں صحت کی سہولیات مل سکیں۔ بہت ساری انسانی حقوق کی تنظیمیں دن رات کام کررہی ہیں تاہم فنڈز کی قلت مسائل پیدا کررہی ہے۔ پناہ گزین کیمپوں میں بھی صورتحال بدتر ہے۔ وہاں بھی بہت سارے لوگ بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔ بہت ساری ماؤں کو دواؤں کی ضرورت ہے جن کی قیمت ایک ڈالر سے بھی کم ہے مگر وہ ان کو خرید نہیں سکتیں۔
معاشی پابندیوں کی وجہ سے افغانستان بہت بڑے سانحے سے دوچار ہوسکتا ہے۔ بین الاقوامی پابندیاں جو کہ طالبان کی آمد کے بعد افغانستان پر عائد کی گئی ہیں کی وجہ سے ملک سخت بحران سے دوچار ہوگیا ہے ۔ لوگوں کو تنخواہیں نہیں مل رہیں اور لوگ بنیادی ضروریات خریدنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے نہ صرف لوگ خوراک سے محروم ہو گئے ہیں بلکہ افغانستان کو ایک بڑی امداد کی ضرورت ہے جس پر افغانستان کا گزارہ تھا۔ بین الاقوامی امدادی ادارے بھی ان پابندیوں کی وجہ سے مدد کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ امدادی تنظیموں کے بہت سارے کارکنان بھی اس بحران کی وجہ سے اپنی تنخواہوں سے محروم ہیں جب کہ ملک میں خوراک کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں اور لوگ بے یارومددگار ہوکررہ گئے ہیں۔
اس سے قبل ڈونرز کی جانب سے فراہم کیے جانے والے بین الاقوامی فنڈز روک دیے گئے ہیں جسے سے 2000 صحت کے مراکز بند ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں اور ہزاروں نرسوں اور ڈاکٹروں کو ابھی تک تنخواہ نہیں مل سکی۔ افغانیوں کی ایک بڑی تعداد بنیادی ضروریات زندگی مثلا ادویات، علاج اور صحت کی سروسز سے محروم ہوگئے ہیں جکہ ملک کو کرونا کی چوتھی لہر کا بھی سامنا ہے اور اب تک 40 ملین کی آبادی میں سے صرف چار ملین کو ہی ویکسین لگ چکی ہے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ ملک میں ہیضہ کی وبا پھوٹ پڑھی ہے جس کا مطلب ہے کہ پہلے سے ہی غذا کی قلت کا شکار بچے نمکیات اور پانی کی کمی سے موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ ہیضہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع سروبی ہے۔ انسانی بحران کو روکنے کے لیے افغانستان پر سے معاشی پابندیوں کا فوری خاتمہ کرنا چاہیے اور اقوامی متحدہ اور اسلام ریلیف جیسے اداروں کو انسانی جانیں بچانے کے لیے میدان میں آنا چاہیے۔
ہفتہ، 11 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post کیا افغانستان میں انسانی المیے کو رونما ہونے سے روکا جاسکتا ہے؟ شفقنا خصوصی appeared first on شفقنا اردو نیوز.
