لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی، سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ مولانا ہدایت الرحمن کی قیادت میں تاریخی ریلی ریفرنڈم ہے ، وفاقی، صوبائی حکومتیں اور ریاستی ادارے گوادر بلوچستان کے عوام کو حق دیں۔ مظاہرین پرامن گوادر کی ترقی کے حامی اور پاکستان کے لیے جرأت مند بااعتماد عوام ہیں۔ حکومتیں حالات و مسائل کو الجھانے کے بجائے گوادر ساحل پر ٹرالر مافیاکو ختم اور مقامی ماہی گیروں کے روزگار کو تحفظ دیں۔ بارڈر پر ایف سی کوسٹ گارڈز کے بجائے صوبائی سول انتظامیہ معاملات کی ذمے داری لیں۔ سیکورٹی کے نام پر
غیر ضروری چیک پوسٹیں ختم اورعوام کی تذلیل بند کی جائے۔ شراب خانوں کے لائسنس منسوخ اور منشیات فروشی کا خاتمہ کیا جائے۔ گوادر کے عوام کا تعلیم، صحت، پانی و روزگار کا حق تسلیم کیا جائے۔ لیاقت بلوچ نے چیف سیکرٹری بلوچستان کے فون کے جواب میں کہا کہ گوادرکے عوام کے مسائل حل کیے جائیں۔ تاخیری حربے عوام میں اشتعال کا باعث ہیں۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ملک کی خود ساختہ ترقی کی بے بنیاد تقریریں کر کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیںاور خود اپنی ساکھ کو خاک میں ملاتے ہیں۔ بجلی، تیل، گیس، افراطِ زر، ٹیکسوں کی شرح میں مسلسل اضافہ غریب بے بس عوام کی موت کے پروانے ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم نے مل کر کراچی کے عوام سے بار بار دھوکا کیا ہے۔ گرین لائن بس کا ازسرنو منصوبہ شروع کر دیا گیا، لیکن کراچی کے مسائل کے حل کے لیے بنیادی اقدامات نہیں ہورہے۔ آصف زرداری، میاں نواز شریف اور عمران خان نے اربوں کھربوںروپے کے منصوبوں کا اعلان کیا عمل ندارد، جھوٹ، فریبی نعروں اور عوام سے دھوکا دہی کے سیاہ دور کا خاتمہ نوشتہ دیوار ہے۔سیکرٹری ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا کہ 22دسمبر کوملی یکجہتی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر کی صدارت میں تمام دینی جماعتیں ملکی حالات کے پیش نظر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گی۔
