شازیہ مری نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ملک کے اندر واحد سندھ حکومت ہے جس نے مہنگائی کا احساس کرتے ہوئے صوبے میں مزدور کی کم سے کم اجرت 25 ہزار روپے ماہانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔پیپلزپارٹی لیبر پالیسی پر واضح یقین رکھتی ہے۔عوام نے پی ٹی آئی کے تین سالہ دورحکومت میں صرف اور صرف مہنگائی اور بے روزگاری دیکھی ہے
اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح 11.5 فیصد تک جا پہنچی ہے، شازیہ مری نے کہا ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی گیس اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کے تناظر میں مزدورکی 25 ہزار ماہانہ اجرت بھی کم ہے۔لیکن پھر بھی واحدسندھ حکومت ہے جس نے آفیشل طور پر مزدور کی کم سے کم اجرت 25 ہزار مقرر کی لیکن ہمیں بہت افسوس ہوا جب ایک عدالتی حکم کے ذریعے حکومت سندھ کو مزدور کی کم سے کم 25 ہزار اجرت روکنے کا کہا گیا۔اس سلسلے میں جن لوگوں نے عدالت سے رجوع کیا وہ تنخواہ دار کو تنخواہیں دینے والا طبقہ ہے۔
ہم انڈسٹریل طبقےکی مہنگائی کے باعث تکالیف اور پریشانیوں کو بھی سمجتے ہیں۔آج ملک کو بہت سارے بحرانوں کا سامنا ہے۔
پچھلے تین سالہ پی ٹی آئی کے دور حکومت نے عوام کو صرف بحران اور پریشانیاں دی ہیں۔ملک میں انڈسٹریل طبقے کو بھی بہت بڑی پریشانی لاحق ہے، شازیہ مری نے مزید کہاملک میں گیس کی شدید قلت ہے، حکومت صنعتوں کو بھی رلیف نہیں دی۔ملک میں کاروبار اور معیشت کا پہیہ اس طریقے سے نہیں چلایا جاتا۔حالیہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی رپورٹ نے موجودہ پی ٹی آئی حکومت کوسب سے زیادہ مہنگائی اور چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والے حکومت قرار دیا ہے۔
سندھ حکومت نے مزدور کے حق میں ایک عوامی فیصلہ کیا،ہم امید کرتے ہیں کہ عدلیہ اپنے فیصلے کو انسانی جذبے سے دیکھے گی اور مزدور کی کم سے کم اجرت 25 ہزار روپے ماہانہ کرنے پر راضی ہو جائے گی۔
ترجمان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری کا ویڈیو بیان
القمر
