English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکہ میں غیرمعمولی طوفانی بگولوں سے کئی عمارتیں تباہ، ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ

القمر

امریکہ کی جنوبی اور وسط مغربی ریاستوں میں جمعے کو آنے والے غیر معمولی طوفانی بگولوں سے اموات میں اضافہ ہوا ہے جب کہ املاک کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسے امریکہ کی تاریخ کے ممکنہ طور پر سب سے بڑے طوفانوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

صدر بائیڈن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ ایک سانحہ ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ کتنی جانیں گئی ہیں اور کتنا نقصان ہوا ہے اس کا مکمل اندازہ نہیں ہے۔

مختلف مقامات پر آنے والے ان طوفانی بگولوں سے ریاست کینٹکی، الی نوائے، آرکنسا، میزوری اور ٹینیسی متاثر ہوئی ہیں۔ کینٹکی کے گورنر اینڈی بیشیر نے ہفتہ کو کہا ہے کہ ممکنہ طور پر وہاں 70 سے 100 لوگ جان سے جا چکے تھے۔

کینٹکی کے گورنر نے ریاست میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے جب کہ کینٹکی نیشنل گارڈ اور پولیس کو تعینات کردیا ہے۔

طاقت ور ہوا کے جھکڑوں نے، جو موسم کے حالات بتانے والوں کے مطابق سرد مہینوں میں غیر معمولی ہیں، کینٹکی کے چھوٹے سے شہر مے فیلڈ میں ایک موم بتی بنانے والی فیکٹری کو تباہ کر دیا ہے جب کہ فائر اور پولیس اسٹیشنز کو بھی نقصان پہنچا۔

اس کے علاوہ میزوری میں نرسنگ ہوم ملبے کا ڈھیر بن گیا جب کہ الی نوائے میں ایمیزون ویئر ہاؤس میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

کینٹکی کے گورنر اینڈی بیشیئر نے کہا ہے کہ یہ طوفانی بگولے ریاست کی تاریخ میں سب سے زیادہ تباہ کن تھے۔

انہوں نے کہا کہ مے فیلڈ شہر میں موم بتی بنانے کی فیکٹری سے جب طوفان ٹکرایا تو وہاں اندر 110 کے قریب لوگ تھے جس میں سے 40 کو ریسکیو کرلیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ملبے کے نیچے سے کسی کا زندہ ملنا ‘معجزہ’ ہوگا۔

انہوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ یہ ریاست کی تاریخ میں سب سے بڑا تباہ کن طوفانی واقعہ ہے۔

ادھر الی نوائے کے گورنر جے بی پرٹزکر نے ہفتے کو کہا کہ طوفان نے جمعے کی رات کو ایمیزون کے ویئرہاؤس کو نقصان پہنچایا جس سے عمارت کرگئی اور چھ افراد ہلاک ہو گئے۔

ایمیزون کے ترجمان رچرڈ روشا نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ ”یہ ہماری ایمیزون فیملی کے لیے ایک سانحہ ہے، ہماری توجہ ہمارے اور شراکت داروں کی معاونت پر مرکوز ہے۔”

قبل ازیں امریکی صدر نے بگولوں سے متاثرہ پانچ ریاستوں کے گورنروں سے گفتگو کی۔ بائیڈن نے کینٹکی کے لیے ہنگامی حالت کی منظوری دی اور وہاں وفاقی فنڈز استعمال کرنے کی اجازت بھی دے دی۔

صدر بائیڈن نے ہفتے کو سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ انہیں صورتِ حال سے آگاہ کیا گیا ہے۔

ان کے بقول انتظامیہ گورنروں کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ انہیں بچ جانے والوں کو تلاش کرنے اور نقصان کا اندازہ لگانے میں مدد دی جا سکے۔

ہفتے کی رات تک پانچ ریاستوں میں کم از کم 36 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔ جس میں 22 افراد کینٹکی، چھ الی نوائے میں ایمیزون کے مرکز، چار ٹینیسی جب کہ دو دو آرکنسا اور میزوری میں شامل تھے۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق طوفانی بگولے کینٹکی میں لگ بھگ 320 کلومیٹرز کے راستے پر تھے۔ البتہ شمالی الی نوائے یونی ورسٹی میں انتہائی موسم پر تحقیق کرنے والے وکٹر گینزنی کہتے ہیں کہ یہ زمین پر 400 کلومیٹرز تک ہو سکتے ہیں۔

اس سے قبل سب سے لمبا ٹوئسٹر مارچ 1925 میں میزوری، الی نوائے اور انڈیانا میں لگ بھگ 355 کلومیٹر تک ریکارڈ کیا گیا تھا۔

‘یہ زندگی کی سب سے خوفناک چیز تھی’

مے فیلڈ کی فیکٹری کی ایک خاتون ورکر کیانا پرسونز پیریز نے ’این بی سی‘ کے ٹی وی شو میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کی سب سے خوف ناک چیز تھی، انہوں نے نہیں سوچا تھا کہ ایسا ہونے جا رہا ہے۔

مے فیلڈ کے رہائشی الیکس گڈمین نے خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کو بتایا کہ ”یہ ایسا تھا جیسے بم پھٹا ہو۔”

اسی شہر کے ایک اور رہائشی 69 سالہ ڈیوڈ نورسورتھی نے کہا کہ طوفان ان کی چھت اور سامنے کا حصہ اڑا کر لے گیا جب کہ ان کے گھر والوں نے شیلٹر میں پناہ لی۔

انہوں نے کہا کہ ”ہم نے کبھی ایسی چیز نہیں دیکھی۔”

امریکہ کی ریاست ٹینیسی کی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے چیف آف اسٹاف الیکس پیلوم نے ریاست میں چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

میزوری کے گورنر مائک پارپن کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈیفائنس اور نیو میل کے علاقے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ عمارتوں کے گرنے سے کئی زخمی ہیں۔ ان کے بقول سیکڑوں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے یا وہ تباہ ہو گئی ہیں۔

ادھر شمالی آرکنسا میں مونیٹ میں طوفان نرسنگ ہوم سے ٹکرایا جس میں کریگ ہیڈ کاؤنٹی جج مارون ڈے کے مطابق ایک فرد ہلاک ہوا جب کہ 20 افراد تباہ شدہ بلڈنگ میں پھنس گئے۔

ان کے بقول پانچ افراد کو گہری اور پانچ کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔

اس خبر میں شامل بعض معلومات خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’، ‘رائٹرز’ اور ‘اے ایف پی’ سے لی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے