واشنگٹن ڈی سی —
کریڈٹ ریٹنگ کمپنی ‘فچ’ نے پاکستانی روپئے کے بارے میں اپنی پیشگوئی پر رواں برس اور آنے والے سال کے لئے نظر ثانی کی ہے اور کہا ہے کہ آنے والے برس میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں شرح تبادلہ 180 روپئے تک پہنچ سکتی ہے۔
ڈاکٹر ایوب مہر ایک پاکستانی ماہر معاشیات ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ موڈیز اور اسٹینڈرڈ اینڈ پورز کی بھی دو قسم کی ریٹنگس ہوتی ہیں، ایک قلیل المدت اور دوسری طویل المدت۔ اور یہ کہ پاکستان کے سلسلے میں وہ زیادہ منفی بھی نہیں ہیں۔
بقول ان کے، فچ نے جو ریٹنگ دی تھی وہ پہلے ہی غلط ثابت ہو چکی ہے، کیونکہ اسکا کہنا تھا کہ 2021ء میں پاکستانی روپئے کی قدر میں کمی ہوگی اور وہ 165 روپئے فی ڈالر تک جا سکتی ہے۔ لیکن روپئے کی قدر میں کمی انکی پیشگوئی سے کہیں زیادہ ہوئی ہے۔ اسلئے اب انہوں نے اسپر نظرثانی کی ہے۔
ڈاکٹر ایوب مہر کا کہنا تھا کہ چند بنیادی وجوہات کی بناء پر پاکستان میں یہ کرنسی کا مسئلہ پیدا ہوا ہے اور فارن اکسچینج کا ‘آؤٹ فلو’ شروع ہوا ہے۔ اول تو یہ کہ افغانستان کی حکومت کے بیرونی اکاؤنٹس چونکہ منجمد کر دیے گئے ہیں، جس کے سبب وہاں فارن ایکسچینج کا بحران آیا ہے اور پاکستان سے بڑے پیمانے پر ڈالر خریدے جارہے ہیں۔
دوسرے یہ کہ افغانستان کی مدد کی خاطر پاکستان نے یہ پالیسی فیصلہ کیا ہے کہ افغنستان اب پاکستان سے ڈالر کے بجائے روپئے میں تجارت کر سکتا ہے اور چونکہ افغانستان پاکستان کا ایک بڑا تجارتی ساجھے دار ہے اسلئے وہ جو بھی تجارت کر رہا ہے وہ ڈالر کے بجائے روپئے میں ہو رہی ہے۔ بقول ان کے، ”اور یوں، ڈالر کا ہاکستان سے آؤٹ فلو بڑھا ہے اور ان فلو کم ہوا ہے۔ اور تیسری بڑی وجہ پاکستان کا تجارتی خسارہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے”۔
آنے والے دنوں میں روپئے کی قدر کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات اور درآمدات کے درمیان فرق بہت زیادہ ہے جس سے بجٹ خسارہ بڑھتا جا رہا ہے اور پاکستان کی مجبوری یہ ہے کہ اسکی کوئی 80 فیصد درآمدات میں صنعتی خام مال، کارخانوں کی مشینیں اور ان کے پرزے، تیل اور ادویات شامل ہیں جن میں کوئی کمی نہیں کی جا سکتی۔ بقیہ 20 فی صد تعیش کے زمرے میں آنے والی اشیا ہیں جن میں اگر کمی کر بھی دی جائے تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ جب انٹرنیشنل مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان کے امپورٹ بل پر دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ اسکا حل کیا ہے، ڈاکٹر ایوب مہر نے کہا کہ اسکا قلیل المدت کوئی حل نہیں ہے۔ ماضی میں ہم قرضوں پر انحصار کرتے رہے ہیں جو کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ پاکستان اپنی برآمدات بڑھائے، وہ مشینیں اور پرزے جو باہر سے درآمد کئے جاتے ہیں وہ ملک میں بنائے جانے لگیں، جس سے درآمدات میں کمی ہو اور غیرملکی سرمایہ کاری ہاکستان آنا شروع ہو جائے۔
ڈاکٹر زبیر اقبال عالمی بنک کے ایک سابق عہدیدار ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کرنسی کی قدر کا انحصار اس بات پر ہے کہ اوّل تو آپکی کرنٹ اکاؤنٹ پوزیشن کیا ہے۔ دوسرے آپکی افراط زر کی شرح کیسی ہے؛ جو پاکستان میں بہت سے دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ اور اس سلسلے میں بہتری کی جانب سفر کے لئے پاکستان کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مشکل فیصلے ہونگے جن کے تحت آپکو ٹیکس بڑھانا ہو گا۔ یہ کوشش کرنی ہو گی کہ ملک میں جو ترقی ہو رہی ہے اس کا انحصار درآمدات پر نہ ہو، بلکہ صنعت کے لئے اندرون ملک مشینری اور پرزے بنائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کرنسی کی شرح کو مستحکم رکھنے کے لئے اندرون ملک بچت میں اضافہ لازمی ہے۔ اور اسکے لئے آپکو ٹیکسوں میں اضافہ کرنا ہو گا اور حکومتی اخراجات میں کمی کرنی ہو گی۔ اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر مارکیٹ جس رخ پر لے جائے اسپر جانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔
