English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ٹنڈوالہیار ،کھاد نایاب منافع خور آبادگاروں کو لوٹنے لگے

القمر

ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارت)سندھ حکومت اور ضلعی انتطامیہ نیند کی گولیاں کھا کر سوئے ہو ئے ہیںاور سندھ کے آبادگار مہنگے داموں کھاد اور بیج خر یدنے پر مجبور ہیں، ضلع بھر میں غیر معیاری ادویات سمیت کھاد کے ڈیلر بلیک پر 1800 والا یوریا 2400 میں فروخت کر رہے ہیں، ٹنڈوالٰہیارمیں کھاد نایاب ہو چکی ہے روزانہ معمول کے مطابق ٹنڈوالٰہیار میں کھادوں کے ٹرالر آتے ہیں لیکن آبادگاروں کو یوریا کھاد کی مصنوعی قلت بتا کر منافع خور دونوں ہاتھوں سے آباد گاروں کو لوٹنے میں مصروف ہیں ایگریکلچر ڈپارٹمنٹ اور ضلع انتظامیہ کو ایکشن لینا چاہیے لیکن ان کی خاموشی آباد گاروں کا معاشی قتل ہے جبکہ ایگریکلچر ڈپارٹمنٹ کے کچھ افسران رشوت کی مد میں منافع خوروں سے مل کر آبادگارو ں کو لوٹ رہے ہیں ضلع انتظامیہ کو سندھ ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے پلیٹ فارم سے آگاہی دے چکے ہیں ہم پرامن آبادگار و کاشتکار ہیں ہمارے حقوق پر ڈاکا ڈالنا بند کیا جائے آج کاہمارا پر امن احتجاج ہے اگر انتظامیہ حرکت میں نہ آئی تو احتجاج کو مزید وسیع کریں گے اور عدالت میں جائیں گے۔ اس موقعے پر سندھ ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے رہنما شکیل پلھ ، ایڈووکیٹ نہال لاشاری، فہد چوہان نے میڈ یا سے گفتگو کرتے ہو ئے کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کھاد کے حوالے سے ایمرجنسی بنیادوں پر روزانہ وزٹ کیا جاتا ہے کھاد کا ریٹ لکھا ہو ہر دکاندار اپنے دکان سے خریدنے والے آبادگار کو اس کے لیٹر ہیڈ معہ مہر بل دینے کا پابند ہو ضلع کے ڈیلرز کو کمپنی سے اس کے مقرر ریٹ پر کھاد ملنے والی رکاوٹیں پر اعلیٰ حکام سے خط وکتابت کرے ڈپٹی کمشنر سمیت ایگریکلچر ڈپارٹمنٹ ساتھ بیٹھیں ایگریکلچر ڈپارٹمنٹ میں جو ایف اوز بھرتی ہیں ان کو افسروں کی ذاتی نوکریوں سے ہٹاکر فیلڈ میں ان کے کام پر مقرر کیا جائے ایگریکلچر ڈپارٹمنٹ میں آنے والے چھوٹے آبادگاروں کے لیے مراعات فراہم کی جائیں تاکہ ضلع میں فر وخت ہو نے والی غیر معیاری کھاد دوائیوں کی ہفتہ وار وزٹ کرکہ ان کی تفتیش کروائی جائے نقلی دوائیں، کھاد کی فروخت سرعام ہو رہی ہے ایسے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ضلع انتظامیہ ایسے عناصر کا لائسنس رد کرکے قانونی چارہ جوئی کی جائی اس کے علاوہ کافی مسائل جو ضلع لیول پر حل ہو سکتے ہیںدیگر صورت میں مقامی عدالتوں کے دروازوں پر دستک دیں گے اور اپنے حقوق کے لیے ہر میدان پر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے