باڈہ (نمائندہ جسارت ڈوکری) باڈہ شہر لاڑکانہ ضلع کا دوسرا سب سے بڑا ڈیڑھ لاکھ آبادی رکھنے والا شہر ہے، جو کہ منتخب حکمرانوں کی نظر اندازی کی وجہ سے موئن جودڑو کے مناظر پیش کر رہا ہے۔ باڈہ اسٹیشن سے لے کر رورل ہیلتھ سینٹر تک تقریباً 3 کلو میٹر روڈ اکھڑ کر تباہ ہوچکا ہے، جب کوئی اوور لوڈ گاڑی شہر سے گزرتی ہے تو پتھر اڑ کر لوگوں کو لگتے ہیں جس کی وجہ سے نا جانے کتنے شہری اور مسافر شدید زخمی ہو چکے ہیں، افسوس تو اس بات کا ہے کہ اتنے بڑے باڈہ شہر میں سرکاری اسپتال لوگوں کو کوئی بھی سہولیات میسر نہیں کر رہا،نہ تو اسپتال میں ادویات ملتی ہیں، نہ ہی ایکسرے والٹرا ساؤنڈ کی کوئی سہولیات ہیں جبکہ ڈاکٹر بھی 2 بجے کے بعد اسپتال میں نہیں ملتے۔ سارے ڈاکٹرز کے پرائیوٹ کلینک کھلے ہوئے ہیں اور وہ اسپتال آنے والے مریضوں سے بھی پرائیوٹ میں چیک اپ کرانے کا بولتے ہیں۔ رات کے وقت ڈاکٹر اور لیڈی ڈاکٹر کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے شہری بھاری رقم خرچ کرکے اپنے بیمار عزیزوں کو لاڑکانہ لے جاتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں کافی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شہر کو بائی پاس نہ ہونے کی وجہ سے سارہ دن شہر میں ٹریفک جام رہتا ہے جس سے شہر کا کاروبار شدید متاثر ہوتا ہے اور کئی گھنٹے ٹریفک معطل ہوجاتا ہے۔ دوسری جانب شہر میں نکاسی کا نظام درہم برہم ہے، گٹر بھرجانے کے بعد سارا گندا پانی مین روڈ پر آجاتا ہے جس کی وجہ سے نمازیوں اور طالب علموں کو اسکول جانے میں شدید تکلیف کا سامنا رہتا ہے ۔ شہر میں ٹیکسی اسٹینڈ اور مارکیٹ کمیٹی نہ ہونے کی وجہ سے گاڑیاں روڈ پر پارک ہوتی ہیں اور روڈ پر ہی ریڑھے لگتے ہیں جبکہ سبزیاں روڈ پر ہی پھینک دی جاتی ہیں جن کو پہلے جانور کھاتے ہیں اور پہر دوسرے دن وہی سبزیاں اور پھل لوگوں کو فروخت کیے جاتے ہیں، شہر میں ایک شہید شان ڈہر کے نام پر پبلک لائبریری بھی موجود ہے جس میں کوئی بھی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہے۔ لائبریری میں تعلیم دوست انسانوں نے کچھ کتابوں کو ڈونیٹ کیا تھا مگر اب بھی لائبریری میں سی ایس ایس اور کمیشن کی کتابوں کی کمی ہے جس کی وجہ سے طالب علموں نے کئی بار اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا ہے مگر منتخب نمائندگان نے ان کو کوئی اہمیت نہیں دی، دوسری جانب لائبریری میں واش روم تک نہیں ہے جس کی وجہ سے شاگردوں کو تکلیف کا سامنا رہتا ہے ۔ اس موقعے پر باڈہ کی سیاسی اورسماجی جماعتوں کے رہنمائوں کامریڈ علی محمد بروہی، کامریڈ قادر بروہی، باڈہ پریس کلب کے صدر زیب علی ساریو، کامریڈ اصغر نوناری، ڈاکٹر واحد بخش سولنگی، ریٹائرڈ سینئر استاد ہدایت اللہ بگھیو، علی انور عسکری، نظام کولاچی، کامریڈ عزیز بروہی اور طارق مراد منگی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ باڈہ شہر پیپلز پارٹی کے بانی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کا منتخب علاقہ رہ چکا ہے جہاں سے کئی بار الیکشن جیت کر وہ اعلیٰ ایوانوں تک پہنچے ہیں اور آج بھی پیپلز پارٹی ہی جیتتی آئی ہے مگر یہاں کے منتخب نمائندے الیکشن سے پہلے باڈہ واسیوں کو سبز خواب دکھا کر ووٹ لے جاتے ہیں اور اقتدار حاصل کرکے وہ باڈہ شہر اور شہریوں کو بھول جاتے ہیں جس کی وجہ سے باڈہ مکین اپنے ووٹ کی تذلیل محسوس کر رہے ہیں۔ آخر میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور علاقے کے منتخب نمائندوں سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ باڈہ شہر تعلقے کا مستحق ہے گزشتہ 3 سالوں سے شہری سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں، اس لیے باڈہ کو تحصیل کا درجہ دے کر بروقت نوٹیفکیشن جاری کریں اور باڈہ شہر کو بائی پاس، مین روڈ اور بنیادی سہولیات دے کر شہریوں میں پھیلی ہوئی بے چینی ختم کریں ورنہ سخت احتجاج کیا جائے گا۔
