ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

حکومتی سونامی اب زراعت کو ہڑپ کرنے کی کوشش کر رہا ہے،علی گورایہ

فیصل آباد(وقائع نگار خصوصی)کسان بورڈ کے ضلعی صدر علی احمدگورایہ نے کہا ہے کہ حکومتی سونامی اب زراعت کو ہڑپ کرنے کی کوشش کر رہا ہے،کسانوں کو صنعتکاراور سرمایہ دار دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے مستقبل میں زراعت کا شعبہ مزید زوال پذیر ہو گا۔حکومت کسانوں کو کھاد اور بیج رعایتی نرخوں پردینے کے لیے کسان کارڈ کا اجرا کر رہی ہے، لیکن اس رعایتی پیکیج کا فائدہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ کھادوں، زرعی ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ روکنے کے لیے زرعی پرائس کنٹرول کمیٹی تشکیل دی جائے اور اس میں کسان نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملہ میں کسانوں کو اعتماد میں لے اور حقیقی کسان تنظیموں سے مشاورت کے بعد ایک مشترکہ میکنزم تشکیل دے جس کا براہ راست فائدہ کسان کو ہو۔ زرعی ادویات اورکھادوں کی قیمتوںمیںہوشربااضافے اورذخیرہ اندوزی کو روکنے کیلیے ضلعی سطح پرپرائس کنٹرول کمیٹیاںتشکیل دی جائیں جن میں حقیقی کسان تنظیموں کے نمائندوںکو میں شامل کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ70 فیصد زراعت پر مشتمل ملک میں کسان بدحال اور زراعت زبوں حالی کا شکار ہے۔ کسانوں کی خوشحالی کے بغیر پاکستان میں ترقی کی بات کرنا سراسر مذاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی اجناس گنا، کپاس، گندم، چاول اور مکئی کی قیمتیں مقرر کرتے وقت حکومت کسان نمائندوں کو بھی قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا رکن نامزد کرے۔ اس سے بڑھ کر ناانصافی اورکسانوں کا معاشی قتل کیا ہو گا کہ زرعی اجناس کی قیمتیں مقرر کرتے ہوئے اقتصادی رابطہ کمیٹی میں کسانوں کی نمائندگی ہی نہیں ہوتی۔ گندم کی بوائی کے وقت کھاد اور بیج کی قیمتوں میں اضافہ نے کسانوں کو شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے ۔ حکومت سرپلس چینی ہونے کے باوجود ملک میں اس کے ریٹس کنٹرول نہیں کر سکی۔ حکومت زرعی منڈیوں میں کسانوں سے براہ راست خریداری کرکے مڈل مین کے کردار کو ختم کرے کیوں کہ یہی مڈل مین طبقہ اصل میں سرمایہ داروں کا سہولت کار ہوتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں