
ورسا (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمن چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے صرف 4دن بعد ہی اولاف شولس نے پولینڈ کا دورہ کیا ۔ خبررساں اداروں کے مطابق دونوں یورپی ممالک کے مابین اختلافات بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ پولینڈ چاہتا ہے کہ جرمنی روس سے گیس نہ لے۔ پولینڈ پہنچنے پر جرمن چانسلر اولاف شولس کا شاندار استقبال کیا گیا۔ وارسا میں پولش وزیراعظم میتیوش مواروسکی مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ ان کو خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھے۔ سابق جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے دور اقتدار میں پولینڈ کے جرمنی کے ساتھ تعلقات تناؤ کا شکار رہے۔ بالخصوص روس کی طرف سے یوکرائن کی سرحدوں پر فوج کشی اور ممکنہ حملے کی تناظر میں پولینڈ کا کہنا ہے کہ برلن حکومت روس کے ساتھ گیس پائپ لائن کا منصوبہ ترک کر دے۔ نارتھ اسٹریم ٹو پائپ لائن کے ذریعے جرمنی روس سے قدرتی گیس خریدنا چاہتا ہے۔ تاہم نہ صرف یورپی ممالک بلکہ امریکا کی طرف سے بھی اسے اس تناظر میں دباؤ کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ بھی اس کا سخت مخالف ہے۔ جی سیون وزرائے خارجہ کی حالیہ کانفرنس کے موقع پر بھی برطانوی وزیر خارجہ لِزا ٹرس نے زور دیا تھا کہ یورپی جمہوری ممالک کو روس کی طرف سے ملنے والی گیس پر انحصار کم کرنا چاہیے ، تاکہ وہ کریملن کے دباؤ سے بچ سکیں۔ پولش وزیر اعظم مواروسکی نے بھی کہا کہنارتھ اسٹریم ٹو کا دفاع مشکل ہوتا جا رہا ہے کیوں کہ اس طرح روس یورپی یونین بالخصوص یوکرائن پر اپنا دباؤ بڑھاتا جا رہا ہے۔
