افریقی شہر بوٹسوانا میں پہلی مرتبہ شناخت ہونے والی کرونا کی نئی قسم اومیکرون دریافت ہوئی اور اب نئی قسم جنوبی افریقہ میں انفیکشنز کو تیزی سے بڑھا کر سائنس دانوں اور پالیسی میکرز کو پریشان کر رہی ہے۔ بہت سارے ممالک نے جنوب افریقن ممالک کی طرف سے آنے والی اور جانے والی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ جنوب افریقن ممالک کے علاوہ بیلجیم ، ہانگ کانگ اور اسرائیل کے مسافروں میں بھی اومیکرون کرونا کی شناخت ہوئی ہے۔ کرونا کی اس نئی قسم کے بارے اب تک درج ذیل چیزیں معلوم ہو سکی ہیں۔
اس کی شناخت کب اور کہاں گئی؟
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس کی شناخت پہلی مرتبہ 9 نومبر کو ہوئی ۔ اس کی شناخت سب سے پہلے جنوب افریقی سائنسدانوں نے کی۔ جس کے فورا بعد سائنس دانوں نے حکومت کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا اور اس کے اگلے ہی دن عالمی ادارہ صحت نے وائرس کی جانچ پڑتال کے لیے اپنے تکنیکی ورکنگ گروپ کو طلب کر لیا۔ تکنیکی گروپ نے اسے کرونا وائرس کی نئی قسم بتایا اوراس کے لیےاومیکرون نام تجویز کیا۔
ابتدائی شواہد سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس نئی قسم سے دوبارہ انفیکشن کےبڑھنے کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے ۔ عالمی ادراہ صحت کے مطابق کرونا کی دیگر اقسام کی نسبت یہ قسم سب سے خطرناک ہے۔ بیلجیم پہلا یوروپین ملک ہے جس نے اومیکرون کرونا کے کیس کی موجودگی کا اعلان کیا ہے۔
اومیکرون سائنس دانوں کے لیے پرئشان کن کیوں؟
کرونا کی اس نئی قسم کی سپائیک پروٹین میں 30سے زیادہ تبدیلیاں پائی گئی ہیں۔ اور اس قسم کا بنیادی ٹارگٹ انسان کا امنیتی نظام کا رد عمل ہے۔ سائنس دانوں کو یہ خدشہ ہے کہ اومیکرون ان لوگوں کومتاثر کرے گا یادوبارہ متاثر کرے گا جو کرونا کی دیگر اقسام کے خلاف مزاحمت پیدا کر چکے تھے۔ اس قبل سابق اقسام جیسا کہ ڈیلٹااور الفا میں بھی بہت ساری تبدیلیاں موجود تھیں جن میں اہم تبدیلیاں وائرس کو تیزی سے پھیلانا اور انفیکشن کو روکنے والی اینٹی باڈیز سے خود کا بچانا تھا۔ اب تک جنوبی افریقہ میں اومیکرون کے 100 سے زائد کیسز گوٹنگ جو سب سے زیادہ گنجان آباد صوبہ ہے میں پائے گئے ہیں۔
جنوبی افریقہ کی ڈبلن یونیورسٹی میں انفیکشیس بیماریوں کے ماہر فزسٹ رچرڈ لیسلز نے 25 نومبر کو ایک پریس بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ نومبر میں گوٹنگ میں نومبر میں اومیکرون کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے خاص طور پر سکولوں اور نوجوان لوگوں میں۔ نومبر کے بعد جنوبی افریقہ میں کرونا کے کیسز کی تعداد دو گنا ہو گئی ہے۔ اومیکرون کی درست خصوصیات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں۔ اس بات پر تحقیق جاری ہے کہ آیا یہ ویکسین مزاحم ہے اور کیا یہ بیماری کی سخت حالت کا ذمہ دار ہے۔
کیا نئی قسم کے لیے ویکسین کو تبدیل کیا جاسکتا ہے؟
کرونا کی نئی اقسام کے خلاف ویکسین کو موثر بنانے کے لیے اس میں تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ جب بیٹا اور ڈیلٹا ویرینٹ سامنے آئے تو سائنس دانوں نے موجودہ ویکسینز کو نئے سرے سے فارمولیٹ کرنے کے لیے کام شروع کر دیا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ابھی تک کوئی ایساثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ حالیہ ویکسینز اومیکرون کے خلاف غیر موثر ہیں کیونکہ سابقہ ویرینٹس کے خلاف یہی ویکسین موثر طور پر کام کر رہی ہیں۔ امریکی فارماسیوٹیکل کمپنی نواویکس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی خوراک کے فیز 2 کے ٹرائلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اومیکرون کے خلاف موثر ہوگی۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ اگلے چند ہفتوں میں یہ ویکسین ٹیسٹنگ اور تیاری تیارہوگی۔ فائزر اور جانسن اینڈ جانسن نے بھی کہا ہے کہ انہوں نے نئے ویرینٹ کے بارےمیں تحقیق شروع کر دی ہے۔
اب تک بین الاقوامی ردعمل
امریکہ حالیہ ملک ہے جس نے جنوبی افریقہ اور سات دیگر افریقی ممالک کےمسافروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ بہت سارے دیگر ممالک جیسا کہ برطانیہ، کینیڈا اور بعض یوروپین یونین کے رکن ممالک نے بھی اس طرح کی سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یوروپین یونین کمیشن کے صدر ارسلا وانڈر لین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پروازوں کو اس وقت تک معطل رکھا جائے جب تک ہمیں اس خطرے کا درست طریقے سے ادراک نہیں ہوتا اور اس خطے کے مسافروں کو سختی سے قرنطینہ کے اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ جنوبی افریقہ کے وزیر صحت جوئی فاہلا نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جنوبی افریقہ شفافیت سے کام لے رہا ہے اور سفری پابندیاں اخلاقیات کے مکمل خلاف ہیں کیونکہ عالمی ادارہ صحت نے ابھی تک اس طرح کی کوئی تجویز نہیں دی۔ مشرق وسطی میں بحرین، عرب امارات ، اردن ،مراکش اور ایران نے بھی اسی طرح کی سفری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اومیکرون کی وجہ سے ایشیا، یورپ اور امریکہ میں سٹاک مارکیٹس مندی کا شکار ہیں اور تیل کی قیمتیں 7 فیصد تک گر گئی ہیں۔
بدھ، 15 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post اومیکرون ویرینٹ کے بارے مین کس قدر پریشان ہوا جاسکتا ہے؟شفقنا صحت appeared first on شفقنا اردو نیوز.
