اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نئے کاروبار کرنے والے افراد کو این او سیز سے آزادی دے دی ہے، جبکہ ایک کروڑ تک قرضہ بغیر ضمانت دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار نے فواد چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ایس ایم ای پالیسی کو منظور کر لیا ہے، حکومت نے ایس ایم ایز کے لئے ایک مربوط پالیسی منظور کی ہے، جس میں تمام ایس ایم ایز کو لو رسک، میڈیم رسک اور ہائی رسک میں تقسیم کردیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایس ایم ایزکے لیے پالیسی 5 سال کی ہوگی جس کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ لو رسک ایس ایم ایز کو حکومت سے این او سی لینے کی ضرورت نہیں ہوگی، میڈیم رسک ایس ایم ایز کو تیس دن میں منظوری مل جائے گی۔ اس کے ساتھ سیلف ڈیکلریشن کی پالیسی کے تحت دس کروڑ روپے تک صرف صفر اعشاریہ دو پانچ فیصد کا انکم ٹیکس لگایا جائے گا۔
وفاقی وزیرصنعت و پیداوار خسرو بختیار نے کہا کہ پالیسی کے تحت کاروباری حضرات کو ایک کروڑ تک بغیر ضمانت قرضہ ملے گا، جبکہ خواتین کو ٹیکس میں 25 فیصد تک چھوٹ دی گئی ہے۔

